ابراج گروپ کس عالمی سازش کا شکار ہوا؟

ابراج گروپ اورعارف نقوی سے متعلق برطانوی مصنف پروفیسر بریواٹی کی کتاب اب پاکستان میں بھی شائع کردی گئی ہے جس میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ سابق امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے بعض یورپی کمپنیوں، امریکی انویسٹرز اور میڈیا کے ساتھ گٹھ جوڑ کرکے ابراج گروپ اور عارف نقوی کو مالی مشکلات سے دوچار کیا تاکہ وہ دیوالیہ ہو جائے۔
پروفیسر بریویٹی کے مطابق ابراج گروپ کی کہانی ایک جیو پولٹیکل کہانی ہے جس میں کئی عالمی طاقتوں نے گھناؤنا کردار ادا کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ابراج کو اصل میں ایک بڑا مالی دھچکہ لگایا گیا تھق۔ بریواٹی نے تحقیق سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ابراج گروپ کے دیوالیہ ہونے کے پیچھے بہت سارے عوامل تھے۔ انھوں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ابراج گروپ دراصل ایک ماڈل کارپوریٹ سٹیزن تھی اور 2016 کے آخر تک ایک کامیاب ترین کمپنی تھی جسے ایک عالمی سازش کے تحت نشانہ بنایا گیا۔
یاد رہے کی برطانیہ میں میٹروپولیٹن پولیس نے ابراج گروپ کے سربراہ عارف نقوی کو سرمایہ کاروں سے دھوکہ دہی کے الزام میں 12 اپریل 2019 کو لندن کے ہیتھرو ائیر پورٹ سے گرفتار کیا تھا اور اب انہیں ایک گھر میں نظر بند رکھا گیا ہے۔ عمران خان کے قریبی دوست سمجھے جانے والے عارف نقوی پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کو بجلی فراہم کرنے والے ادارے ’کے الیکٹرک‘ کے سب سے بڑے شراکت دار رہے ہیں۔ انکے خلاف کارروائی امریکہ کے سیکیورٹی ایکسچینج کمیشن کی شکایت پر کی گئی تھی لیکن ان پر لگائے گئے الزامات ابھی تک ثابت نہیں ہو پائے۔ عارف نقوی اپنے خلاف لگے ان الزامات کی تردید کر چکے ہیں کہ انھوں نے ابراج ایکوٹی سےفنڈز کو ٹرانسفر کر کے کوئی غیر قانونی کام کیا۔ اب امریکی حکومت ایکویٹی فرم بیٹھ جانے پر برطانیہ سے عارف نقوی کی حوالگی لینا چاہتی ہے تاہم ابھی تک برطانیہ ایسا کرنے سے انکاری ہے۔
برطانوی حکومت کے کنسلٹنٹ پروفیسر بریواٹی نے عارف نقوی سے انٹرویو کرنے اور ابراج گروپ سے جڑے تنازعات پر تحقیق کے بعد یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ سابق امریکی ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی انویسٹرز اور میڈیا کے ساتھ مبینہ گٹھ جوڑ کرکے ابراج گروپ اور عارف نقوی کو مالی مشکلات سے دوچار کیا۔ اس مبینہ سازش کا بڑا مقصد اس گروپ کی ملکیتی کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی یعنی کے الیکٹرک کی چین کے ادارے شنگھائی الیکٹرک کو فروخت کی کوشش ناکام بنانا تھا۔ تاہم ابراج گروپ کو دیوالیہ کرکے امریکہ اور یورپ کی کئی بڑی کمپنیوں نے ابراج گروپ کی جگہ لینے کے لئے اسے سازش کے ذریعے میدان سے ہی باہر کردیا۔ برطانیہ میں شائع ہونے کے بعد پروفیسر برائن بریواٹی کی کتاب کو پاکستان میں وین گارڈ پبلشرز نے شائع کیا ہے۔ پروفیسر برائن بریواٹی کی کتاب میں جہاں عارف نقوی اور ابراج گروپ کے عروج و زوال سے متعلق چونکا دینے والے انکشافات سامنے آتے ہیں وہیں یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ ماضی قریب میں ڈونلڈ ٹرمپ کے دور میں امریکہ کے پاکستان کی سیاسی قیادت اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کیسے تعلقات تھے اور عالمی طاقتیں پاکستان اور ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے حوالے سے کیا سوچ رکھتی تھیں۔
کنگسٹن یونیورسٹی کے وزیٹنگ پروفیسر برائن بریواٹی کی The Life and Death Of Abraaj Groop کے عنوان سے لکھی کتاب اس سے پہلے لندن میں بائیٹ بیک پبلشنگ کی طرف سے شائع کی گئی۔ بڑے پیمانے پر دستاویزی حقائق اور اہم افراد بشمول عارف نقوی کے انٹرویوز کی بنیاد پر لکھی گئی اپنی کتاب میں برائن بریواٹی نے چند اہم سوالات کے جوابات ڈھونڈنے کی کوشش ہے۔ کتاب کے مصنف کا کہنا ہے کہ ان کی کتاب ان اہم ترین حقائق سے پردہ اٹھاتی یے جو بتاتے ہیں کہ ابراج گروپ کس طرح ڈوبا۔ واضح رہے کہ مصنف اس وقت سابق عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کے ساتھ داعش کے خلاف عراق کی آزادی کی جنگ سے متعلق کتاب پر بھی کام کر رہے ہیں۔
یاد رہے کہ سنہ 1960 میں کراچی کے ایک متوسط طبقے میں پیدا ہونے والے عارف نقوی نے لندن کے اسکول آف اکنامکس سےگریجوئیشن کی، جس کے بعد کراچی میں امریکن ایکسپریس سے منسلک ہوگئے۔ 1994 میں عارف نقوی نے 50 ہزار امریکی ڈالر کی خطیر رقم سے دبئی میں سرمایہ کاری کا آغاز کیا۔ انھوں نے پہلے دبئی میں کپولا کے نام سے کمپنی بنائی۔ سنہ 2002 میں عارف نقوی نے ابراج گروپ کے نام سے فرم قائم کی جو دیکھتے ہی دیکھتے مشرق وسطیٰ اور شمالی امریکہ میں سب سے بڑا سرمایہ کار گروپ بن گیا جس کی دبئی، استنبول، میکسیکو سٹی، ممبئی، نیروبی اور سنگاپور کے ساتھ ساتھ 25 ممالک میں میں علاقائی دفاتر ہیں.
2017 تک پوری دنیا میں اس گروپ کی 17 ارب ڈالر تک سرمایہ کاری تھی، یہ رقم پاکستانی کے خزانے میں زر مبادلہ کے ذخائر سے زیادہ تھی. لیکن پندرہ برس کے اندر دنیا کی سب بڑی ایکوٹی فرم بن جانے والے ابراج گروپ خو ایک عالمی سازش کے نتیجے میں صرف چار ماہ کے اندر ہی دیوالیہ کر دیا گیا اور یوں 17 ارب ڈالرز ورتھ والا ابراج گروپ 2018 میں ایک ارب ڈالر سے زائد کا مقروض ہو کر ڈوب گیا۔
