اب ملک میں امپائریاسلیکٹرز کی نہیں عوام کی مرضی چلے گی

چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ جمہوریت پر یر طرف سے حملے جاری ہیں. ملک عوام کی مرضی سے چلتے ہیں کسی امپائر یا سلیکٹر کی مرضی سے نہیں. نواز شریف علاج یا کرپشن کی وجہ سے نہیں بلکہ عمران خان کے سیاسی انتقام کی وجہ سے لندن میں ہیں۔
لاہور میں پارٹی رہنماؤں کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے چیئرمین پیپلز پارٹی کا کہنا تھا کہ آج ہر طرف سے جمہوریت پر حملے ہو رہے ہیں، صحافیوں، بلاگرز اور ٹوئٹر پر پوسٹ کرنے والے بچوں پر بھی سینسرشپ لگائی جا رہی ہے، ایسا نیا پاکستان نہیں مانیں گے جہاں صحافیوں کو بولنے اور اظہار کی آزادی نہ ہو۔بلاول بھٹو نے کہا کہ آج ملک میں سیاسی انتقام عروج پر ہے، کوئی پاکستان میں ماننے کو تیار نہیں کہ نواز شریف جیل میں یا لندن میں ہیں تو وہ کرپشن کی وجہ سے ہیں، سب کا مؤقف ہے کہ نواز شریف عمران خان کے سیاسی انتقام کی وجہ سے لندن میں ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ خورشید شاہ آج بھی جیل میں ہیں، نیب نے خورشید شاہ کے مرحوم بھائی کے نام بھی نوٹس بھجوا دیا، سیاسی انتقام میں بھائی، بہن بیٹی تک کو نوٹسز دیئے جا رہے ہیں۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا پہلے سے ہی جانتے تھے کہ نیب کالا قانون ہے. نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، بزنس مینوں نے باجوہ صاحب سے مل کر کہا کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے، عمران خان نے بھی مان لیا کہ نیب اور معیشت ساتھ ساتھ نہیں چل سکتی اور آرڈیننس جاری کیا۔
وزیر ریلوے شیخ رشید سے متعلق سوال پر بلاول بھٹو نے کہا کہ گٹر وزیر ریلوے خود ہمیشہ سلیکٹڈ وزیر ہوتا ہے، گٹر کی باتوں کو گٹر میں پھینک دینا چاہیے۔ چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ موجودہ گٹر وزیر ریلوے کے دور میں سب سے زیادہ ٹرین حادثات ہوئے، جب ٹرین حادثات ہوتے تھے تو عمران خان مطالبہ کرتے تھے وزیر ریلوے مستعفی ہوں، حیران ہوں اتنے بڑے ریلوے حادثات کے باوجود وزیر ریلوے اپنے عہدے پر موجود ہیں۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ شیخ رشید کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ یہ ان کی آخری باری ہے جب وہ سلیکٹ ہوئے، اس کے بعد ان کے ساتھ جو کچھ ہو گا اس سے سب کو مزہ آئے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ‘دوسرے وزیر ہیں پورٹ اینڈ شپنگ کے ہیں جو ماننے ہی کو تیار نہیں کہ پورٹ پر کوئی ایسا جہاز آیا جس سے لوگوں کا جانی نقصان ہوا’۔انہوں نے کہا کہ ‘یہ آخری بار ہے کہ اس ملک کی عوام کسی سلیکٹڈ حکومت کو دیکھ رہی ہے’۔
بلاول بھٹو کا مزید کہنا تھا بینظیر بھٹو کے خلاف کیسز ہمارے مخالف وزیراعظم نے بنائے، ان تمام کیسز میں ہم بری ہوئے، ہم نے عدالتوں میں شہید بینظیر اور آصف زرداری کے خلاف مقدمات جیتے، ہم آج بھی بھٹو شہید کے عدالتی فیصلے کے خلاف انصاف کے منتظر ہیں، امید کرتے ہیں کہ انصاف کے ادارے اس کیس میں ہمیں انصاف دیں گے۔ انہوں نے کہا ہم سمجھتے ہیں کہ نیب کالا قانون ہے اسے بند کرنا چاہیے، ملک میں ایک ایسا ادارہ ہونا چاہیے جہاں ہر طبقے کے لوگ پیش ہو سکیں۔بلاول بھٹو نے کہا کہ جو عوام کے حقوق چھیننا چاہتے ہیں وہ غیرجمہوری لوگ ہیں، ایک طرف جمہوری اسپیس چھینا جا رہا ہے تو دوسری طرف معاشی حقوق چھینے جا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ معیشت کو عوام کی مرضی سے چلانا پڑے گی کیونکہ ملک عوام کی مرضی سے چلتے ہیں کسی امپائر کی مرضی سے نہیں۔ ان کا کہنا تھا پہلے کہہ چکا تھا کہ پی ٹی آئی کا بجٹ غریب عوام کا معاشی قتل ہو گا، مہنگائی ہمارے دور میں بھی تھی لیکن عوام کو معاشی تحفظ فراہم کیا گیا تھا، آج ملازمین کو تنخواہ ملتی ہے نہ پینشن، نوکریاں اور گھر دینے کے بجائے لوگوں کو بیروزگار کیا جا رہا ہے، گھر گرائے جا رہے ہیں۔
پاکسان پیپلز پارٹی کے چیئرمین نے کہا کہ معاشی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں کھڑا ہونا پڑے گا، صحافیوں کے تعاون سے ہم ایک لمبی جدوجہد کرنا چاہتے ہیں، اس جدوجہد میں ہار نہیں مانیں گے، دو قدم آگے جائیں گے تو ایک قدم پیچھے آئیں گے۔ حکومت پاکستان کے آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے حوالے سے بات کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ حکومت کے پاس آئی ایم ایف کے سامنے رکھنے کے لیے کوئی ٹھوس منصوبہ نہیں تھا، حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ غلط طریقے سے مذاکرات کیے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے غلط طریقے سے آئی ایم ایف کی شرائط تسلیم کیں، نیب اور آئی ایم ایف ملکی مسائل کا حل نہیں، حکومت کے پاس وقت ہے آئی ایم ایف کے پاس جائے اور دوبارہ مذاکرات کرے، حکومت ایسا نہیں کر سکتی تو گھر چلی جائے ہم اقتدار میں آکر مسائل حل کر لیں گے۔
بلاول بھٹو نے کہا ہے کہ میڈیا مالکان شاید ساتھ نہ بھی دیں لیکن ورکنگ جرنلسٹ آج بھی جمہوریت کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں وہ آخری دم تک لڑیں گے۔ پاکستان میں اگر آج جمہوریت موجود ہے تو اس میں صحافیوں کا خون پسینہ شامل ہے‘۔
انھوں نے کہا کہ آج آزادی صحافت اور جمہوریت پر ہر طرف سے حملے ہورہے ہیں، ورکنگ جرنلسٹ آج بھی اس نئے پاکستان کو نہیں تسلیم کریں گے جہاں قلم کی آزادی نہ ہو‘۔ انہوں نے کہا کہ جب جنرل ضیاالحق نے ملک پر بدترین آمریت مسلط کی تھی تو بیگم نصرت بھٹو اور شہید بینظیر بھٹو کے ساتھ شانہ بشانہ قلم کے مزدور، صحافی اور پریس کلب کے اراکین کھڑے تھے اس لیے آج پیپلز پارٹی کی تیسری نسل آپ کے درمیان موجود ہے‘۔ بلاول بھٹو نے کہا کہ جس تیزی کے ساتھ ملک میں سیسنر شپ میں اضافہ ہوا اس کے تحت ہونے والی گھٹن صرف سیاسی کارکنان اور اپوزیشن کے لیے نہیں بلکہ صحافیوں، کیمرہ مین، پروڈیوسرز، میڈیا مالکان کے لیے بھی ہے بلکہ بلاگرز اور ٹوئٹر، فیس بک پر پوسٹ کرنے والے بچوں پر بھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جو غیر جمہموری لوگ ہیں اور ہمارے حقوق چھیننا چاہتے ہیں ان کا تعاون 100 فیصد ہے وہ ہر مسئلے پر ایک ساتھ کھڑے ہیں لیکن ہم شاید کسی وجہ سے وہ اتحاد قائم نہیں کرسکے۔ انہوں نے کہا کہ اس لیے ہم پریس کلب کے اراکین، سول سوسائٹی کے نمائندوں کے ساتھ مل کر ایک پلیٹ فارم سے جمہوریت اور جمہوری آزادی کے ایک آواز بلند کرنا چاہتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button