اب ٹیم کی کپتانی اسٹارڈم نہیں، پرفارمنس پر ملے گی

سرفراز احمد کی جگہ نوجوان بابراعظم کی بطور ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی کپتان تقرری کے فیصلے سے ایک بات طے ہو گئی ہے کہ اب پاکستانی کرکٹ ٹیم کی قیادت وہی کھلاڑی کرے گا جو بہتر پرفارمنس دے گا۔ اب بہتر تعلقات اور سیاست بازی نہیں چلے گی۔ بابر اعظم کی تقرری کے فیصلے کو پاکستان کے کرکٹ کلچر میں ایک مثبت رجحان کا نقطۂ آغاز قرار دیا جا رہا یے کیونکہ ماضی میں ٹیم کی کپتانی اسٹارڈم اور اچھے تعلقات رکھنے والے کھلاڑی کو دی جاتی تھی۔
سرفراز احمد کے فراغت کے بعد پاکستان کی ون ڈے اور ٹی ٹوئنٹی ٹیم کے نئے کپتان بابر اعظم اپنے دوسرے کرکٹر ساتھیوں سے اس طرح مختلف ہیں کہ ان کو لائم لائٹ میں رہنے کا بالکل بھی شوق نہیں اور وہ میڈیا سے بھی دور بھاگتے ہیں۔
انتہائی سادہ مزاج بابر اعظم باقی کرکٹرز کے برعکس ٹی وی اشتہارات میں کام کرنے سے بھی گریزاں نظر آتے ہیں۔
پاکستان میں کرکٹ ایک گلیمرس کھیل کے طور پر بھی جانا جاتا ہے، کرکٹ میں شہرت، دولت اور عزت سب ہی کچھ ہے۔ فٹبال اور ہاکی کے برعکس کرکٹ ایک ایسا کھیل ہے جس میں کپتان کا کردار نہایت کلیدی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ ڈریسنگ روم سے جتنی مرضی ہدایات بھیج لی جائیں، بہت سے چھوٹے چھوٹے فیصلے ایسے ہوتے ہیں جو صرف کپتان کو ہی کرنا پڑتے ہیں۔ پاکستان میں کرکٹ ٹیم کی کپتانی ہمیشہ ایک دلچسپ موضوع رہا ہے کیوں کہ اس کے اثرات بہت دور رس ہوتے ہیں۔ کرکٹ بورڈ سے کہیں زیادہ کردار میڈیا کا ہوتا ہے جو دیگر شعبوں کی طرح یہاں بھی اپنی خواہش کو خبر بنانے کی بھرپور کوشش کر چھوڑتا ہے۔ پاکستان کرکٹ میں، تقریباً ہر دور میں، کپتانوں کے تقرر اور برطرفیوں میں میڈیا نے اپنی اہمیت ثابت کی ہے۔
جب سے پاکستان کرکٹ بورڈ کی سربراہی احسان مانی نے سنبھالی ہے، معاملات کچھ بدلتے نظر آ رہے ہیں۔ سی ای او وسیم خان اور ہیڈ کوچ مصباح الحق کا تقرر دونوں ایسے معاملات ہیں کہ جن کو میڈیا کے ایک بڑے حصے کی تائید حاصل نہیں رہی۔ سرفراز احمد کی برطرفی بھی ایسا ہی معاملہ تھا جو میڈیا کے اکثر دوستوں کےلیے بہت ہی کڑوا گھونٹ ثابت ہوا۔ اب سرفراز احم۔کی جگہ بابر اعظم کا تقرر بھی ایک ایسی ہی خبر ہے۔
پچھلے ادوار کی کرکٹ میں کپتان کے تقرر میں اسٹارڈم کو بنیادی اہمیت دی جاتی تھی نہ کہ اسکی قائدانہ صلاحیتوں کو دیکھا جاتا تھا۔ پاکستان میں تو اسٹار پاور قیادت کےلیے بنیادی شرط سمجھی جاتی رہی ہے۔
مگر اب ماڈرن کرکٹ میں یہ رجحان یکسر بدل چکا ہے۔ اب سیدھا سا فارمولہ ہے کہ جو کھلاڑی جتنا اچھا پرفارم کر رہا ہے، وہ قیادت کےلیے اتنا ہی موزوں ہے۔ جو روٹ ہوں، اسٹیو اسمتھ ہوں، ویرات کوہلی ہوں، کین ولیم سن ہوں یا دیگر یہ سبھی اپنے اعداد و شمار کی بنیاد پہ ہی قیادت کےلیے موزوں سمجھے گئے۔
پاکستان کےلیے خوش آئند بات یہ ہے کہ بابر اعظم کے تقرر کے ساتھ ایک نئے رجحان کا آغاز ہوا ہے جہاں میڈیا کہ پذیرائی یا کمرشل پاور کی بجائے خالصتاً کھلاڑی کی کارکردگی اور اعداد و شمار کو بنیاد بنایا جا رہا ہے۔ بابر اعظم کی قائدانہ صلاحیتیں کیسی ہیں، اس بارے میں طے کرنے کےلیے تو ابھی وقت درکار ہے مگر یہ واضح ہے کہ اس وقت ان کی زندگی کا محور و مرکز صرف کرکٹ ہے نہ کہ میڈیا کے حلقوں میں مقبولیت کا حصول اور نہ ہی رنگ برنگے اشتہارات میں زلفیں لہرانے کی خواہش۔
بابر اعظم کے تقرر سے پی سی بی نے ایک نئی روایت ڈالی ہے۔ اس فیصلے کی توثیق تو وقت ہی کرے گا مگر فی الوقت اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ یہ فیصلہ پاکستان کے کرکٹ کلچر میں ایک مثبت رجحان کا نقطۂ آغاز ہے۔
