اب پاک فوج مارشل لاء لگانے کا کیوں نہیں سوچتی؟

تین دہائی پہلے تک مارشل لا لگانے کے لیے پاکستانی فوج کے لیے محض یہ بہانہ ہی کافی ہوتا تھا کہ سیاستدان بہت کرپٹ ہیں اور انکی آپس کی سیاسی لڑائی سے ملک کی بنیادیں ہل رہی ہیں، یا پھر یہ کہہ دیا جاتا تھا کہ عوام کا حکومت پر اعتماد متزلزل ہوتا چلا جا رہا ہے اور عام آدمی مایوس ہو کر مسلح افواج کی طرف دیکھ رہا ہے، چنانچہ بہ امرِ مجبوری فوجی سربراہ کو معاملات براہِ راست اپنے ہاتھ میں لینا پڑ رہے ہیں۔ جنرل ایوب خان سے جنرل یحیی اور پھر جنرل ضیا سے جنرل مشرف تک یہی سکرپٹ چار بار نام بدل بدل کر استعمال ہوا۔ آج بھی کم وبیش وہ تمام وجوہات بدرجہ اتم موجود ہیں جنہیں بہانہ بنا کر طالع آزما فوجی جرنیلوں نے منتخب حکومتوں کو برخاست کیا اور جمہوریت کو پٹری سے اتار کر مارشل لا لگا دیا۔ مگر کیا وجہ ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کی سخت ترین جنگ کے باوجود آج نہ تو جرنیل کو مارشل لا لگانے کا خیال آتا ہے اور نہ ہی حکومت وقت کو ایسا کوئی خطرہ یے۔ سیاسی تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اس کی بنیادی وجہ وہ ہائبرڈ سسٹم ہے جس کے تحت موجودہ نظام چل رہا ہے، یعنی کہنے کو تو اقتدار عمران خان کے پاس ہے لیکن حکومت اصل میں فوج کی ہے۔ جب ملک کی دو بڑی سیاسی جماعتوں پیپلز پارٹی اور نواز لیگ نے مل کر آٹھویں آئینی ترمیم کا خاتمہ کرتے ہوئے صدر کا اسمبلیاں توڑنے کا اختیار بھی ختم کر دیا تو فوجی اسٹیبلشمنٹ نے ایک نیا ہائبرڈ سسٹم متعارف کرانے کا فیصلہ کیا جس کے تحت وہ اپنا سلیکٹڈ وزیراعظم اقتدار میں لے آئے۔ یوں دیکھنے میں تو اقتدار عمران خان کے پاس ہے لیکن فیصلہ سازی پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ میں ہیں۔ یوں سانپ بھی مر گیا اور لاٹھی بھی نہیں ٹوٹی، یعنی فوج کو مارشل لا لگائے بغیر ہی اقتدار کے جھولے مل رہے ہیں اور وہ دل و جان سے حکومت وقت کا دفاع کر رہی ہے۔
دوسری جانب کچھ تجزیہ کاروں کا یہ بھی خیال ہے کہ جنرل پرویز مشرف کو دو دفعہ آئیں معطل کرنے کے جرم میں خصوصی عدالت کے ہاتھوں سزائے موت سنائے جانے کے بعد اب کوئی فوجی سربراہ حکومت کا تختہ الٹ کر نافذ کرنے کا نہیں سوچتا۔ تاہم اس تھیسس میں وزن اس لیے نہیں کہ مشرف کو آئین شکنی کے الزام میں سزائے موت سنائے جانے کے باوجود اسے محفوظ راستہ دیک ملک سے نکالنے اور پھانسی کے پھندے سے بچانے والی بھی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ ہی ہے۔
اس حوالے سے سینیئر صحافی اور تجزیہ کار وسعت اللہ خان کا کہنا ہے کہ پاکستان میں پہلے اور دوسرے مارشل لا کے نفاذ کے درمیان گیارہ برس کا وقفہ تھا، دوسرے اور تیسرے مارشل کے بیچ میں آٹھ برس کا اور تیسرے اور چوتھے مارشل لا کی آمد کے مابین بائیس برس کا وقفہ تھا۔ لیکن مشرف کے چوتھے مارشل لا اور آج کے درمیان بائیس برس گزر چکے ہیں۔ ان بائیس برسوں میں سے اگر آخری فوجی حکمران کے عسکریتی جمہوریت والے آٹھ برس منہا کر بھی دیے جائیں تب بھی 2008 سے آج تک کے تیرہ برسوں میں مسلسل تیسری سیاسی حکومت کو سویلین روایت کے مطابق اقتدار منتقل ہوا ہے۔ لہذا ایسے مسلسل تیرہ برس پاکستان کو 2008 سے پہلے کبھی نصیب نہیں ہوئے۔
اگرچہ ان تیرہ برسوں کو جمہوری اعتبار سے آئیڈیل نہیں کہا جا سکتا لیکن اس سے قبل تو یہ غیر آئیڈیل حالات بھی نہیں تھے۔ تجزیہ کار کہتے ہیں کہ اگر سیاسی عمل میں تسلسل یونہی برقرار رہتا ہے تو خامیاں بھی رفتہ رفتہ کم ہونے کی امید کی جا سکتی ہے۔ پہلے تو اس امید کے بارے میں سوچنا بھی عیاشی سی لگتی تھی۔ یقیناً اس بتدریج ذہنی تبدیلی کا کریڈٹ دیگر وجوہات کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا کی بڑھتی طاقت اور عام آدمی تک اس میڈیم کی پہنچ کو بھی دیا جا سکتا ہے۔ یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ قبل از سوشل میڈیا ادوار میں زیادہ لوگوں کو ذیادہ دیر تک بیوقوف بنانا ممکن تھا لیکن آج ایسا قدرے مشکل ہے۔ البتہ حقائق کی تیزرفتار دنیا میں فیک نیوز کا گند ایک بڑا چیلنج بن کے ابھرا ہے۔
وسعت اللہ خان کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا نے یہ دن تو دکھا دیا کہ اب برما جیسے آمریت گزیدہ ملک میں بھی زیادہ لوگوں کو زیادہ عرصے تک بے وقوف بنا کر رکھنا تقریباً ناممکن ہو گیا ہے۔ وہاں ان دنوں جو کچھ بھی ہو رہا ہے اس سے باقی دنیا کے طالع آزماؤں کو یہ واضح پیغام جاتا ہے کہ دنیا بہت بدل گئی ہے۔ اب اسے آسانی سے دیوالیہ جبری طریقوں سے اندھیرے کو روشنی کے بھاؤ فروخت کرنا ہر نئے دن کے ساتھ مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے فسطائیت پوشاک بدل بدل کر صدیوں راج کر جاتی تھی۔ لیخن اب چہرے بدل بدل کر آنے کے باوجود بھی فسطائیت کو چند برس سکون سے گزارنا کہیں محال ہو رہا ہے۔ عام آدمی بھلے آج بھی خود کو بے بس سمجھتا ہو مگر کل کے برعکس آج بخوبی علم ہے کہ اس کی اس بے بسی کے ذمہ دار کون لوگ اور کیا وجوہات ہیں۔ دشمن کا فی الوقت وہ بھلے کچھ نہ بگاڑ پائے مگر یہ ضرور جانتا ہے کہ دشمن کون ہے اور سازشی ڈور کا سرا کہاں سے شروع ہو کر کہاں ختم ہو رہا ہے۔ اس حوالے سے سوشل میڈیا کا کردار سب سے اہم ہے جس نے مین سٹریم پاکستانی میڈیا کے کھسی کیے جانے کے باوجود عوام کو سچ بتاتے رہنے کا فریضہ بخوبی سرانجام دیا ہے۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ آج کے دور میں ہونے والی بری بڑی ارتقائی تبدیلی کی چھتری تلے کئی چھوٹے چھوٹے بدلاؤ بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ مثلاً لگ بھگ تین عشرے پہلے تک پاکستان اور بھارت جیسے ممالک میں امن و امان کی ابتری کو کنٹرول کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے گولی چلانا اور چار پانچ لوگوں کا مر جانا طے تھا۔ مگر وقت کے ساتھ ساتھ کراؤڈ مینجمنٹ کے ڈھنگ بھی بدلتے گئے۔ اب شاید ہی کوئی جلسہ، جلوس یا دھرنا ہو جسے تتر بتر کرنے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو انتہائی طاقت کا استعمال کرنا پڑے۔ پانی کی توپ، آنسو گیس، سڑکوں کی ناکہ بندی، بیک ڈور چینلز کا استعمال، میڈیا کنٹرول، موبائل فون سروس کی معطلی جیسے طریقوں سے امن و امان کی بحالی نوے فیصد تک ممکن ہے۔ پولیس اب عوام کے ہاتھوں جس طرح پٹنے یا عارضی پسپائی پر مجبور ہو جاتی ہے، موبائل کیمرہ عام ہونے سے پہلے معاملہ اس کے برعکس تھا. چند برس پہلے تک کسی بھی خالی نشست پر ضمنی انتخاب میں سرکاری امیدوار کی جیت یقینی سمجھی جاتی تھی بھلے وہ نشست حزبِ اختلاف نے ہی کیوں خالی نہ کی ہو۔ غنڈوں کے ہاتھوں مخالفین کی ریلیاں تتر بتر کرنا، ہراساں کرنے کے لیے مخالف سیاسی کارکنوں کے خلاف پرچے کاٹنا، جلسہ گاہ میں پانی یا سانپ چھوڑ دینا، پولنگ سٹیشنوں پر ہاتھاپائی، ڈنڈے بازی، فائرنگ وغیرہ ضمنی انتخابی کلچر کا لازمہ سمجھ کر برداشت کر لیا جاتا تھا۔
ایسے حالات میں الیکشن کمیشن کسی امیدوار کا شکایتی نوٹس ضرور لے لیتا تھا۔ مگر فیصلہ تب تک لٹکا رہتا جب تک خود اسمبلی کی مدت لبِ دم آ جاتی۔ لیکن سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ میں ضمنی انتخاب کی قسط اول اور دوم میں جو کچھ ہوا اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاسی، سماجی، انتخابی و انتظامی حالات گزرے برسوں کی نسبت کس قدر بدل گئے ہیں۔ پہلے جو ضمنی انتخابی مشق اہلِ اقتدار کے لیے لذیذ کھیر ہوا کرتی تھی اب وہی ٹیڑھی کھیر ہو گئی ہے۔
وسعت اللہ خان کہتے ہیں کہ حالات اگرچہ اب بھی مثالی نہیں ہیں اور بہتری کی گنجائش ہمیشہ رہے گی، مگر کل سے آج تک جو سفر طے ہوا، وہ بھی کسی سنگ میل سے کم نہیں ہے۔
اور شاید اسی اسی وجہ سے آج پاکستانی فوج ہر طرح کا موقع ملنے کے باوجود ننگا مارشل لا لگانے کی بجائے ہائبرڈ سسٹم کے کے ذریعے سے پیچھے بیٹھ کر حکومت کی ڈوریاں ہلا رہی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button