اتحادی ساتھ چھوڑ گئے تو کپتان کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا؟

وزیر اعظم عمران خان کی اتحادی جماعتوں کی جانب سے ممکنہ طور پر ان کا ساتھ چھوڑنے کی صورت میں یہ سوال کیا جا رہا ہے کہ اگر ایسا ہو گیا تو کیا پھر بھی ان کے خلاف دائر کردہ تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہو گی یا پھر انہیں اکثریت کھونے کی بنیاد پر اعتماد کا ووٹ لینا پڑے گا۔
یاد رہے کہ اگر اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ ہوتی ہے تو یہ حزب اختلاف کی ذمہ داری ہے کہ 172 اراکین کی اکثریت ثابت کرے، لیکن اگر وزیر اعظم کو اعتماد کا ووٹ لینا پڑ گیا تو پھر قومی اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کی ذمہ داری خود ان پر عائد ہو جائے گی۔
ابھی تک وزیراعظم پر امید ہیں کہ ایم کیو ایم کے سات، بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ، مسلم لیگ ق کے پانچ، اور گرینڈ ڈیموکریٹ الائنس کے تین اراکین قومی اسمبلی حکومتی اتحاد کا حصہ ہی رہیں گے۔ لیکن اگر اپوزیشن کے دعوؤں کے مطابق قاف لیگ، ایم کیو ایم اور باپ نے عمران کا ساتھ چھوڑ دیا تو حکومتی ممبران کی تعداد 179 سے کم ہوکر 162 رہ جائے گی جس کا مطلب یہ ہو گا کہ وزیر اعظم اپنی اکثریت کھو بیٹھے ہیں۔ یوں اپوزیشن اتحاد سے تعلق رکھنے والے ممبران قومی اسمبلی کی تعداد 162 سے بڑھ کر 179 ہوجائے گی اور وہ حکومت بنانے کی پوزیشن میں آجائے گا۔
آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسی صورت میں عمران خان کو آئین کے مطابق اعتماد کا ووٹ لینے کے لیے کہا جا سکتا ہے لہذا پھر تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کی بجائے عمران خان قومی اسمبلی سے اعتماد کا ووٹ لیں گے جو ان کے لیے ناممکن ہوگا۔ لیکن آئینی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کی پارلیمانی تاریخ میں ایسی صورتحال پہلے کبھی پیدا نہیں ہوئی۔ لیکن اگر کپتان کے اتحادیوں نے ان کا ساتھ چھوڑ دیا تو پھر اپوزیشن ممکنہ طور پر عدم اعتماد کی تحریک واپس لے گی اور وزیراعظم پر لازم ہو جائے گا کہ وہ اعتماد کا ووٹ حاصل کریں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر کپتان کی تین اتحادی جماعتوں نے واقعی ان کا ساتھ چھوڑ دیا تو اسکا مطلب تو یہ ہو گا کہ حکومت گِر گئی ہے، پھر تو بس یہ وقت کی بات ہو گی کہ اسے اسمبلی میں ثابت بھی کر دیا جائے لہذا عمران کے لیے بڑا بحران آنے والا ہے اور شاید اسی لیے اپوزیشن جماعتیں بھی حکومتی جماعت کے اراکین توڑنے کی بجائے حکومتی اتحادیوں کو ساتھ ملانے کے لیے کوشاں ہیں۔
تاہم اپوزیشن کے لئے پریشانی کی بات یہ ہو سکتی ہے کہ اگر وہ وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک واپس لیں تو ان کا قومی اسمبلی توڑنے کا آئینی اختیار بحال ہو جاتا ہے جس کے 90 دن کے اندر الیکشن کمیشن کو نئے انتخابات کروانا ہوں گے۔ لیکن چونکہ دونوں بڑی اپوزیشن جماعتیں بظاہر نئے انتخابات پر آمادہ لگتی ہیں اس لئے اس صورت میں بھی وہ عمران خان سے جان چھڑوانے میں کامیاب ہو جائیں گی۔
خیال رہے کہ پی ٹی آئی کو اتحادیوں سمیت 179 اراکین کی حمایت حاصل ہے۔ ان میں خود تحریک انصاف کے 155 اراکین، ایم کیو ایم کے سات، بلوچستان عوامی پارٹی کے پانچ، مسلم لیگ ق کے پانچ اراکین، اور گرینڈ ڈیموکریٹک الائنس کے تین رکن شامل ہیں۔ دوسری جانب حزب اختلاف کے کُل اراکین کی تعداد 162 ہے۔ ان میں اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کے 84، پاکستان پیپلز پارٹی کے 57 اراکین، متحدہ مجلس عمل کے 15، بی این پی کے چار جبکہ عوامی نیشنل پارٹی کا ایک رکن شامل ہے۔ اس کے علاوہ دو آزاد اراکین بھی اس اتحاد کا حصہ ہیں۔ اگر پارٹی پوزیشن دیکھی جائے تو حزب مخالف کو 10 مزید اراکین کی حمایت درکار ہے۔ لیکن اگر 17 سیٹوں والی تین حکومتی اتحادی جماعتیں ایم کیو ایم، قاف لیگ اور باپ پارٹی اپوزیشن کے ساتھ مل جائیں تو کپتان کا کھیل ختم ہو جائے گا۔
