احتجاجی تحریک سے عمران کو ریلیف دلوانا ممکن کیوں نہیں رہا؟

اڈیالہ جیل سے نکلنے کی خاطر عمران خان نے تحریک انصاف کے پلیٹ فارم سے ایک بار پھر بھرپور حکومت مخالف احتجاجی تحریک چلانے کا اعلان تو کر دیا ہے لیکن اسکی کامیابی کا کوئی امکان نظر نہیں آتا۔ بنیادی وجہ یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی مرکزی قیادت بشمول بشری بی بی کے، 26 نومبر کو اسلام آباد دھرنے سے جوتیاں اٹھا کر فرار ہونے کے بعد سے پارٹی کی سٹریٹ پاور ختم ہو چکی ہے اور اب اس کے کارکنان سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
تاہم عمران خان کے بقول اس مرتبہ ان کی احتجاجی تحریک کامیاب ہوگی چونکہ وہ خود جیل سے اس کی قیادت کریں گے۔ لیکن خان صاحب شاید بھول گئے کہ وہ پچھلے دو برس سے جیل میں ہی بیٹھ کر حکومت مخالف تحریکوں کی قیادت کر رہے ہیں جس کا نتیجہ صفر یے۔ لیکن عمران خان نے پارٹی قیادت کو ہدایت کی ہے کہ اس مرتبہ پارٹی کی احتجاجی تحریک فیصلہ کن ہونی چاہیے، چاہے کارکنان کو گوریلا جنگ ہی کیوں نہ لڑنی پڑے۔ یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی عمران کی ہدایت پر ان کی پارٹی قیادت اور کارکنان نے 9 مئی 2023 کو ریاست کے خلاف ایک گوریلا جنگ لڑنے کی کوشش میں فوجی تنصیبات پر حملے کر دیے تھے، ان حملوں کے بعد ملک بھر میں تحریک انصاف کے خلاف کریک ڈاؤن شروع ہو گیا اور آج اس کا نتیجہ سب کے سامنے ہے۔
ایسے میں بظاہر عمران خان کی احتجاجی تحریک کی کال ایک مرتبہ پھر شدید ناکامی کا شکار ہونے جا رہی ہے۔ اسی لیے پارٹی کی مرکزی قیادت بشمول بیرسٹر گوہر خان اور عمر ایوب خان چاہتی ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے کوئی راستہ نکالا جائے۔ لیکن بظاہر اس وقت نہ تو حکومت اور نہ ہی اسٹیبلشمنٹ بار بار اپنا موقف بدلنے والے عمران خان کے ساتھ مذاکرات کے موڈ میں نظر آتی ہے۔ شاید اسی لیے پانی پی ٹی آئی نے تحریک چلانے کی دھمکی دے کر فیصلہ سازوں پر دباؤ ڈالنے کا منصوبہ بنایا یے تاکہ ان کے ساتھ مذاکرات کا کوئی امکان پیدا ہو سکے۔ عمران خان کے قریبی ذرائع کے مطابق ان کا مؤقف ہے کہ فیصلہ ساز تب تک ان سے مذاکرات نہیں کریں گے جب تک اُنہیں کسی قسم کا دباؤ محسوس نہیں ہو گا۔
لہذا بیرسٹر گوہر خان کے مطابق عمران خان کے پاس احتجاج کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں بچا۔
احتجاج کی کامیابی یا ناکامی کے حوالے سے بیرسٹر گوہر خان کا کہنا ہے کہ اس مرتبہ پارٹی ایک مختلف حکمت عملی اپنائے گی اور اسلام آباد مارچ کے بجائے احتجاج یونین کونسل کی سطح پر ہو گا، جہاں نچلی سطح کی قیادت چھوٹے شہروں، قصبوں اور یونین کونسلز کو بند کرنے میں کردار ادا کرے گی۔ اس طریقے سے حکومت نہ تو ان پر فائرنگ کر سکتی ہے اور نہ ہی ہزاروں مقامات پر کنٹینر لگا سکتی ہے۔ جیل سے احتجاج کی قیادت کرنے کے عمران خان کے اعلان کے حوالے سے گوہر خان کا کہنا تھا کہ عمران ایک حکمتِ عملی بنائیں گے جسے وہ پارٹی رہنماؤں اور کارکنوں تک پہنچائیں گے اور وہ اسی حکمتِ عملی پر عمل کریں گے۔
جہاں ایک جانب پارٹی کی قیادت یہ سمجھتی ہے کہ "گوریلا جنگ” طرز کا احتجاج ہی خان کے لیے ریلیف کا واحد راستہ ہے، وہیں مبصرین کا ماننا ہے کہ یہ طریقہ کار بھی مؤثر ثابت نہیں ہو گا کیوں کہ ماضی میں بھی اس سے پارٹی کو کوئی فائدہ نہیں ہوا۔معروف اینکر اور تجزیہ کار نسیم زہرہ نے ایک اور ملک گیر احتجاج کے اعلان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ اور پی ٹی آئی آمنے سامنے آ چکے ہیں اور پی ٹی آئی کو احتجاج کا حق حاصل ہے، لیکن یہ بھی ذہن میں رکھنا چاہیے کہ حکومت سیکشن 144 نافذ کرکے احتجاج کو دبانے کی کوشش کرے گی، جس سے عوام کو سڑکوں پر لانا مشکل ہو جائے گا۔ نسیم زہرہ نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی یہ سمجھتی ہے کہ وہ موجودہ حالات میں احتجاج سے کچھ حاصل کر سکتی ہے تو یہ ایک بہت بڑی غلطی ہو گی۔
ایسے وقت میں جب کچھ حلقے یہ سمجھتے ہیں کہ عمران کے لیے مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں اور احتجاج ایک غلط حکمتِ عملی ہے، بعض تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ احتجاج کامیاب نہ بھی ہو، لیکن اس سے پارٹی کی عوامی حمایت کم نہیں ہو گی بلکہ یہ عمل پارٹی کارکنوں کو دوبارہ متحرک کرنے کا ایک مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔تجزیہ کار زاہد حسین کا کہنا ہے کہ انہیں نہیں لگتا کہ یہ احتجاج نتائج کے لحاظ سے کامیاب ہو گا، لیکن ممکن ہے کہ پارٹی نے اپنے کارکنوں اور صفوں کو منظم اور فعال کرنے کے لیے یہ راستہ چنا ہو۔ انکے مطابق پی ٹی آئی اب بھی ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت ہے اور اس حقیقت کو کوئی جھٹلا نہیں سکتا۔ تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ پی ٹی آئی اس وقت حکومت یا اسٹیبلشمنٹ پر احتجاج کے ذریعے دباؤ نہیں ڈال سکتی اور نہ ہی بذریعہ احتجاج عمران خان کے لیے کوئی ریلیف حاصل کر سکتی ہے۔
