پہاڑوں سے لٹکا شیشے سے بنا خطرناک ہوٹل کھل گیا

دنیا میں بہت سارے لوگ ایسی پر سکون جگہ پر وقت گزارنا چاہتے ہیں جہاں شوروغل نہ ہو اور قدرتی مناظر کا بھر پور نظارہ بھی کیا جا سکے۔ ایسے ہی سیاحوں کیلئے شہروں سے دور اب ایسے ہوٹل بنائے جا رہے ہیں جہاں پر قیام کرنا ایڈونچر کے دلدادہ افراد کیلئے بھی ایک چیلنج سمجھا جاتا ہے۔

اسی با ت کو ذہن میں رکھ کر اب جنوبی امریکی ریاست کے پیرو میں ایک پہاڑ کی خطرناک چوٹی پر اب کیپسول نما ہوٹل تعمیر کیا گیا ہے جس میں بیٹھ کر اس خوبصورت وادی کا نظارہ کیا جاسکتا ہے۔ پیرو کی پہاڑیوں پر بیا کے گھونسلے کی طرح ٹرانسپیرنٹ کیپسول کی شکل کے ان لٹکے ہوئے شیشے کے کمروں میں رہنا کسی ایڈونچر سے کم قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سیاحوں کا دل لبھانے کے لئے اب دنیا میں اس جیسے عجیب اور انوکھے ہوٹلوں کی ڈیمانڈ بڑھتی جا رہی ہے۔

پیرو کے اس ہوٹل کے کمرے شہد کے چھتے کی طرح لٹکے ہوئے ہیں جہاں بیٹھ کر کمزور دل افراد کچھ خوف محسوس کرسکتے ہیں۔ یہ کھوکھا نما شیشے کا ہوٹل کم ازکم ایک ہزار 312 میٹر بلندی پر قائم کیا گیا یے جہاں بیٹھ کر سیاح چاروں طرف بلکہ نیچے کا نظارہ بھی کرسکتےہیں۔ اسی لیے مہم جوئی کے شائقین یہاں آکربہت خوش ہوتے ہیں اور خوف و حیرت کے ساتھ اس خوبصورت وادی کا نظارہ کرتے ہیں۔

اس ہوٹل کے کیپسول نما کمروں میں ہر ایک 24 فٹ لمبا اور 8 فٹ بلند ہے جسے خلا میں استعمال ہونے والے المونیم اور موسمیاتی اثرات سے بچاؤ والے پولی کاربونیٹ سے تیارکیا گیا ہے۔ ہر کیپسول میں ایک باتھ روم، چاربیڈ اورکھانے کا کمرہ موجود ہے۔ اس کے علاوہ اعلی معیارکے بستر، چادر اور دھوپ سے بچاؤ کے لئے پردے بھی لٹکائے گئے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک خطرناک مقام ہے لیکن کمپنی کا دعویٰ ہے کہ ان کا ہر گھر بالکل محفوظ ہے۔

لیکن یہاں پہنچنے کے لیے بھی دل گردے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس خطرناک ہوٹل تک پہنچنے کا راستہ صرف وہی طے کرسکتے ہیں جنہیں پہاڑوں پرچڑھنے کا تجربہ ہوتا ہے۔ سیاحتی کمپنی نے خاص انداز سے یہاں تک پہنچنے کا راستہ بنایا ہے جس میں سیڑھیاں، پل اور کیبل سے سفرطے کیا جاتا ہے۔ ہوٹل انتظامیہ کے مطابق ہر شخص تھوڑی ہمت کرکے یہاں پہنچ سکتا ہے کیونکہ انہیں ہرطرح کی رہنمائی فراہم کی جاتی ہے۔

پیرو کی پہاڑیوں پر شفاف شیشے سے تیار کردہ سکائی ایڈونچر سویٹس کے نام سے قائم کیپسول نما کمرے وادی پیرو میں واقع ایک چٹان کے اطراف میں بلندی پر لٹکائے گئے ہیں۔ چٹان کے اطراف میں لٹکے ہوئی کیپسول نما ان رہائش گاہوں تک پہنچنے کیلئے ایک پگڈنڈی نما راستے کے ذریعہ 4 سو میٹر کی بلندی پر جانے کیلئے پہلے ہائیکنگ کر کے ایک مقام تک رسائی حاصل کی جاتی ہے بعد ازاں اپنے لاج تک پہنچنے کیلئے مزید 400 فٹ اوپر چڑھنا پڑتا ہے۔ اس کیپسول میں رات گزار کر آپ اردگرد کی وادی اور تاروں بھرے آسمان کے دلکش اور حسین نظارے کرسکتے ہیں-
اسکائی لاج کے منیجر نتالیہ روڈریگ کے مطابق ایک انوکھا تجربہ پیش کرنے کی غرض سے ان ڈرامائی لاجز کو تیار کیا گیا ہے تاکہ مہمانوں کو فطرت کے ساتھ جوڑنے کے ساتھ ساتھ انہیں اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ آسائش کیا ہوتی ہے؟

ایڈونچر سے بھرپور ان کیپسول نما کمروں میں رات گزارنے والے مہمان واپسی پر زپ تاروں کی مدد سے زمین پر آسکتے ہیں۔ کمپنی کے مطابق پہاڑ کے اطراف میں لٹکے کیپسول نما لاجز آرام دہ بستروں، باتھ روم اور ڈائننگ ایریا پر مشتمل ہیں- کیپسول کو ایسی حفاظتی تدابیر کو اختیار کرتے ہوئے ڈیزائن کیا گیا ہے کہ یہ موسم کی سختیاں بھی برداشت کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اس میں ایک رات گزارنے کا کرایہ فی فرد 400 ڈالر ہے جس میں رات کا کھانا اور صبح کے ناشتے کے علاوہ دیگر سہولیات بھی شامل ہیں- البتہ ایسے افراد جو رات نہیں گزارنا چاہتے ہیں انہیں کمپنی کی جانب سے دوپہر کے کھانے کی پیشکش کی جاتی ہے اور اس کی مد میں 237 ڈالر فی کس وصول کیے جاتے ہیں-

یاد رہے کہ پیرو قدرتی عجائبات ہریالی اور قدیم کھنڈرات کا گھرکہلایا جاتا ہے- یونیسکو کے عالمی ثقافتی ورثہ میں شامل دو مقامات سابق شاہی دارالحکومت کاسکو اور 15 ویں صدی کا قلعہ ماچو پچو بھی یہیں واقع ہے۔-

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button