احتساب کے نام پر مخالفین کو دبانے کی روایت کس نے ڈالی؟

نئے پاکستان میں احتساب کے نام پر حکومتی اور ریاستی اداروں کے ذریعے اپنے مخالف سیاست دانوں کو دبانے کی روایت اتنی ہی پرانی ہے جتنا پرانا پاکستان خود ہے۔ لیاقت علی خان، ایوب خان، بھٹو، ضیاء الحق، نواز شریف اور مشرف سمیت سبھی نے اپنے سیاسی مخالفین کو مختلف قوانین اور اداروں کا سہارا لے کر خوب رگڑا اور اب تحریک انصاف حکومت یہی کام نیب سے لے رہی ہے۔
سپریم کورٹ آف پاکستان نے حال ہی میں خواجہ برادران کی ضمانت کا فیصلہ دیتے ہوئے لکھا کہ نیب انتقامی کارروائیاں کر رہا ہے۔ نیب کو لکیر کے اُس پار کچھ نظر نہیں آتا۔ نیب سیاسی جماعتوں کے بندے توڑنے کا کام کر رہا ہے تاہم بدقسمتی سے حکومت کی جانب سے کسی سرکاری ادارے کو مخالفین کے خلاف استعمال کرنے کا یہ الزام نیا نہیں۔ اس ملک کو دنیا کے نقشے پر ظہور پذیر ہونے کے ساتھ ہی سیاسی مخالفین کو کچلنے کے لیے حکومتیں مختلف ناموں سے ادارے بناتی رہیں، جن کے ذمہ ایک کام لگایا جاتا کہ وہ سیاسی مخالفین پر مقدمات بنائیں تاکہ وہ سیاست سے توبہ کرکے گوشہ نشین ہو جانے کے ساتھ ساتھ اپنی آنے والی نسلوں کو بھی سیاست سے دور رہنے کی وصیت کر جائیں۔
پاکستان کے پہلے وزیراعظم سکہ بند جمہوری رہنما لیاقت علی خان نے بھی مخالفین کو کچلنے کے لیے جنوری 1949 میں ایک قانون نافذ کیا تھا جسے پروڈا کہا جاتا تھا۔ قدرت اللہ شہاب اپنی کتاب ’شہاب نامہ‘ میں لکھتے ہیں کہ لیاقت علی خان، نہ صرف اپنے بڑے سیاسی مخالف حسین شہید سہروردی کو اکثر اپنی تقریروں میں تنقید کا نشانہ بناتے بلکہ متنازعہ قانون پروڈا سے بھی کئی شکار کئے۔ اس قانون کی زد میں مرکزی اور صوبائی حکومتوں کے ایسے وزیر، نائب وزیر اور پارلیمانی سیکریٹری آئے جن پر اقربا پروری اور جانبداری کے الزام لگائے گئے۔ اس قانون کے تحت سب سے زیادہ گرفتاریاں سندھ میں ہوئیں کیونکہ سندھ میں ایک وزیر کو چھوڑ کر باقی ساری کابینہ ایک سیاسی جماعت کی تھی۔ اس قسم کے قانون کا نفاذ بلاشبہ برمحل نظر آیا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ یہ قانون ایک سیاسی ہتھیار کی حثییت سے عالم وجود میں آیا اور سیاسی مقصد کے لیے استعمال بھی ہوا۔
بعد ازاں جب ایوب خان اقتدار میں آئے تو اپنے مخالف سیاستدانوں کا قلع قمع کرنے کے لیے یکے بعد دیگرے دو قانون نافذ کئے۔ پہلا قانون عرف عام میں پوڈو کہلایا اور دوسرا ایبڈو۔ ان کا اطلاق صرف سیاسی عہدے داروں پر ہوتا تھا اور فرد جرم ثابت ہونے پر 15 سال تک سیاسی عہدوں پر فائز ہونے سے نااہلیت تھی۔ ایوب خان کا مقصد صرف سیاسی عہدیداروں کی بیخ کنی نہ تھا بلکہ وہ سیاست کے میدان میں سرگرم عمل تمام عناصر کو کانٹے کی طرح نکال باہر پھینک دینا چاہتے تھے۔ اس کا انہوں نے پورا فائدہ اٹھایا اور بڑے بڑے جغادری سیاست دان اس کی زد میں آئے۔
پاکستان کے پہلے منتخب وزیراعظم ذوالفقار بھٹو کے دور میں بھی سیاسی مخالفین کو کچلنے کے الزامات لگے۔ کئی اپوزیشن رہنماؤں کو پس زنداں رکھا گیا۔
نواز شریف نے اپنے تیسرے دور حکومت میں احتساب کا ادارہ بنایا اور اس کا سربراہ سیف الرحمٰن کو بنایا۔ سیف الرحمٰن کی سربراہی میں بننے والے اس ادارے نے سیاسی مخالفین کو ناکوں چنے چبوائے کہ لوگ انہیں ’احتساب الرحمٰن‘ کہنے لگے۔ سیف الرحمٰن نے پیپلزپارٹی کی چیئرپرسن سابق وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو اور ان کے خاوند سابق صدر آصف علی زرداری کے خلاف اتنے مقدمات بنائے کہ آصف زرداری تو جیل میں چلے گئے اور محترمہ مقدمات کی پیروی کے سلسلے میں ایک دن کراچی دوسرے دن لاہور اور تیسرے دن اسلام آباد ہوتیں۔
12 اکتوبر 1999 کو فوجی آمر جنرل پرویز مشرف نے نواز شریف کو حکومت سے نکال باہر کیا اور خود اقتدار پر قابض ہو گئے۔ مشرف نے سیاست دانوں کو قابو کرنے کے لیے ’نیب‘ کی بنیاد رکھی۔ نیب کے سابق سربراہ جنرل شاہد عزیز اپنی کتاب ’یہ خاموشی کہاں تک‘ میں لکھتے ہیں کہ ’میں جب نیب چیئرمین تھا تو انتخابات کی تیاریاں شروع کرنے کا وقت تھا، جس میں نیب کو استعمال کرنے کا ارادہ تھا۔ ان دنوں مجھ سے حکومت نے ان سیاست دانوں کے نام مانگے جن کے خلاف تفتیش چل رہی تھی۔میں جانتا تھا کہ یہ نام سیاسی سودے بازی کے لیے مانگے جا رہے ہیں۔ مجھ پر کافی دباؤ رہا۔جب کہیں سے بات نہ بنی تو ایک پارلیمنٹری کمیٹی سے مجھے خط لکھوایا گیا کہ یہ نام پارلیمنٹ کو چاہییں، میں نے پھر بھی نام نہیں دیے۔ مجھے اعلیٰ سطح پر سمجھایا گیا کہ تم پارلیمنٹ کی اتھارٹی کو شاید سمجھتے نہیں ہو، تم انکار کر کے اپنے لیے مشکل کھڑی کر رہے ہو۔ میں نے کہا کہ ہمارا آئین ہر شہری کی عزت کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ لہذامیں نے اخبار میں خبر دی کہ اس مرتبہ نیب انتخابات میں حصہ نہیں لے رہا۔ مقصود یہ تھا کہ اس سلسلے میں دباؤ ڈالا گیا تو بات عوام میں کھل جائے گی۔
پاکستان کی تاریخ گواہ ہے کہ نیم سیاسی حکومت ہو یا فوجی، ہر ایک نے سیاسی مخالفین کی سرگرمیوں کو کچلنے کے لیے اس طرح کے اداروں کا سہارا لیا۔ ہر حکومت کا ایک مشن رہا، جو جتنا زیادہ بولتا ہے اس طرح کے اداروں کا سہارا لے کر اس کے خلاف بے بنیاد مقدمات بنائے جاتے ہیں۔ ماضی میں پیپلزپارٹی اور نون لیگ کی حکومتیں رہیں مگر انہوں نے اس پر قانون سازی نہیں کی۔ دونوں اطراف سے بیانات میڈیا کی زنیت بنتے رہے کہ نیب قوانین میں تبدیلی لا رہے ہیں اور یہ صرف بیان بازی تک محدود رہا۔ آج تحریک انصاف نیب کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کر رہی ہے تو کل یہی ادارہ ان کے خلاف استعمال ہو گا۔ ضرورت ہے کہ حکومت اپوزیشن کے ساتھ بیٹھ کر اس نیب قوانین میں تبدیلی لائے اور اسے سیاسی دسترس سے مکمل آزاد کرے۔
