احسان اللہ احسان فرار، پیپلز پارٹی کا جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ

پیپلز پارٹی نے تحریک طالبان کے سابق ترجمان احسان اللہ اھسان کے فرار پر جے آئی ٹی بنانے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ احسان اللہ احسان کن حالات میں فرار ہوا، کیسے ہوسکتا ہے کہ قومی تحویل میں ایک شخص ہو اور فرار ہوجائے، اس کے اوپر کوئی جے آئی ٹی نہیں بنی’۔ اس بارے تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے کر حقائق سامنے لائے جانے چاہیں.
لاہور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے رہنما قمر زمان کائرہ نے خبردار کیا ہے کہ خیبرپختونخوا کے راستے گندم اسمگل ہورہی ہے اور ملک میں ایک مرتبہ پھر بحران کھڑا ہونے والا ہے۔ موجودہ حکومت نے ان تمام بحران کو دوبارہ زندہ کردیا جو ختم ہوچکے تھے، آج حکومت کو چینی، آٹا، تیل، معاشی قرضوں کی ادائیگی سمیت دیگر بحران کا سامنا ہے۔قمر زمان کائرہ نے کہا کہ چینی کے بحران میں مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف اور پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پر الزامات لگائے جاتے ہیں جبکہ کمیشن نے نشاندہی کی کہ چینی کے بحران میں تحریک انصاف کے ایک رہنما کا پروڈکشن میں 20، 16 اور 10 فیصد شامل ہے۔
رہنما پیپلز پارٹی نے بتایا کہ موجود حکومت میں ہی مافیا کے سربراہ ہیں اسی لیے عدالتوں کے نوٹس کے باوجود بھی چینی کی قیمت کم نہیں ہوئی۔علاوہ ازیں انہوں نے کہا کہ انہوں نے کہا گندم کا بحران پھر کھڑا ہورہا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ ابھی گندم کی فضل اٹھائی گئی ہے لیکن بحران پیدا ہونا شروع ہوگیا اس لیے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے صرف حکومت سندھ پر الزامات لگانے سے کام نہیں چلے گا۔قمر زمان کائرہ نے الزام لگایا کہ گندم خیبرپختوا سے اسمگل ہورہی ہے لیکن حکومت اسمگلنگ روکنے میں ناکام ہے۔انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ‘حکومت کو اسمگلنگ کو روکنا ہوگا کیونکہ وفاقی ادارے آپ کے پاس ہیں، بلوچستان میں آپ کے اتحادی ہیں اورگندم پھر بھی اسمگل ہوجائے تو صرف الزامات کی بنیاد پر سیاست نہیں چلے گی’۔
رہنما پیپلز پارٹی نے کہا کہ ‘جس کا ہتھیار سروس یعنی خدمات نہ ہوں وہ پراپیگنڈہ پر انحصار کرتے ہیں، چیئرمین بلاول بھٹو بعض مسائل کی نشاندہی کرتے ہیں تو موجودہ حکومت کے مختلف رہنما قومی اسمبلی سے لیکر دیگر فورم پر پراپیگنڈہ شروع کردیتے ہیں’۔علاوہ ازیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ وزیراعظم عمران خان، اسامہ بن لادن اور چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری کو دھمکی دینے کے معاملے پر اپنی پوزیشن واضح کریں۔ انہوں نے کہا کہ احسان اللہ احسان جس تنظیم سے وابستہ تھا وہ ماضی میں بھی ہمارے دشمن تھے اور اب بھی وہ دھمکیاں دے رہے ہیں اس بات کی وضاحت کی جانی چاہیے کہ احسان اللہ احسان جیسا مطلوب دہشتگرد سخت سیکیورٹی کے باوجود ریاستی اداروں کی حراست سے کیسے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا.
