اداکارہ آمنہ الیاس کو سانولی رنگت کے طعنے کیوں سننے کو ملے؟

اداکارہ و ماڈل آمنہ الیاس نے انکشاف کیا ہے کہ بچپن سے جوانی تک انہیں کبھی اپنی سانولی رنگت کا احساس نہیں ہوا، کہ اس کو گورا کرنے کی ضرورت ہے لیکن جب پروفیشنل ماڈلنگ کیرئیر کو اپنایا تو سانولی رنگت کے طعنے سننے کو ملے۔وائرل ہونے والی مختصر ویڈیو آمنہ الیاس کی جانب سے حال ہی میں فریحہ الطاف کے پوڈکاسٹ میں شرکت کی ہے، جہاں انہوں نے شوبز کیریئر سمیت ماڈلنگ پر بھی کھل کر باتیں کی تھیں، پروگرام کی وائرل ہونے والی مختصر ویڈیو میں آمنہ الیاس کو اپنی سانولی رنگت کی وجہ سے انڈسٹری میں پیش آنے والی مشکلات پر بات کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ویڈیو میں آمنہ الیاس کہتی ہیں کہ ان خاندان کے تمام افراد کی رنگت سانولی ہے، اس لیے انہیں کبھی گھر میں اس بات کا احساس ہی نہیں ہوا تھا کہ گوری رنگت اہم ہوتی ہے، آمنہ الیاس کے مطابق انہیں تکلیف اس وقت ہونا شروع ہوئی جب انہوں نے کام کرنا شروع کیا یعنی انہوں نے جب پروفیشنل ماڈلنگ اور اداکاری کا آغاز کیا، تب انہیں سانولی رنگت کے طعنے دیے جانے پر تکلیف ہوئی۔انہوں نے بتایا کہ ماڈلنگ کیریئر کے آغاز میں جب وہ کوئی بھی شوٹ کرواتی تھیں تو انہیں ٹو ٹون لائٹر کیا جاتا تھا یعنی ان کی رنگت کو میک اپ کے ذریعے گورا کیا جاتا تھا، نہ صرف ان کے چہرے بلکہ ہاتھ اور پائوں کو بھی گورا کیا جاتا تھا اور ہر جگہ انہیں میک اپ لگایا جاتا تھا، جس پر انہیں تکلیف ہوتی تھی۔آمنہ الیاس کا کہنا تھا کہ انہیں اپنی رنگت گوری کرنے پر اس لیے تکلیف ہوتی تھی کیوں کہ انہیں مصنوعی طور پر دوسرے روپ میں دکھایا جاتا تھا، یعنی جس طرح وہ ہیں، انہیں اس طرح نہیں دکھایا جاتا تھا۔اس سے قبل بھی آمنہ الیاس شوبز انڈسٹری میں سانولی رنگت کے حامل فنکاروں اور خصوصی طور پر اداکارائوں کے ساتھ ناروا سلوک پر بات کرتی رہی ہیں۔ستمبر 2023 میں انہوں نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ اگرچہ اب شوبز انڈسٹری میں ماضی کے مقابلے بہتری آ چکی لیکن اس کے باوجود تاحال سانولی رنگت کی لڑکیوں کو آج بھی منفی اور شہوت انگیز کردار دیئے جاتے ہیں، انہیں اسکرین پر سگریٹ نوشی کرتے دکھایا جاتا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ رنگت کے حوالے سے اب بھی شوبز انڈسٹری میں خواتین کے ساتھ تفریق برتی جاتی ہے اور سانولی لڑکیوں کو اسکرین پر بولڈ اور شہوت انگیز انداز میں دکھایا جاتا ہے۔

Back to top button