اداکارہ عفت عمر نے میری عمر، میری مرضی کا نعرہ کیوں لگایا؟

سینیئر اداکارہ و ٹی وی میزبان عفت عمر نے خود پر تنقید کرنے والے اور انہیں عمر کا طعنہ دینے والے افراد کو کرارا جواب دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ انہیں جو اچھا لگے گا وہ وہی کام کریں گی۔

عفت عمر نے انسٹاگرام پر مختصر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے اس کے کیپشن میں لکھا کہ میری عمر، میری مرضی، ان پر تنقید کرنا بند کی جائے اور ہر کوئی سکون سے اپنی زندگی گزارے۔اداکارہ نے مزید لکھا کہ انہیں یہ ہدایت دینا اور تجویز دینا بند کی جائے کہ وہ ہر کام اپنی عمر کے حساب سے کریں۔انہوں نے واضح لکھا کہ ان کی عمر، ان کی مرضی۔

اداکارہ کی مذکورہ ویڈیو پر بھی لوگوں نے کمنٹس کرتے ہوئے ان کے خلاف نامناسب الفاظ کا استعمال کیا اور انہیں شرم دلانے کی کوشش کرتے ہوئے لکھا کہ انہیں اپنی عمر کے حساب سے ہر کام کرنا چاہئیے۔عفت عمر نے مذکورہ پوسٹ ایک ایسے وقت میں کی جب کہ حال ہی میں ان کی شادی کی تقریبات میں ڈانس ویڈیوز وائرل ہوئی تھیں، جن پر لوگوں نے انہیں تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے انہیں زائد العمری کے طعنے دیے تھے۔

انٹرنیٹ صارفین کی پرواہ کیے بغیر عفت عمر نے تنقید کے بعد بھی شادی کی تقریبات میں اپنی ڈانس ویڈیوز شیئر کی تھیں اور تنقید کرنے والوں کو کرارا جواب دیتے ہوئے پوسٹ کی تھی کہ ان کی عمر، ان کی مرضی، انہیں زائد العمری کے طعنے اور ہدایات کرنا بند کی جائیں۔عفت عمر کو ماضی میں بھی ان کی ویڈیوز اور تصاویر پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

اپنے بولڈ لباس، بیانات اور سیاسی طنز کی وجہ سے خبروں میں رہنے والی اداکارہ و میزبان عفت عمر نے کہا ہے کہ ان کا وقت گزر چکا، وہ پچاس سال کی ہو رہی ہیں، اب دوسروں کو دیکھ کر وہ لطف اندوز ہوتی ہیں۔انہوں نے حالیہ ڈراموں میں تشدد کے مناظر اور خاص طور پر عورتوں کو مارنے اور پیٹنے کے سین دکھانے کو غلط قرار دیا اور کہا کہ اداکاروں کے ایسے ڈرامے نہیں کرنے چاہئیے۔

اداکارہ نے بتایا کہ انہوں نے 24 سال کی عمر میں ماڈلنگ چھوڑ دی تھی، جس کے بعد انہوں نے شادی کرلی اور 10 سال تک اداکاری سے بھی دور رہیں۔عفت عمر نے کہا کہ اب ایک بار پھر وہ اداکاری سے دور ہیں اور انہیں لگتا ہے کہ اب وہ مزید اداکاری نہیں کر پائیں گی۔انہوں نے خود پر کی جانے والی تنقید پر بھی کھل کر باتیں کیں اور کہا کہ اب وہ پچاس سال کی ہونے جا رہی ہیں مگر ایک طرح سے ان کا دل جوان ہے، ان کا دل کرتا ہے تبھی تو وہ سرخ لپ اسٹک لگاتی ہیں اور بولڈ لباس پہنتی ہیں۔

انہوں نے بولڈ لباس پر ہونے والی تنقید پر کہا کہ وہ اپنے جسم کی مالک ہیں، ان کی مرضی وہ جیسا لباس پہنیں؟ دوسروں کو ان کے لباس سے کیا تکلیف ہے؟عفت عمر نے انٹرویو میں یہ اعتراف بھی کیا کہ ایک طرح سے اب ان کا وقت گزر چکا اور اب وہ دوسروں کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتی ہیں اور ان پر تنقید کرنے والے جب خود پچاس سال کے ہوں گے، تب انہیں معلوم پڑے گا کہ انسان کا دل ہر وقت جوان رہتا ہے۔انہوں نے خود پر سیاسی طنز کرنے کی وجہ سے کی جانے والی تنقید کو بھی بلاجواز قرار دیا اور کہا کہ لوگ فضول میں ان پر بحث کرکے انہیں مشہور کرکے ان کے نام کا ٹرینڈ چلاتے رہتے ہیں۔

Back to top button