اداکارہ نادیہ جمیل بریسٹ کینسر کا شکار ہو گیئں

شوبز انڈسٹری میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے عوام کی توجہ اور داد حاصل کرنے والے نامور اداکارہ نادیہ جمیل بریسٹ کینسر کا شکار ہو گئی ہیں۔ تاہم نادیہ کا کہنا ہے کہ کینسرنے ان کی مسکراہٹ نہیں چھینی وہ پرعزم ہیں اور چاہنے والوں کی دعاؤں سے وہ کینسر کو بہت جلد شکست دینے میں کامیاب ہوں گی۔
نادیہ جمیل نے کینسر ہونے کا انکشاف خود سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں کیا۔ انھوں نے بتایا کہ وہ بریسٹ کینسر یعنی چھاتی کے سرطان کا شکار ہوگئیں ہیں اور ان کا علاج جاری ہے۔اداکارہ نے اپنے ٹوئٹ میں مزید بتایا کہ ’گزشتہ ہفتے مجھ میں کینسر کی تشخیص ہوئی، اور چار روز میں دو بار میں علاج کے لیے ہسپتال جاچکی ہوں‘۔ کینسرجیسے موذی مرض کا شکار ہونے کے بعد اپنے احساسات کے حوالے سے اپنے چاہنے والوں کو آگاہ کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ پچھلے کچھ دنوں سے وہ اداسی، خوف ، محبت، سکون، قبولیت، صبر، شکر جیسے احساسات سے دوچار ہیں جب کہ اس دوران انہیں اپنے بچوں، والدین، اپنے پیاروں اور خود کی ذمہ داری کا احساس بھی شدت سے ہوا ہے۔


اپنے سلسلہ وار ٹوئٹر پیغامات میں نادیہ جمیل کا مزید کہنا تھا کہ ان کو ہونے والے بریسٹ کینسر کی پہلی اسٹیج ہے جبکہ ٹیومر تیسرے گریڈ پر ہے۔ نادیہ جمیل نے اس حوالے سے خواتین کو خصوصی پیغام دیتے ہوئے کہا کہ باقاعدگی سے اپنا طبی معائنہ کروانا ضروری ہے، اگر انھیں اپنے اندر کوئی غیرمعمولی کیفیت محسوس ہو تو فوری چیک اپ کروانا چاہیے۔ نادیہ جمیل نے مزید کہا کہ میں اپنی سرجری کی تاریخ کا انتظار کررہی ہوں اور کافی مثبت ہوں، آپ بھی پریشان نہ ہوں اور اپنا بہت خیال رکھیں‘۔نادیہ جمیل نے ایک اور ٹوئٹ میں اپنے چند تصاویر بھی شیئر کی۔ انہوں نے لکھا کہ ’کینسر نے میری مسکراہٹ نہیں چھینی، خدا کا شکر ادا کرنے سے، آپ کے اظہار محبت سے اور لوگوں کی دعاؤں سے مدد ملتی ہے‘۔ اداکارہ نے مداحوں سے اپنی سرجری کیلئے دعائیں کرنے کی بھی درخواست کی۔


خیال رہے کہ اداکارہ نادیہ جمیل اپنے کیریئر کے ساتھ ساتھ فلاحی کاموں میں بھی بےحد سرگرم رہتی ہیں۔جہاں پاکستان میں کئی خواتین کو بچوں کو گود لینے پر سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں نادیہ جمیل نے دو بچوں کو گود لے کر ایک نئی مثال قائم کی تھی۔
یاد رہے کہ کچھ عرصہ قبل اداکارہ نادیہ جمیل نے بچپن میں اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کے حوالے سے انکشاف کیا تھا اور کہا تھا کہا تھاجب پہلی بار انہیں جنسی ہراسگی کا سامنا ہوا تو اس وقت انکی عمر صرف چار سال تھی. نادیہ جمیل نے اس بات کا انکشاف کرتے ہوئے یہ موقف اختیار کیا تھا کہ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس طرح کے واقعات کے بعد بھی کہا جاتا ہے کہ بس خاموش رہو۔ لیکن جب آپ چپ رہتے ہیں تو یہ بار بار ہوتا ہے اور جب یہ عمل بار بار ہوتا ہے تو آپ یہ سمجھ لیتے ہیں کہ شاید تشدد، بدتمیزی یہ سب جائز ہے اور پھر مرد آپ پر مزید حاوی ہو جاتا ہے. اس لئے خاموش رہنا سراسر اپنے اور معاشرے کی دیگر بچیوں اور خواتین کے ساتھ زیادتی ہے، اسی لئے بالکل خاموش نہ رہیں۔ ایسے واقعات کو سب کے سامنے لانا کوئی شرم کی بات نہیں بلکہ بہادری ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button