اداکار جاوید شیخ کو سلمیٰ آغا سے شادی کرنے پرکیا نقصان اٹھانا پڑا؟

لیجنڈری اداکار جاوید شیخ نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں ماضی میں اداکارہ سلمیٰ آغا سے شادی کرنے کی وجہ سے نہ صرف ذاتی زندگی بلکہ فلمی کیریئر میں بھی نقصان اٹھانا پڑا۔
اداکار جاوید شیخ کا انٹرویو میں کہنا تھا کہ پہلی شادی طلاق پر ختم ہونے کے بعد انہوں نے سلمیٰ آغا سے شادی کی لیکن بدقسمتی سے ان کی دوسری شادی بھی تین سال ہی چل سکی۔سلمیٰ آغا نے انہیں بولی وڈ اور لولی وڈ فلموں سے نکلوایا، ایک تو وہ انہیں ایسی فلموں میں کام نہیں کرنے دیتی تھیں اور دوسرا وہ عین موقع پر مصروف رکھتیں کہ فلم ساز ان کی جگہ دوسرے اداکاروں کو کاسٹ کرلیتے۔
جاوید شیخ کا کہنا تھا کہ سلمیٰ آغا سے شادی کے بعد انہیں خون بھری مانگ نامی فلم میں ریکھا کے ساتھ ہیرو کے طور پر کاسٹ کیا گیا لیکن انہیں اس میں کام نہیں کرنے دیا گیا اور بعد ازاں ان کی جگہ کبیر بیدی کو کاسٹ کرلیا گیا۔خون بھری مانگ سے قبل بینکاک کے چور میں بھی ان کی جگہ اظہار قاضی کو کاسٹ کرلیا گیا۔
سینیئر اداکار نے بتایا کہ سلمیٰ آغا شادی کے بعد انہیں بار بار بھارت لے جاتیں، جس وجہ سے پاکستانی فلم ساز ان کی جگہ دوسرے اداکاروں کو کاسٹ کرلیتے۔
خیال رہے کہ جاوید شیخ نے 1980 کے بعد سلمیٰ آغا سے دوسری شادی کی تھی، اداکار کی پہلی شادی زینت منگی سے کی تھی، جن سے انہیں بیٹی مومل اور بیٹا فہد شیخ ہیں، ان کی پہلی شادی بھی تین سال ہی چلی تھی۔
