اداکار میکال کا ہوٹلوں سے چیزیں چرانے کا اعتراف


معروف اداکار میکال ذوالفقار نے اعتراف کیا ہے کہ فائیو سٹارز ہوٹلوں میں قیام کے دوران انہوں نے تولیوں سمیت کئی چیزیں چوری کی ہیں اور آئندہ بھی یہ کام جاری رکھیں گے۔ اس موقع پر اداکارہ درفشاں نے بتایا کہ ایک مرتبہ میں نے ہوٹل کے کمرے سے جائے نماز چوری کی تھی۔ در فشاں اور میکال نے یہ اعتراف ندا یاسر کے شو میں کیے جہاں دونوں نے اپنے شوبز کیرئیر پر بات کی اور مختلف سوالوں کے جوابات بھی دیئے، میکال ذوالفقار نے اعتراف کیا کہ انہیں ماڈلنگ کرتے ہوئے اچانک اداکاری کرنا پڑ گئی مگر حقیقت یہ ہے کہ انہیں پانچ برس تو اداکاری سمجھ ہی نہیں آئی، پھر آہستہ آہستہ انہوں نے اداکاری سیکھی۔ میکال نے بتایا کہ انہوں نے اپنا کاروبار شروع کرتے وقت بہت مشکل حالات دیکھے مگر اب ان کا سیلون چل پڑا ہے، ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ وہ کسی بھی شخص میں سب سے پہلی چیز اسکی بات چیت کا انداز اور خوبصورتی دیکھتے ہیں۔
اداکار نے ایک اور سوال کے جواب میں اعتراف کیا کہ چونکہ وہ انتہائی مہنگے اور پرتعیش ہوٹلوں میں رہائش کے لیے ٹھہرے ہوتے ہیں اس لیے وہاں سے بوتلیں اور ٹاول تک چرائے ہیں۔ پروگرام میں بات کرتے ہوئے در فشاں سلیم نے کہا کہ وہ ایسے شخص سے شادی کرنا چاہیں گی جو کھانے پینے کا شوقین ہو اور جو دوسروں کی شخصی آزادی پر بھی یقین رکھتا ہے۔
اداکارہ نے انکشاف کیا کہ جب وہ کم عمر تھیں تو والدہ ان سے شام 6 بجے کے موبائل فون چھین لیتی تھیں، انہیں رات کو فون استعمال کرنے کی اجازت نہیں تھی، جس وجہ سے انکا بچپن والدین کے سخت پہرے میں گزارا۔
درفشاں نے افسوس کا اظہار کیا کہ انہیں کم عمری میں کسی رانگ نمبر پر فون کر کے شرارتیں کرنے کا موقع نہیں ملا، انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ وہ بچپن میں والدہ کے پیسے چرا کر کھانے کی چیزیں منگوایا کرتی تھیں۔
در فشاں نے ایک سوال کے جواب میں اعتراف کیا کہ انہوں نے دو سال قبل ایک اچھے اور پرتعیش ہوٹل سے جائے نماز چرائی تھی، انہوں نے بتایا کہ انہیں جائے نماز پسند آ گئی تھی، در فشاں کے اعتراف پر میکال ذوالفقار نے انہیں ٹوکتے ہوئے کہا کہ انہیں جائے نماز چوری کرتے وقت شرم نہیں آئی؟ اس پر در فشاں نے جواب دیا کہ انہوں نے جائے نماز اس لیے چوری کی تھی کہ نماز ادا کر سکیں، لہذا انہیں یقین ہے کہ اللہ انہیں معاف کر دے گا۔

Back to top button