اربوں کے ایسے اخراجات کہ دیکھنے والوں کی آنکھیں کھل جائیں

حکومت نے ضمنی گرانٹ کے نام پر دفاعی حکام اور صوبائی حکومتوں کے وی وی آئی پی طیارے اور ہیلی کاپٹرز کی مرمت، ثالثی کےلیے بین الاقوامی مقدمات کے اخراجات، سپریم کورٹ کے ججوں کی رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش اور مرمت، مختلف شہروں میں ضمنی دفاتر اور ریسٹ ہاؤسز، انٹیلی جنس بیورو کے اضافی اخراجات اور حکمران جماعت سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ (بالخصوص سندھ سے تعلق رکھنے والوں) کو ترقیاتی اسکیمیں دینے کے نام پر اربوں روپے خرچ کر ڈالے ہیں۔
بجٹ اخراجات سے ہٹ کر حکومت نے جو بھی اضافی اخراجات کیے ہیں ان میں وزیراعظم کی بچھڑا بچاؤ (سیو دی کاف) اسکیم پر کیے گئے اخراجات بھی شامل ہیں۔ گزشتہ سال پاکستان برطانیہ میں حیدرآباد فنڈ کیس ہار گیا۔ یہ ملک کےلیے ایک بڑا دھچکا تھا لیکن بجٹ دستاویز سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کیس کی قانونی ادائیگیوں کےلیے اسلام آباد کو 1.2 ارب روپے ادا کرنا پڑے یہ ادائیگیاں ابو ظہبی، جدہ اور لندن میں پاکستانی نمائندوں کے ذریعے کی گئیں۔ قومی خزانے پر ڈالے جانے والے اضافی بوجھ میں براڈ شیٹ ایل ایل سی کو کی جانے والی 433 ملین روپے کی ادائیگی بھی شامل ہے جو بین الاقوامی ثالثی کیس میں پاکستان کی شکست کے بعد نیب کی جانب سے کی گئی۔ بجٹ دستاویز کے مطابق، وزارت دفاع کو اضافی 32 ارب روپے دیے گئے جس میں سے 45 ملین روپے ایئر ونگ کے تین ایکس سیسنا گرانڈ طیاروں کی مرمت اور تزئین و آرائش پر خرچ کیے گئے جب کہ 80 ملین روپے کے پی، پنجاب اور بلوچستان حکومت کے ہیلی کاپٹرز کی مرمت اور مینٹی ننس اور فاضل پرزہ جات کی خریداری پر خرچ کیے گئے۔ اضافی اخراجات میں وزارت دفاع کی جانب سے وی وی آئی پی گلف اسٹریم طیارہ کی مرمت اور مینٹی ننس پر خرچ کیے گئے 477 ملین روپے شامل ہیں۔ انٹیلی جنس بیورو کو اضافی 922 ملین روپے دیے گئے تاکہ ادارہ اپنے طے شدہ بجٹ میں ہونے والی کمی کو پورا کر سکے۔ پاک بحریہ کے میڈیکل اسٹور کو 1.3 ارب روپے دیے گئے تاکہ وہ جاگیوٹ فارمز اسلام آباد میں زمین خرید سکے، 490 ارب روپے ضمنی گرانٹ کی صورت میں ادا کیے گئے۔ بجٹ میں مختص کردہ رقم سے ہٹ کر سپریم کورٹ اسلام آباد کی عمارت اور ججوں کی رہائش گاہوں، ریسٹ ہاؤسز اور مختلف شہروں میں ذیلی دفاتر کی تزئین و آرائش، مینٹی ننس اسٹاف کی تنخواہوں کی مد میں 652 ملین روپے اضافی خرچ کیے گئے۔ وزیراعظم کی بچھڑے بچاؤ اسکیم (سیو دی کاف) پر 7.4 ملین اضافی خرچ کیے گئے۔ مدرسہ اصلاحات پر ضمنی گرانٹ کی مد میں 38 ملین روپے، ماڈل دینی مدارس پر 57 ملین، شوگر سیکٹر پراڈکشن مانیٹرنگ ویڈیو اینالیٹکس سرویلنس (وی اے ایس) پر 350 ملین، کنسٹرکشن، ہاؤسنگ، انفرااسٹرکچر ڈویلپمنٹ کی رابطہ کاری مہم پر 302 ملین اور گورنمنٹ اینیشیٹیوز پر ایک ارب روپے خرچ کیے گئے، احساس ایمرجنسی کیش پروگرام کی رابطہ کاری مہم پر ایڈورٹائزنگ کمپنیوں کی بقایہ جات کی ادائیگی پر 109 ملین روپے خرچ کیے گئے، وزیراعظم کی ہدایت پر علامہ اقبال اسکالرشپ (تین ہزار عدد) افغان طلبا کو دینے پر 1.5 سارب روپے خرچ کیے گئے۔ پاکستان اسٹیل ملز کے ملازمین کی بقایہ جات کی ادائیگی کےلیے 22 ارب روپے خرچ کیے گئے۔ حکمران جماعت کے سندھ سے تعلق رکھنے والے ارکان پارلیمنٹ کے سیاسی تحفظات دور کرنے کےلیے حکومت نے بجٹ اخراجات سے ہٹ کر کراچی اور سندھ میں مختلف پروجیکٹس کےلیے 16 ارب روپے خرچ کیے، ان پروجیکٹس میں گرین لائن بس پروجیکٹ، جام چکرا سے بنارس تک منگھوپیر روڈ پروجیکٹ کی تعمیر، نشتر روڈ اور منگھو پیر روڈ کی تعمیر، کے ایم سی کے موجودہ فائر فائٹنگ سسٹم کی اپ گریڈیشن، دادا بھائی ٹاؤن سے پی این ایس مہران تک ملیر بند روڈ کی تعمیر، تھرپارکر ضلع میں آر او پلانٹس کی تنصیب، میرپور خاص، حیدرآباد، لاڑکانہ، سکھر، بینظیرآباد ڈویژن اور کراچی کے مختلف اضلاع میں ترقیاتی اسکیمیں شامل ہیں۔

Back to top button