ارشد شریف کا قتل فوج اور عمران کی لڑائی کی نظر ہو گیا

سینئر صحافی ارشد شریف کے قتل کے معاملے پر عمران خان اور پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے ایک دوسرے پر الزامات کی بارش کے بعد اصل قاتلوں تک پہنچنے کے امکانات معدوم ہو گئے ہیں کیونکہ معاملہ مکمل طور پر سیاسی ہو گیا ہے۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عمران خان کی جانب سے ارشد شریف کا قتل فوج اور ایجنسیوں پر ڈالنے کی کوشش کے بعد ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر کی جانب سے جوابی پریس کانفرنس کے بعد اب یہ قتل کیس مزید الجھتا ہوا دکھائی دے رہا ہے۔
یاد رہے کہ ارشد شریف کی موت کی تحقیقات کے لیے پاکستانی تفتیش کار کینیا روانہ ہو چکے ہیں۔ لیکن اس ہلاکت کے پس منظر میں گذشتہ دو روز کے دوران پاکستان میں جس طرح کے بیانات اور بیانیے سامنے آ رہے ہیں ان کے پیش نظر باخبر لوگ اور حلقوں میں یہ تاثر گہرا ہوتا جا رہا ہے کہ الزام تراشیوں اور سیاست کے بیچ ارشد شریف کی موت کو معمہ حل ہونے کے امکانات کم ہی ہیں۔ گذشتہ چند دنوں میں اس کیس بارے عمران کے الزامات اور اسٹیبلشمنٹ کے جوابی الزامات کے بعد ارشد شریف کے پراسرار قتل کی گتھی سلجھنے کی بجائے مزید الجھ گئی ہے۔ معاملہ تب زیادہ گھمبیر ہو گیا جب عمران خان کے دست راست فیصل واوڈا نے بغاوت کرتے ہوئے اپنے کپتان کے اس بیانیے کو سختی سے رد کر دیا کے ارشد شریف کے قتل میں موجود اسٹیبلشمنٹ کا ہاتھ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کے قتل کی منصوبہ بندی پاکستان میں ہوئی۔
انھوں نے دعویٰ کیا کہ ’قتل سے پہلے ارشد شریف فوجی اسٹیبلشمنٹ سے رابطے میں تھے اور ملک واپس آنے کے خواہشمند تھے۔ اُنھوں نے کہا کہ میرے پاس فون میں شواہد موجود ہیں۔ میں فون کا فارینزک آڈٹ کروانے کے لیے تیار ہوں۔ اُنھوں نے کہا کہ ’قتل کی سازش تیار کرنے والے پاکستان میں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ارشد کا موبائل فون یا لیپ ٹاپ نہیں ملے گا، شواہد مٹا دیے گئے ہیں۔ ارشد شریف نے ان لوگوں پر اعتبار کیا جنھوں نے پہلے اسے دبئی اور پھر کینیا کا رخ دکھایا۔ یاد رہے کہ عمران خان بار بار بتا چکے ہیں کہ ارشد شریف کو پاکستان چھوڑنے کی تجویز انہوں نے دی تھی۔
اس سے قبل عمران خان نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کو ارشد کے قتل کی سازش کا علم ہوا تو انہوں نے اسے پاکستان چھوڑنے کے لیے کہا اور پھر ہم نے اسے باہر بھجوایا۔ ان کے اس بیان کے بعد بھی ارشد شریف کے ملک سے باہر جانے اور اُنھیں ملنے والی مبینہ ’دھمکیوں‘ کی بازگشت سنائی دی۔ اس کے علاوہ اس خط کی بات بھی کی گئی جو اُنھوں نے صدر عارف علوی کو لکھا تھا۔ علوی نے دو روز قبل ارشد شریف کی والدہ سے ملاقات میں ایک خط کا ذکر کیا تھا جب وہ تعزیت کے لیے ارشد شریف کی والدہ سے ملے۔ صدر اور ارشد شریف کے اہلخانہ کے ساتھ ہونے والی اس گفتگو کی ایک ویڈیو میں اُنھیں یہ کہتے ہوئے سنا جا سکتا ہے کہ ارشد شریف نے اُنھیں اپنی جان کو لاحق خطرات سے آگاہ کیا تھا اور اُنھوں نے یہ خط وزیر اعظم کے دفتر پہنچا دیا تھا۔تاہم ان کے مطابق وزیرِ اعظم ہاؤس کی جانب سے اُنھیں سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے عملی طور پر کچھ نہیں کیا گیا۔
فیصل واوڈا نے اپنی پریس کانفرنس میں تو کسی فرد کا نام نہیں لیا تھا اور کہا کہ وہ آئندہ چند دنوں میں قتل میں ملوث کرداروں کا نام لیں گے۔ مگر 29 اکتوبر ایک پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس پی آر اور ڈی جی آئی ایس آئی نے بعض نام بھی لے لیے۔ ان میں خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان، اے آر وائی نیوز کے مالک سلمان اقبال، اے آر وائی کے ڈائریکٹر نیوز عماد یوسف اور کینیا میں موجود وقار احمد اور خرم احمد نامی وہ دو بھائی شامل ہیں جن کے پاس ارشد شریف ہائش پذیر تھے۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے پریس کانفرنس میں اب تک ہونے والی تحقیقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ارشد شریف کا ہمارے ادارے سے رابطہ تھا۔ انھوں نے ہمارے ایک جنرل سے رابطہ رکھا۔ انھوں نے واپسی کی خواہش کا اظہار بھی کیا تھا۔‘ اُنھوں نے کہا کہ یہ بات بھی ثابت ہوئی ہے کہ اے آر وائی کے سی ای او سلمان اقبال کی ہدایت پر ان کے ساتھی عماد یوسف نے ارشد شریف کے ملک سے باہر جانے کے انتظامات کیے۔ یوں ’10 اگست کو ارشد شریف پشاور سے دبئِی روانہ ہوئے۔ کے پی حکومت نے اُنھیں مکمل پروٹوکول دیا۔‘ ان کے مطابق ’ارشد کینیا اس وقت روانہ ہوئے جب ان کا دبئی کا ویزا ختم ہوا۔‘
انھوں نے کہا ’یہ جاننا بھی ضروری ہے کہ متحدہ عرب امارات میں ارشد شریف کے رہنے کا بندوبست کس نے کیا؟ کس نے ان کو کہا کہ ان کی جان کینیا میں محفوظ ہے اور پاکستان میں ان کو خطرہ ہے؟ کس نے ان کو کہا کہ صرف کینیا ویزہ فری ملک ہے؟ ان کی کینیا میں میزبانی کون کر رہا تھا؟ ان کا ارشد سے کیا تعلق تھا؟ کیا وہ ان کو پہلے سے جانتے تھے؟لیکن کیا یہ سب بیانات اور ان سے جڑی کہانیاں ارشد شریف کی موت کے گرد گھومتی مبینہ سازش کو حل کر پا رہی ہیں یا ایسا ہو گا بھی؟ اس سوال کے جواب میں تجزیہ کار کہتے ہیں کہ ایسا ہونا مشکل ہے۔ انکا کہنا ہے کہ اس کیس کا مستقبل تاریک نظر آتا ہے اور یہاں ایسے واقعات ’اشرافیہ محض اپنی دکان، سیاست، مقاصد اور اہداف‘ کو حاصل کرنے کے لیے استعمال کرتی ہے۔ ان کے خیال میں کسی جماعت، گروہ یا ادارے کے لیے سرفہرست یہ ہدف ہی نہیں کہ ارشد شریف کو انصاف دلایا جائے۔
