ارشد شریف کو تھریٹ الرٹ جاری کرنے والی KP حکومت کا یوٹرن

خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کے وزیر اعلی محمود خان کی حکومت نے کینیا میں قتل ہونے والے صحافی ارشد شریف کو جاری ہونے والے اس صوبائی تھریٹ الرٹ سے دوری اختیار کرلی ہے جس نے انہیں پاکستان چھوڑنے پر مجبور کیا اور وہ خاموشی سے بذریعہ پشاور ایئر پورٹ دبئی نکل گئے تھے۔
یاد رہے کہ کے پی کی صوبائی حکومت کی جانب سے جاری کردہ تھریٹ الرٹ میں بتایا گیا تھا کہ طالبان کا ایک گروہ ارشد شریف کی جان کے درپے ہے جس کے بعد انہوں نے عمران خان کے مشورے سے ملک چھوڑنے کا فیصلہ کیا تھا اور محمود خان کی حکومت نے انہیں پشاور ایئرپورٹ سے دبئی نکال دیا تھا۔ 27 اکتوبر کو اپنی پریس کانفرنس میں ڈی جی آئی ایس آئی اور ڈی جی آئی ایس پی آر نے ارشد شریف کو جاری ہونے والے تھریٹ الرٹ کو مشکوک قرار دیا تھا اور بتایا تھا کہ اس حوالے سے کسی بھی خفیہ ایجنسی کو کوئی اطلاع نہیں تھی۔ لیکن اب خیبر پختونخواہ حکومت کے ترجمان بیرسٹر سیف نے دعوی کیا ہے کہ ‘تھریٹ الرٹ’ سے وزیراعلیٰ کا کوئی تعلق نہیں تھا کیونکہ یہ محکمہ انسداد دہشت گردی کی جانب سے جاری ہوا تھا۔
یاد رہے کہ رواں سال اگست کے اوائل میں ارشد شریف کو نشانہ بنانے کے لیے کالعدم تحریک طالبان کے ایک گروپ کے منصوبے کے بارے میں ایک ‘تھریٹ الرٹ’ جاری کیا گیا تھا جس کے بعد 10 اگست کو ارشد شریف نے ملک چھوڑ دیا تھا۔ ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ندیم انجم اور فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا تھا کہ سی ٹی ڈی کا خط وزیر اعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر جاری کیا گیا تھا اس لئے بتایا جائے کہ یہ لیٹر کس بنیاد پر لکھا گیا چونکہ کسی بھی خفیہ ایجنسی کو اس حوالے سے کوئی اطلاع نہیں۔ دوسری جانب صوبائی حکومت کے ترجمان بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ سی ٹی ڈی صوبائی حکومت کا فرنٹ لائن ادارہ ہے اور دہشت گردی کے خطرات سے متعلق الرٹ جاری کرنا اور دہشت گردی کے خلاف کریک ڈاؤن اس کا مینڈیٹ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ‘ہمارے وزیر اعلی محمود خان کا سی ٹی ڈی کے تھریٹ الرٹس سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ بیرسٹر سیف نے کہا کہ اس طرح کے الرٹ کا معاملہ سی ٹی ڈی کے لیے ‘معمول کی سرگرمی’ ہے، انٹیلی جنس بیورو، سی ٹی ڈی اور دیگر ایجنسیاں بھی تھریٹ الرٹ جاری کرتی ہیں۔
ترجمان نے اصرار کیا کہ جہاں تک ارشد شریف کا تعلق ہے صحافی اور ان کے اہل خانہ کو دھمکیاں مل رہی تھیں، یہ ہم نہیں کہہ رہے ہیں صحافی کے اپنے بیانات سے ہی یہ ظاہر ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر سی ٹی ڈی کا تھریٹ الرٹ غلط ہوتا تو ارشد شریف کو کینیا میں قتل نہیں کیا جاتا۔ارشد شریف کی جانب سے پاکستان چھوڑنے کے لیے باچا خان ایئرپورٹ، پشاور کے استعمال کے حوالے سے بیرسٹر سیف نے کہا کہ ایئرپورٹ اور اس کی نگرانی کرنے والے دیگر ادارے وفاقی حکومت کے کنٹرول میں ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مرکز کے پاس وفاقی تحقیقاتی ایجنسی، انسداد منشیات فورس اور کسٹمز کا انتظامی کنٹرول ہے، اگر وفاقی حکومت کو ارشد شریف کے ملک سے جانے پر کوئی اعتراض تھا تو وہ انہیں آسانی سے روک سکتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ پشاور ایئرپورٹ ایک بین الاقوامی ہوائی اڈہ ہے اور کوئی بھی اس سے سفر کر سکتا ہے۔پشاور میں مقتول صحافی کے سرکاری پروٹوکول کے بارے میں صوبائی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ صوبائی حکومت عام طور پر درخواست پر سینئر صحافی سمیت اہم شخصیات کو پروٹوکول افسران کی خدمات فراہم کرتی ہے۔انہوں نے کہا کہ پروٹوکول افسران نے ان افراد کو ایئر پورٹ پہنچنے تک سہولت فراہم کی اور ایئرپورٹ کے اندر کے معاملات وفاقی حکام کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔
خیال رہے کہ آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل نے نیوز کانفرنس میں بتایا تھا کہ کے پی حکومت نے وزیر اعلیٰ محمود خان کی ہدایت پر 5 اگست کو ایک ‘تھریٹ الرٹ’ خط جاری کیا تھا جس میں اعلان کیا گیا کہ ٹی ٹی پی سے الگ ہونے والا گروپ ‘ارشد شریف کو نشانہ بنانے کی کوشش کر رہا ہے’۔ لیفٹیننٹ جنرل بابر افتخار نے کہا تھا کہ ‘ایسی کوئی معلومات متعلقہ اداروں کے ساتھ شیئر نہیں کی گئیں، اس طرز عمل سے ظاہر ہوتا ہے کہ تھریٹ الرٹ جاری کرنے کا مقصد ارشد شریف کو ملک چھوڑنے پر مجبور کرنا تھا’۔انہوں نے مزید بتایا تھا کہ اطلاعات تھیں کہ ارشد شریف ملک چھوڑنا نہیں چاہتے لیکن انہیں یاد دلایا جاتا رہا کہ ان کی جان کو خطرہ ہے اور 10 اگست کو پشاور ایئرپورٹ سے پروز ای کے-637 کے ذریعے وہ دبئی کے لیے روانہ ہوئے۔
