ارشد شریف کے قتل کی کہانی میجر عادل راجہ کی زبانی

معروف اینکر پرسن ارشد شریف کے قاتلوں کے متعلق سوشل میڈیا پر مختلف وی لاگز وائرل ہو رہے ہیں، جنکی صداقت کے بارے میں وثوق سے کچھ نہیں کہا جا سکتا، ایسا ہی ایک وی لاگ پاکستان چھوڑ کر فرار ہو جانے والے تحریک انصاف کے سوشل میڈیا ایکٹوسٹ میجر ریٹائرڈ عادل راجہ نے بھی اپلوڈ کیا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا ہے کہ ارشد شریف کے قتل کا مشن ڈرٹی ہیری کی ٹیم کو سونپا گیا تھا۔ میجر ریٹائرڈ عادل نے وی لاگ میں دعویٰ کیا کہ یہ مشن مبینہ طور پر کائونٹر ٹیررازم کے ڈائریکٹر جنرل کے ذمہ لگایا گیا جس کا نام ایف سے شروع ہوتا ہے۔ جب اس آفیسر نے یہ ٹاسک پورا کرنے سے انکار کیا تو اسے ڈرٹی ہیری کے سپرد کیا گیا جس نے مسٹر زیڈ کو ذمہ داری سونپی۔ بالآخر اسی نے کینیا میں ارشد شریف کا کام تمام کیا۔
میجر ریٹائرڈ عادل راجہ کے مطابق ڈرٹی ہیری کی ٹیم اس ٹاسک کی تکمیل کے لیے دبئی میں موجود تھی اور اس کا ایک رکن اسی ہوٹل میں قیام پذیر تھا جس میں معروف اینکر ارشد شریف رہائش پذیر تھے، اسی ٹیم کے کہنے پر ارشد شریف کو کینیا بھیجا گیا تھا کیونکہ وہاں واردات ڈالنا زیادہ آسان تھا۔میجر عادل راجہ کے مطابق ارشد کو قتل کرنے والی ٹیم پانچ اراکین پر مشتمل تھی جس کا سربراہ بھی دبئی میں رہائش پذیر تھا، یہ ٹیم ارشد شریف کے کینیا پہنچنے سے قبل ہی وہاں پہنچ گئی تھی۔ یہاں ایک قابل غور بات جوکہ عام لوگوں کو بہت کم پتہ ہے۔ دراصل پاکستانی ف2جی اسٹیبلشمنٹ کے کینیا کے سیکیورٹی حکام کے ساتھ بہت اچھے تعلقات ہیں۔ اقوام متحدہ کے مشن کی وجہ سے یہ لوگ اکٹھے ہی رہتے ہیں، کینیا پولیس کا ایک بدنام زمانہ جنرل سروسز یونٹ ہے جس میں بہت ہی ماہر نشانے باز موجود ہیں اور کرائے کے شوٹر کا کام کرتے ہیں۔ اس یونٹ سے دنیا کے مختلف ممالک کی خفیہ ایجنسیاں بھاری رقوم دے کر اپنے کام کرواتی ہیں، عادل راجہ کے مطابق اسی یونٹ کو ارشد شریف کے قتل کا ٹاسک بھی دیا گیا تھا اور یہ تو سب ہی لوگ جانتے ہیں کہ کینیا پولیس نے تسلیم کیا ہے کہ ارشد کو اسکے جنرل سروس یونٹ کے اہلکاروں نے مارا۔
میجر عادل راجہ کے مطابق جنرل سروس یونٹ کو بتایا گیا کہ ارشد شریف پاکستان سے بھاگا ہوا دہشتگرد ہے، اور اسکی ٹارگٹ کلنگ کرنی ہے جس کے لیے ہیڈ منی بھی جاری کی گئی۔ اس آپریشن کے انچارج مبینہ طور پر اسلام آباد میں موجود تھے۔ ارشد شریف کینیا میں بھی اپنی رہائش گاہ سے زیادہ تر باہر نہیں نکلتے تھے لیکن اس ٹاسک کو مکمل کرنے کیلئے ان کو گھر سے باہر نکالا گیا۔ قتل کی رات ارشد کی واپسی کے راستے میں رکاوٹیں پلان کے تحت لگائی گئی تھیں اور ٹیم جائے وقوعہ پر کافی دیر سے ارشد شریف کا انتظار کر رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ جیسے ہی ارشد شریف واقعہ کے مقام پر پہنچے اور سڑک پر موجود پتھروں کی وجہ سے ان کی گاڑی رکی، وہاں پہلے سے موجود ایک شارپ شوٹر ان انہیں اپنے نشانے پر لے کر ختم کر دیا۔
