ارشد شریف کے میزبان بھائیوں بارے ہوشربا انکشافات

کینیا میں پراسرار حالات میں قتل ہونے والے صحافی ارشد شریف کے میزبان بھائیوں وقار احمد اور خرم احمد بارے اہم معلومات سامنے آ گئی ہیں، جن میں دونوں کی تصاویر اور ٹریول ہسٹری بھی شامل ہیں۔ ناقابل یقین بات یہ ہے کہ وقار احمد جو کہ ارشد شریف کی موت کے وقت کینیا میں موجود تھا اور اب بھی نیروبی میں مقیم ہے، اسکی ٹریول ہسٹری کے مطابق اسے اس وقت پاکستان میں ہونا چاہئے۔
وقار احمد کے والد افضال احمد کراچی کے ڈی ایچ اے فیز 6 میں رہائش پذیر تھے جو کہ ارشد شریف کے قتل کے بعد گھر چھوڑ کر کینیا چلے گئے ہیں، وقار احمد اور خرم احمد کینیا میں ارشد شریف کے میزبان تھے اور قتل کے وقت خرم احمد سینئر صحافی کو اپنی گاڑی میں لے کر جا رہا تھا۔ قتل کی تحقیقات کے لیے حکومت پاکستان کی جانب سے تشکیل دی جانے والی دو رکنی ٹیم نے کینیا پہنچ کر وقار احمد اور خرم احمد سے ابتدائی تفتیش کرلی ہے جس کے بعد یہ نتیجہ نکالا گیا ہے کہ اس افسوسناک واقعے کی گتھی سلجھانے کے لیے اے آر وائے کے مالک سلمان اقبال سے تفتیش کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ ارشد کو کینیا انہوں نے ہی بھیجا تھا اور وقار اور خرم بھی انہی کے لیے کام کرتے ہیں۔
اب تک کی معلومات کے مطابق کینیا میں کاروبارکرنے والے وقار احمد کی عمر 49 برس ہے جو کہ کینیڈا کی مستقل شہریت رکھتے ہیں، انکے پاس کینیڈین پاسپورٹ ہے لیکن وہ بزنس کینیا میں چلا رہے ہیں۔ وقار نے کمپیوٹر سائنس میں ایم ایس سی کی ہوئی ہے۔ موصوف 1992 سے 1995 کے درمیان کراچی میں فرحان بلڈرز کے نام سے کام کرتے رہے ہیں اور ماضی میں ان کا تعلق ایم کیو ایم سے بھی رہا ہے، 1995 سے 1998 تک وقار نے ہیوسٹن، امریکہ میں ملازمت کی جس کے بعد کینیا آ کر سیٹل ہو گئے، وہاں ان کا بزنس ہٹس اینڈ ہوم کے نام سے ہے، اسکے علاوہ وہ ایک انٹرٹینمنٹ پارک بھی چلاتے ہیں جس میں ایک فائرنگ رینج بھی موجود ہے جسکا نام امونیشن ڈمپ ہے،اس فائرنگ رینج میں شارپ شوٹرز کے علاوہ کینیا کی پولیس اور فوج کے افسران نشانہ بازی کی ٹریننگ بھی حاصل کرتے ہیں۔
اگر وقار احمد کی ٹریول ہسٹری پر نظر دوڑائی جائے تو وہ 18 دسمبر 2017 کو پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز فلائٹ پی کے 600 کے ذریعے کراچی آئے، لیکن حیرت انگیز طور پر وقار کے یہاں سے کینیا واپس جانے کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے۔ اس لیے ایف آئی اے کے امیگریشن حکام کا کہنا ہے کہ ان کی ٹریول ہسٹری کے مطابق وقار احمد کو اس وقت پاکستان میں موجود ہونا چاہیے۔ لیکن یہ قیاس کیا جا سکتا ہے کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ پر یہاں آئے ہوں لیکن واپس کینیڈا کے پاسپورٹ پر گئے ہوں۔ لیکن ایف آئی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگر وہ کینیڈین پاسپورٹ پر بھی واپس گئے تھے تو اس کا بھی ریکارڈ موجود ہونا چاہیے۔ بتایا جاتا ہے کہ وقار احمد کی اہلیہ شمائلہ صدیقی کا تعلق کوئٹہ سے ہے، اور ان کے دو بچے ہیں۔ ایک بیٹا 19 سالہ اسد احمد ہے جبکہ دوسرا بیٹا 16 سالہ اشعر احمد ہے۔
وقار احمد کے دو چھوٹے بھائی بھی ہیں، ایک کا نام خرم احمد، اور دوسرے کا آصف احمد ہے، ارشد شریف کے قتل کے وقت ان کے ساتھ گاڑی میں موجود خرم کینیا میں ہی اپنے بھائی وقار کے ساتھ کاروبار سنبھالتے ہیں جبکہ ان کے سب سے چھوٹے بھائی آصف احمد کینیڈا کے رہائشی ہیں، اور وہاں کی مستقل شہریت رکھتے ہیں۔ان کی ایک بہن مریم اسحاق ملائیشیا میں سیٹل ہیں۔خرم احمد کی عمر 47 سال ہے۔ ان کی شادی نوین احمد سے ہوئی، انکے دو بیٹے میکائل اور روحیل ہیں، خرم احمد پہلی مرتبہ پانچ جولائی 2012 کو کینیا گئے اور بھائی کے ساتھ کاروبار سنبھال لیا۔ خرم پاکستان آتے جاتے رہتے ہیں، لیکن ان کا یہاں قیام بہت مختصر ہوتا ہے، اگر رواں برس کا ریکارڈ دیکھا جائے تو خرم احمد 8 اپریل 2022 کو کراچی آئے اور 10 اپریل کو واپس چلے گئے، اسکے بعد وہ 13 مئی 2022 کو پاکستان آئے اور 17 مئی کو واپس چلے گئے، پھر وہ 6 اگست 2022 کو پاکستان آئے اور 19 اگست کو واپس چلے گئے، پھر خرم نے 3 اکتوبر 2022 کو کراچی ائیرپورٹ پر لینڈ کیا اور 7 اکتوبر کو واپس چلے گئے۔ یعنی 10 اگست 2022 کو جب ارشد شریف پشاور سے دبئی کے لیے روانہ ہوئے تو تب خرم احمد کراچی میں موجود تھے اور ہو سکتا ہے کہ سلمان اقبال نے ان کو ارشد شریف سے متعارف بھی کرایا ہو، ارشد 23 اکتوبر کو قتل ہوئے جس سے 16 روز قبل خرم کراچی میں تھے، خرم کے زیادہ تر رشتہ دار اسلحہ ڈیلر کا کاروبار کرتے ہیں۔
خرم کے والد افضال احمد کا تعلق سیالکوٹ سے ہے، جبکہ ان کی والدہ شاہین افضال حیدرآباد سے تعلق رکھتی ہیں، کینیا میں ان لوگوں کی فائرنگ رینج اس قدر مشہور ہے کہ اہم شخصیات ان کی رینج میں اکثر آتی ہیں، بتایا جاتا ہے کہ نشانہ بازی کی ٹریننگ دینے کے لئے اس فائرنگ رینج میں ٹرینر بھی غیرملکی رکھے گئے ہیں۔ اسکے علاوہ فوجی اور نیم فوجی اداروں سے بھی لوگ اس فائرنگ رینج میں تربیت لینے آتے ہیں۔ لہذا ارشد شریف کے قتل کی تحقیقات کرنے والوں کا کہنا ہے کہ کینیا میں فائرنگ رینج چلانے والا کوئی معمولی شخص نہیں ہو سکتا، اور اس کا یقینی طور پر کافی اثر و رسوخ ہوگا، یہ تحقیقات بھی کی جارہی ہیں کہ کیا اس فائرنگ رینج کے اصل مالک وقاراحمد ہیں یا پھر اے آر وائی کے مالک سلمان اقبال ہیں۔ وقار احمد اور خرم احمد کا سلمان اقبال سے گہرا کنکشن کراچی سے ہے، سلمان اقبال نے ہی ان کا تعارف ارشد شریف سے کرایا تھا اور یقین دہانی کرائی تھی کہ یہ لوگ آپ کی دیکھ بھال کریں گے، اب سلمان اقبال نے بھی ارشد شریف کے حوالے سے ایک تحریر جاری کی ہے جس میں انھوں نے کہا ہے کہ اپنے دوست کی مدد کرنا کب سے جرم ہو گیا ہے. انہوں نے کہا کہ ارشد شریف کے لیے پاکستان کی زمین تنگ کر دی گئی تھی اس لیے میں نے بطور دوست اس کو بیرون ملک بھجوایا تھا جہاں ان کا قتل ہو گیا۔ تاہم انہوں نے ارشد شریف قتل کیس کی تحقیقات میں تعاون کے لیے پاکستان واپس آنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
