ارشد ملک کی نواز شریف سے معافی مانگنے کے بیان پر اسٹیبلشمنٹ پریشان

مریم نواز شریف کی جانب سے ٹوئٹر پر یہ پیغام جاری ہونے کے بعد اسٹیبلشمنٹ کے حلقوں میں کھلبلی مچ گئی ہے کہ جج ارشد ملک نے اپنی وفات سے پہلے میاں نواز شریف سے معافی مانگ کر اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کر لیا تھا۔ یاد رہے کہ چار دسمبر کے روز نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کا اچانک انتقال ہو گیا تھا۔
اپوزیشن کی سب سے بڑی جماعت مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے انکشاف کیا ہے کہ سابق جج ارشد ملک جاتے جاتے نواز شریف سے معافی مانگ کر اپنے ضمیر کا بوجھ ہلکا کرگئے ہیں۔ سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری بیان میں مریم نواز نے اپنے والد نواز شریف کو سزا سنانے والی احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک کے انتقال پر ردعمل کا اظہار کیا۔ تاہم مریم کے اس بیان کے بعد سے جو حلقے سب سے زیادہ پریشان ہیں ان کا تعلق اسٹیبلشمنٹ سے ہے اور وہ یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ کیا جج ارشد ملک نے نواز شریف سے واقعی معافی مانگی تھی اور اگر ایسا ہوا تھا تو کب اور کہاں ہوا تھا۔ اسٹیبلشمنٹ کے حلقے یہ جاننے کی کوشش بھی کر رہے ہیں کہ کہیں نواز شریف کے پاس ارشد ملک کا کوئی ایسا ویڈیو بیان تو موجود نہیں جو ان کے بڑوں کے لئے کوئی بڑی پریشانی کھڑی کر دے۔ یاد رہے کہ جج ارشد ملک کا اعترافی ویڈیو بیان جاری کرنے والے مسلم لیگی رہنما ناصر بٹ پہلے ہی یہ دعوی کر چکے ہیں ان کے پاس مذید ایسی ویڈیوز بھی موجود ہیں جن میں مرحوم جج نے ایسے جرنیلوں اور ججوں کے نام لیے ہیں جن کے دباؤ میں آ کر انہوں نے نواز شریف کو سزا سنانے کا فیصلہ دیا تھا۔
جج ارشد ملک کی وفات پر مریم نواز نے ایک ٹوئٹر پیغام جاری کرتے ہوئے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھی اور پھر لکھا کہ وہ وہاں چلے گئے ہیں، جہاں ہم سب کو جانا ہے۔ مریم نے مزید کہا کہ اللّٰہ نے ارشد ملک کو توفیق دی کہ وہ جاتے جاتے نواز شریف سے معافی مانگ کر اپنے ضمیر کا بڑا بوجھ ہلکا کرگئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ارشد ملک ساتھ ہی یہ بھی بتاگئے کہ انہیں کس نے نواز شریف کو جھوٹی سزا دینے کےلیے بلیک میل اور استعمال کیا تھا۔ ایک اور پیغام میں مریم نواز نے کہا کہ اللّٰہ ارشد ملک صاحب کی بخشش فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے ( آمین)انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ ان لوگوں کے لیے سبق ہے، جو ظالم بھی ہیں اور اقتدار اور طاقت کے نشے میں اندھے بھی ہیں۔
مریم نے ایک اور ٹویٹر پیغام میں استفسار کیا کہ ارشد ملک اپنے اعترافات اور انکشافات کے ڈیڑھ سال بعد فوت ہوئے۔ اس دوران نواز شریف کو انصاف نہ ملنے کا ذمے دار کون ہے؟ مریم نے کہا کہ سب جانتے ہیں کن لوگوں کو نوازشریف کو اشتہاری قرار دلانے کی جلدی تھی، انہوں نے یہ سواک بھی کیا کہ اس کیس کی سزا سنانے والے جج کے اعترافی ویڈیو بیان پر ایک دن بھی سماعت کیوں نہیں ہوئی؟ مریم نے ایک اور پیغام میں سوال اٹھایا کہ 3 بار کے وزیراعظم کو مفرور قرار دے دیا گیا لیکن نواز شریف کے خلاف عدالتی سازش پر کوئی کمیشن کیوں نہیں بنایا گیا؟ انہوں نے استفسار کیا کہ بہت کچھ بتانے کے لئے تیار شخص ارشد ملک کی موت کا انتظار کیوں کیا گیا؟
سابق وزیراعظم کی صاحبزادی نے اپنے پیغام میں یہ بھی کہاکہ میرا سادہ سوال یہ ہے کہ انصاف کے قتل کی ذمہ داری کس پر ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ اس سازش کا انکشاف اور اعتراف کرنے والا کردار اب اس دنیا میں نہیں، اب یہ مطالبہ زور پکڑے گا کہ آزاد اور بہادر ججوں پر مشتمل کمیشن اس کی تحقیقات کرے تاکہ عوام حقائق جان سکیں، اور وہ دن دور نہیں انشاءاللّٰہ یہ ہو کر رہے گا!
یاد رہے ارشد ملک نے بطور احتساب عدالت کے جج سابق وزیراعظم نواز شریف کو سزا سنائی تھی۔ انہوں نے 24 دسمبر 2018 کو العزیزیہ سٹیل ملز ریفرنس میں نواز شریف کو سات سال قید کی سزا دی تھی جبکہ فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں انہیں باعزت بری کیا تھا۔ نواز شریف کو سزا سنائے جانے کے بعد جج ارشد ملک کا ویڈیو سکینڈل سامنے آیا تھا جس میں وہ ن لیگ کے کارکن ناصر بٹ سے گفتگو کرتے دیکھے گئے۔ مریم نواز نے ارشد ملک کی ویڈیو پریس کانفرنس میں دکھا کر الزام عائد کیا تھا کہ نواز شریف کو سزا جج پر دباؤ ڈال کر سنائی گئی۔ جبکہ جج ارشد ملک نے ویڈیو کو جعلی قرار دیا تھالیکن ارشد ملک جھوٹے ثابت یوئے اور الزامات ثابت ہونے پر لاہور ہائیکورٹ کی انضباطی کمیٹی نے کو بطور جج برطرف کر دیا تھا۔ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ کی سربراہی میں قائم 7 رکنی انتظامی کمیٹی کے اجلاس میں جج ارشد ملک کی برطرفی کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن ان کی طرف سے نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا ابھی تک برقرار ہے۔
