ارطغرل غازی کی حلیمہ کے مختصر لباس پر بڑا تنازعہ

”ارطغرل غازی“ نے ماضی کے ترک ڈراموں ”عشق ممنوع“ اور ”میرا سلطان“کے ریکارڈ توڑتے ہوئے پاکستانی مردوں کو ایک بار پھر خوبصورت اداکاراؤں کے سحر میں مبتلا کر دیا ہے۔ ترک ڈراموں میں دکھائی جانے والی دلیر خواتین پاکستانی اور بھارتی ٹی ڈراموں کی روایتی عورتوں کی طرح رونے دھونے کی بجائے اپنے حق کے لئے ڈٹ جاتی ہیں۔
یوں توسلطنت عثمانیہ کے صدیوں پر محیط دور کے کئی کردار آپ اس سیریز میں دیکھ رہے ہیں لیکن جو رنگ ترک اداکارہ اور ماڈل اِسریٰ بلگک نے حلیمہ سلطان کے کردار میں جمایا ہے، اس کا کوئی توڑ نہیں۔ اِسریٰ ترکی میں کتنی پاپولر ہیں؟ اس کا اندازہ ان کے انسٹاگرام اکاؤنٹ سے لگایا جا سکتا ہے، جس کے مطابق ان کے 2.3 ملین فالورز ہیں۔ ہر مشہور ایکٹرس کی طرح وہ بھی سوشل میڈیا پر آئے دن اپنی تصاویر پوسٹ کرتی رہتی ہیں، جنھیں ان کے فینز بے حد سراہتے ہیں لیکن اِسریٰ شاید یہ نہیں جانتیں کہ اب ان کے فینز میں پاکستانی مردوں کا اضافہ بھی ہو چکا ہے۔ وہ بیچاری تو یہ بھی نہیں جانتی ہوں گی کہ ہمارے معاشرے میں مردوں کی اکثریت جو سوچ رکھتی ہے، وہ اچھی بھلی خواتین کو گھما کر رکھ دیتی ہے، کچھ ایسا ہی انھوں نے اِسریٰ کے معاملے میں کیا۔
یہ جانے بنا کہ وہ ایک ایکٹرس ہیں اور ”ارطغرل غازی“ میں محض حلیمہ سلطانہ کا کردار نبھا رہی ہیں، سوشل میڈیا پر پاکستانی مردوں نے اسری کے کردار اور لباس کو ہدفِ تنقید بنانا شروع کر دیا ہے خصوصا جب سے یہ ڈرامہ پی ٹی وی پر نشر ہونا شروع ہوا ہے۔ ایک صارف نے تو انھیں حجاب پہننے کا مشورہ ہی دے ڈالا۔ دراصل ہمارے مرد حلیمہ کے کردار میں اتنے کھو گئے ہیں کہ وہ اِسریٰ کی اصل پہچان تسلیم کرنے کے لئے تیار ہی نہیں۔ ان مرد حضرات کی عجیب منطق یہ یے کہ اِسریٰ نے ڈرامے میں جو کردار نبھایا ہے، انھیں اپنی حقیقی زندگی میں بھی اس طرح نظر آنا چاہیئے۔ اِسے اِسریٰ کے لئے ان کے پاکستانی فینز کی محبت کہہ لیں یا ضرورت سے زیادہ جذباتی پن لیکن یہ بات طے ہے کہ وہ انھیں اپنے اصل روپ میں دیکھ کر کافی اپ سیٹ ہیں۔
ایک صارف نے تو مصطفیٰ کمال اتاترک کو بھی نہیں بخشا اور لکھا ہے کہ کہ یہ سب ان کی وجہ سے ہوا، نہ وہ ترکی کو یورپ کی طرح مادر پدر آزاد اور ماڈرن معاشرہ بناتے اور نہ وہ آج اِسریٰ کو اتنے مختصر لباس میں دیکھتے۔ تاہم ایک صارف کی رائے تھی کہ ہماری عورتیں تو مردوں کے اس قسم کے رویؤں کی عادی ہیں لیکن اِسریٰ کے لئے شاید یہ سب نیا ہو۔ ستائیس سالہ اِسریٰ ترکی کی معروف ماڈل اور ایکٹرس ہیں۔ انٹرنیشنل ریلیشنز میں گریجوایشن کرنے کے بعد وہ اس فیلڈ میں آئیں، آج کل وہ استنبول کی ایک یونیورسٹی سے لاء پڑھ رہی ہیں۔ ٹی وی سیریز ”ارطغرل غازی“ میں انھوں نے 2014 سے 2018 تک کام کیا جبکہ آج کل وہ ایک کرائم سیریز ”ریمو“ میں کام کر رہی ہیں۔ اپنے کیریئر کی طرح وہ پرسنل لائف میں اتنی کامیاب نہیں رہیں۔ 2014 میں وہ فٹبال کے ایک پلیئر طوری کے عشق میں گرفتار ہوئیں اور 2017 میں دونوں شادی کے بندھن میں بندھ گئے مگر یہ شادی بمشکل دو سال چلی اور 2019 میں دونوں کی علیحدگی ہو گئی۔
ہر فنکار کی پرسنل زندگی اس کی پروفیشنل زندگی سے الگ ہوتی ہے، وہ کسی فلم، ڈرامے یا تھیٹر میں جو کردار نبھاتے ہیں، ان کا فنکاروں کی حقیقی زندگی سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ ہاں یہ ضرور ہے کہ کچھ فنکار اپنے کردار میں اتنا ڈوب جاتے ہیں کہ ان کے فینز انھیں کسی اور روپ میں دیکھ ہی نہیں پاتے۔ اور کچھ ایسا ہی اسریٰ کے ساتھ ہوا ہے جسے لوگ حلیمہ سلطان کے روپ میں دیکھنے کے بعد اب مختصر لباس میں نہیں دیکھ سکتے۔
