ارطغرل نہیں، ایک اورتاریخی ڈراما بنارہے ہیں

پاکستان کے نامور مصنف و ہدایت کار خلیل الرحمٰن قمر نے چند روز قبل اعلان کیا تھا کہ وہ ‘ارطغرل غازی’ جیسے ایک ڈرامے کا اسکرپٹ لکھ رہے ہیں اور اس حوالے سے انہوں نے ہمایوں سعید سے بات بھی کرلی ہے۔
خلیل الرحمٰن قمر کا کہنا تھا کہ وہ کئی سالوں سے ہمایوں سعید سے اس قسم کے ڈرامے پر کام کرنے کے حوالے سے بات کررہے تھے اور اب انہوں نے اس کا اسکرپٹ لکھنا بھی شروع کردیا ہے۔اور اب اداکار ہمایوں سعید نے بھی اس خبر کی تصدیق کرتے ہوئے اعلان کیا کہ وہ ایک تاریخی ڈراما بنانے جارہے ہیں۔ ہمایوں سعید کا کہنا تھا کہ 2 سال قبل انہوں نے ‘ارطغرل غازی’ دیکھا تھا اور اس وقت یہ ضرور سوچا تھا کہ وہ بھی ایسا تاریخی ڈراما بنائیں گے۔
ہمایوں سعید کے مطابق اب جبکہ یہ ڈراما پی ٹی وی پر نشر کیا جارہا ہے اور کامیاب ثابت ہورہا ہے تو وہ ضرور ایک تاریخی ڈرامے پر کام کریں گے۔ہمایوں سعید نے بتایا کہ خلیل الرحمٰن قمر اس ڈرامے کا اسکرپٹ تحریر کریں گے جبکہ اے آر وائے کے مالک سلمان اقبال اسے پروڈیوس کریں گے۔ویسے تو اب تک کچھ فائنل نہیں ہوا البتہ ہمایوں سعید کا ماننا ہے کہ یہ پاکستان کا سب سے گرینڈ ڈراما ہوگا۔
خیال رہے کہ سوشل میڈیا پر یہ قیاس آرائیاں بھی سامنے آئیں کہ پاکستان میں ترک ڈرامے ‘ارطغرل غازی’ کی بڑھتی مقبولیت کے بعد ہمایوں سعید یا شوبز انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے کچھ اداکار اس ڈرامے کا ریمیک بنا رہے ہیں۔
البتہ ہمایوں سعید نے واضح کیا کہ وہ ‘ارطغرل غازی’ کا ریمیک نہیں بنارہے، ان کا ڈراما بھی تاریخ پر مبنی ہوگا لیکن ‘ارطغرل غازی’ کا ریمیک نہیں ہوگا۔
خیال رہے کہ جہاں ترک ڈراما پاکستان کے عوام کے درمیان کافی مقبول ہورہا ہے وہیں چند ایسے بھی لوگ ہیں جو اس کی تشریات کے خلاف نظر آئے۔
اداکار شان شاہد نے حال ہی میں ٹوئٹر پر ‘ارطغرل غازی’ کو پی ٹی وی پر نشر کرنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا تھا جبکہ وزیر اعظم عمران خان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اپنے ٹیلنٹ اور اپنی تاریخ کی تشہیر کریں۔
جس کے بعد خلیل الرحمٰن قمر نے ناپسندیدگی کا اظہار کرنے والوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ’مقامی ہیرو کا ڈراما ہونا چاہیے کا کیا مطلب ہے؟ کیا ہم ہمایوں سعید، معمر رانا اور شان پر ڈراما بنائیں؟ مسلمان دنیا میں کہیں بھی ہوں ان کا ہیرو ایک ہی ہوگا، جو ہماری تاریخی ہیروز ہیں وہ ہم سب کے ہیرو ہیں‘۔
خیال رہے کہ پاکستان میں کئی سال سے ترکی کے مختلف ڈراموں کو اردو ڈبنگ کے ساتھ چینلز پر نشر کیا جارہا ہے لیکن جو مقبولیت ‘ارطغرل غازی’ کو ملی ہے، اس کی مثال نہیں ملتی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button