ارطغرل کا کردار عمران خان کے زیادہ قریب ہے یا مریم نواز کے

اس حقیقت سے قطع نظر کہ پی ٹی وی پر دکھائے جانے والے مشہور ترکش ڈرامے ارطغرل غازی کے مختلف کردار آج کے دور میں کہیں فٹ ہوتے ہیں یا نہیں، مختلف سیاسی نظریات رکھنے والے ناظرین اس ڈرامے کے کرداروں میں پاکستان کی سیاسی شخصیات کو ڈھونڈتے نظر آتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر صارفین سوشل میڈیا پر یہ بحث کر رہے ہیں کہ کون سا پاکستانی سیاستدان ارطغرل کے کردار کے قریب تر یے اور اسکی صحیح عکاسی کرتا ہے۔ اگر ایک جانب پی ٹی آئی کے حمایتی ارطغرل کے کردار کو عمران خان سے تشبیہ دے رہے ہیں تو دوسری جانب ن لیگ کے حمایتیوں نے مریم نواز کا موازنہ ارطغرل کے کردار سے شروع کردیا ہے۔
کرونا وائرس کے حملے کے بعد سے پاکستان میں سینیما گھر بند ہیں، تفریحی مقامات ویران پڑے ہوئے ہیں مگر ترکش ڈرامے ارطغرل غازی کے یوٹیوب چینل پر ایک نظر ڈالنے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ پاکستانیوں کو شاید ان مشکل حالات میں اپنی بوریت مارنے کا بہانہ مل گیا ہے۔ ’ٹی آر ٹی ارطغرل بائی پی ٹی وی‘ نامی یوٹیوب چینل کو اب تک 25 لاکھ سے زائد صارفین سبسکرائب کر چکے ہیں۔ پی ٹی وی پر یہ ڈرامہ شروع ہونے کے چند ہفتوں کے اندر ہی ارطغرل اور حلیمہ کے کردار پاکستانی ناظرین کے پسندیدہ ترین ہوچکے ہیں اور ان کے دلوں میں بسیرا کر چکے ہیں اور کرداروں کے مداحوں میں آئے روز اضافہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔
ان حالات میں سوشل میڈیا پر صارفین ڈرامے کے کرداروں اور اسکی کہانی کے حوالے سے بڑھ چڑھ کر تبصرے کرتے دکھائی دے رہے ہیں۔ معاشرے کے ایک بڑے طبقے میں وزیراعظم کے احکامات پر پی ٹی وی پر نشر ہونے والے اس ڈرامے کی واہ واہ ہورہی ہو۔ ایسے میں یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ پاکستانی سیاستدان سوشل میڈیا پر ہونے والی اس بحث میں اپنا حصہ نہ ڈالیں۔ اس بات سے تو سب واقف ہیں کہ اس ڈرامے کے مداحوں میں وزیراعظم عمران خان کو بھی گنا جاتا ہے جو اس میں دکھائی گئی افسانوی ’اسلامی تہذیب‘ کے مداح ہیں۔
تاہم اس ڈرامے کے حوالے سے سوشل میڈیا صارفین کے مابین بحث میں تب تیزی آگئی جب پاکستان مسلم لیگ ن سے تعلق رکھنے والی صوبائی اسمبلی کی رکن حنا پرویز بٹ نے اپنی رائے دینے کے لیے سوشل میڈیا کا رخ کر لیا۔ حنا پرویز نے اپنی قائد مریم نواز کی قائدانہ صلاحیتوں کا اعتراف کرتے ہوئے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ’ارطغرل ڈرامہ دیکھ کر مجھے خیال آیا کہ مریم نواز بھی انھی خوبیوں کی مالک ہیں جو اس کردار میں دکھائی گئی ہیں۔‘ اس ٹویٹ کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایک طوفان برپا ہو گیا۔ مسلم لیگ ن کے لوگ جہاں ڈرامے کے ہیرو کو اپنی قائد سے جوڑے جانے پر بے حد خوش نظر آئے وہیں کچھ دل جلوں نے مریم نواز کا الطغرل سے موازنہ کرنے پر حنا بٹ کو کھری کھری سنا دیں۔ ان دل جلوں کو جواب دیتے ہوئے آنا پرویز نے ایک اور ٹویٹ کی اور لکھا کہ میری ٹوئٹ پر جن لوگوں کو مرچی لگی ہیں میں ان کا دکھ جانتی ہوں لیکن ابھی تو ان کو اور بھی بڑے دکھ جھیلنا ہوں گے جب مریم نواز ملک کی اگلی وزیراعظم بنے گیں۔
تاہم نواز لیگ کے علاوہ دیگر سیاسی جماعتوں کے ووٹرز بھی اپنے قائدین کا ارطغرل سے موازنہ کرتے ہوئے ان کے قصیدے پڑھتے نظر آتے ہیں۔ وہ ارطغرل ڈرامے کے مختلف کرداروں میں موجودہ سیاسی شخصیات کو ڈھونڈ رہے ہیں۔ مگر ذیادہ تر صارفین صرف اس بات میں دلچسپی لینے لگے ہیں کہ کون سا سیاسی قائد ارطغرل غازی کی صحیح عکاسی کرتا ہے؟
صحافی اور اینکر پرسن فریحہ ادریس نے ٹوئٹر کے صارفین سے اس سوال پر ان کی رائے طلب کر ڈالی اور انتخاب کرنے کے لیے عمران خان اور مریم نواز کے علاوہ پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئر مین بلاول بھٹو کا نام بھی شامل کر دیا۔ بعد ازاں ثاقب نامی ایک صارف نے ٹویٹس کا ایک سلسلہ شائع کیا جس میں ڈرامے کے مختلف کردار جیسا کہ کُردوگلو، کارا توئے غار اورگوندودلو کی تصاویر کے ساتھ پاکستانی سیاستدانوں کی تصاویر لگائیں۔ثاقب نے لکھا کہ یہ وہ سیاستدان ہیں جو اس ڈرامے کے کرداروں سے شکل اور صورت میں نہیں بلکہ عادات و سکنات میں مشابہت رکھتے ہیں۔
ڈان اخبار سے منسلک صحافی عباس ناصر نے عمران خان کی تحریک انصاف کے رہنماؤں کی جانب سے ڈرامے کی حمایت اور حنا پرویز بٹ کی حالیہ ٹویٹ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے مزاحیہ انداز میں لکھی ایک ٹویٹ شیئر کی۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ارطغرل نے عمران خان اور مریم نواز کو ایک صفحے پر لانے میں مدد کی اور اب یہ ڈرامائی کردار پاکستانیوں کو اکٹھا کررہا ہے۔‘
اپنے واحیات بیانات کی وجہ سے میڈیا کی شہ شرخیوں میں رہنے والے وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے سیاسی مواصلات شہباز گِل نے بھی ارطغرل ڈرامے سے متعلق عوام کو اپنی رائے سے آگاہ کیا۔ انہوں نے غالبا نواز شریف کی طرف اشارہ کرتے ھوئے یہ لکھا کہ ڈرامے میں دکھایا گیا ہے کہ غدار پہلے حکومتی نظم و نسق چلاتے تھے لیکن جیسے ہی حالات خراب ہوتے یا ان کا احتساب ہونے کے قریب آتا تو وہ دشمنوں کے پاس پناہ لیتے۔آج بھى کچھ لوگ اور خاندان بھاگ کر دوسرے ملک جا بیٹھے ہیں!
تحریک انصاف کے حمایتیوں نے جہاں سابق وزیر اعظم نواز شریف سے اس ٹویٹ کے تانے بانے جوڑے وہیں سعود نامی ایک صارف نے لکھا کہ ’یہاں شاعر پرویز مشرف کو طعنے مار رہا ہے۔‘
پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ اس بحث میں نہیں پڑیں کہ ارطغرل کے کردار میں کس سیاسی شخصیت کی جھلک کو دیکھا جاسکتا ہے۔تاہم انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر چند سوال اٹھائے کہ پاکستان ٹیلی وژن آخر ایک ترک ڈرامہ کیوں دکھا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسے نجی چینیلز پر بھی تو دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان ٹیلی وٰژن کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں مقامی تاریخ اور ٹیلنٹ کو فروغ دینا چاہیے۔‘

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button