ازلی دشمن بھارت کا افغان طالبان سے دوستی کا فیصلہ

ماضی میں افغان طالبان کے ساتھ سفارتی روابط تک نہ رکھنے والے بھارت نے امریکہ اور طالبان کے امن معاہدے کے بعد اپنی پالیسی میں تبدیلی لا کر افغان طالبان سے قربت اختیار کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ماضی میں بھارت نے افغان طالبان سے اس لیے روابط نہ رکھے کہ ایک تو پاکستان انکی پشت پناہی کرتا تھا اور دوسرا یہ کہ طالبان کشمیری مجاہدین کے بھی حمایتی ہیں۔ یاد ریے کہ 2001 میں افغان طالبان کے اقتدار کے خاتمے کے بعد ہی بھارت نے افغانستان میں پانچ سال کے وقفے کے بعد اپنا سفارتی عملہ بھیجا تھا کیونکہ انڈیا نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا تھا۔
تاہم اب خطے کے بدلتے ہوئے حالات کے پیش نظر امریکہ اور افغان طالبان کے امن معاہدے کے بعد بھارتی حکومت نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ افغان طالبان کے ساتھ معاملات کو بہتر بنایا جائے۔ یہ بھی سب جانتے ہیں کہ طالبان عنقریب افغانستان کی سیاست اور اقتدارمیں واپس آ سکتے ہیں۔ افغانستان کےلیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد نے بھارتی اخبار کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بھارت کو طالبان کے ساتھ براہ راست بات کرنی چاہیے۔ یہ شاید پہلا موقع ہے کہ کسی امریکی اہلکار نے بھارت کو طالبان کے ساتھ بات چیت کرنے کی پیشکش کی ہو۔ بھارت خطے میں وہ واحد ملک ہے، جس کے طالبان کے ساتھ باضابطہ رابطے نہیں ہیں۔
افغانستان پر تین کتابیں لکھنے والے امریکی مصنف برنیٹ آر ریوبن کے مطابق زلمے خلیل زاد نے یہ نہیں کہا ہے کہ بھارت طالبان کو افغان حکومت کے متوازی قبول کرلے بلکہ جس طرح باقی ممالک کے طالبان اور دوسرے دھڑوں کے ساتھ رابطے ہیں اسی طرح بھارت بھی طالبان کے ساتھ رابطہ کرلیں اور اُنہیں اسلحہ پھینکنے کے لیے اور عملی سیاست میں آنے کو کہیں۔ ریوبن کے مطابق ’اب جب طالبان افغان پولیٹیکل سسٹم میں داخل ہورہے ہیں تو یہ بھارت کےلیے اچھا ہوگا کہ وہ اُن کے ساتھ رابطے میں رہے، ایسے ہی جیسے وہ جمعیت اسلامی، جنرل دوستم یا پھر پشتون قوم پرستوں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔‘ ریوبن کے مطابق بھارت کی طالبان پالیسی پہلے ہی تبدیل ہوچکی ہے، جب اُنہوں نے نومبر 2018 میں ماسکو میں ہونے والی بین الافغان کانفرنس میں دو سابق سفارتکار بھیجے تھے۔ اگرچہ بھارتی وزارت خارجہ نے اُس وقت کہا تھا کہ یہ دو سفارتکار ’نان آفیشل‘ طور پر اس کانفرنس میں شریک ہورہے ہیں۔
دوسری طرف افغان طالبان کے ترجمان سہیل شاہین کا کہنا ہے کہ طالبان کا سیاسی دفتر اسی لیے بنایا گیا ہے کہ دنیا کے ممالک کے ساتھ اُن کی پالیسی شئیر کریں۔ ’جو بھی ہم سے رابطہ کرے گا ہم اُنہیں اپنی حالیہ اور مستقبل کی پالیسی کے بارے میں آگاہ کریں گے۔‘
سابق بھارتی سفیر گوتم کے مطابق بھارت نے آج تک طالبان کو ریجیکٹ نہیں کیا ہے البتہ اُن سے رابطے میں نہیں رہے ہیں۔ گوتم کے مطابق طالبان کی بھارت سے بات چیت سے پہلے افغان حکومت سے بات کرنی چاہیے اور اُنہیں ماننا چاہیے۔ ’میں انڈین حکومت کی نمائندگی سے بات نہیں کر رہا لیکن اتنا کہوں گا کہ طالبان کو بھارت سے پہلے افغان حکومت کو تسلیم کرنا چاہیے اور اُن سے بات کرنی چاہیے۔‘
بھارت میں سابق افغان سفیر شیدا محمد ابدالی کے مطابق بھارت خطے میں افغانستان کا وہ قریبی اور مخلص دوست ملک ہے جو اگر طالبان سے رابطے میں بھی رہے تو دیگر ممالک کے برعکس اپنے مفادات سے زیادہ افغان حکومت کے مفادات کو دیکھے گا۔ ان کے مطابق ’اگرچہ ابھی تک یہ واضح نہیں کہ بھارت کن شرائط پر طالبان سے بات کرنے پر رضامند ہوتا ہے لیکن بھارت اور افغانستان کی دوستی کو دیکھتے ہوئے یہ کہہ سکتا ہوں کہ وہ اگر بات کرتے بھی ہیں تو افغان حکومت کی ہم آہنگی سے کریں گے۔‘
افغانستان میں ایک جانب اگر بھارت نے دو بلین ڈالر سے زیادہ کی سرمایہ کاری کی ہے تو دوسری جانب پاکستان کے سابق جہادی لیڈروں اور طالبان کے ساتھ کسی بھی دوسرے ملک سے اچھے اور دوستانہ تعلقات ہیں۔ بعض پاکستانی تجزیہ کار سمجھتے ہیں کہ سابق مجاہدین اور طالبان افغانستان میں پاکستان کے مفادات کا ہر ممکن دفاع کرسکتے ہیں۔
لیکن مصنف برنیٹ آر ریوبن کے خیال میں اگر پاکستان یہ سوچتا ہے کہ افغانستان میں طالبان پاکستان کے مفادات کا دفاع کریں گے تو یہ پاکستان کی بڑی بھول ہوگی۔ اُن کے مطابق طالبان نے مجبوری کے عالم میں پاکستان میں پناہ لی تھی اور جوں جوں وہ واپس افغانستان میں مرکزی دھارے میں شامل ہوجائیں گے، اُن کا پاکستان پر انحصار کم ہوتا جائے گا۔
