استاد کے مبینہ تشدد سے طالب علم جاں بحق

لاہور کے علاقے ہیر میں 9 سالہ گلفام مدرسے کے قاری کے بہیمانہ تشدد کا شکار ہو گیا۔ گلفام زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گیا۔ گلفام مدرسہ میں قران پاک حفظ کر رہا تھا جب کہ رہائش جھگی میں تھی۔ گلفام کا والد محنت مزدوری کرتا ہے جب کہ والدہ کا انتقال چار سال پہلے ہوچکا تھا اور پولیس نے فرسٹ انفارمیشن رپورٹ (ایف آئی آر) بھی درج کردی۔
پولیس کے مطابق لواحقین نے بتایا کہ برکی کے علاقے میں 9 گلفام علی پر مدرسے کے قاری بلال اور شعیب نے تشدد کیا جنہیں تشویش ناک حالت میں اسپتال منقتل کیا گیا جہاں وہ دم توڑ گئے۔
ایس پی کینٹ لاہور فرقان بلال کا کہنا تھا کہ بچے کی لاش کو اسپتال سے مردہ خانہ منتقل کردیا گیا اور مقدمہ درج کرکے مبینہ ملزمان کے خلاف کارروائی کی جارہی ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچے کے والد نے کہا کہ 9 سالہ گلفام علی مدرسے میں زیر تعلیم تھا جہاں سے قاری بلال نے فون کرکے ان کی طبیعت خراب ہونے کی اطلاع دی جب میں پہنچا تو وہ دم توڑ چکے تھے۔
انہوں نے کہا کہ میں اپنی مدد آپ کے تحت گلفام کو برج ہیلتھ اسپتال بھٹہ چوک پہنچایا لیکن وہ تشدد سے انتقال کرچکا تھا۔
کم سن طالب علم کے والد نے پولیس سے درخواست کرتے ہوئے کہا کہ ‘قاری بلال اور قاری شعیب نے میرے بچے پر تشدد کرکے انہیں ناحق قتل کردیا لہٰذا انصاف دلایا جائے’۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق لواحقین نے لاہور کے رنگ روڈ پر ٹائر جلا کر احتجاج کیا اور ٹریفک بھی بلاک کردی، انہوں نے مبینہ تشدد کرنے والے دونوں افراد کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button