استعفے دینے والے عمرانڈو جج بھی اب پیشیاں بھگتیں گے؟

سپریم کورٹ کے بندیالی ہم خیال گروپ سے تعلق رکھنے والے دو سینیئر ججوں نے اپنی مدمت ملازمت پوری ہونے سے قبل ہی اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ مستعفی ہونے والے جج سید مظاہر علی اکبر نقوی کے خلاف مبینہ بدعنوانی کے الزامات پر سپریم جوڈیشل کونسل میں کارروائی جاری ہے جبکہ مستعفی ہونے والے دوسرے جج جسٹس اعجاز الاحسن نے اپنے استعفے میں اُن وجوہات کا ذکر نہیں کیا جن کی بنا پر وہ مستعفی ہوئے ہیں۔
خیال رہے کہ پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ میں عمومی طور پر یہ روایت رہی کہ اگر کسی جج کے خلاف مِس کنڈکٹ یا بدعنوانی کے الزامات عائد ہوتے ہیں اور الزامات ثابت ہونے سے قبل ہی متعلقہ جج مستعفی ہو جائے تو اُس کے خلاف شکایات پر مزید کوئی کارروائی نہیں کی جاتی اور کیس داخل دفتر ہو جاتا ہے۔تاہم 11 جنوری کو سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے دوران چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کا کہنا تھا کہ ’یہ نہیں ہو سکتا کہ کوئی جج پورے ادارے کی ساکھ تباہ کر کے استعفیٰ دے جائے اور ہم کوئی کارروائی نہ کریں۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’پورا پاکستان ہماری طرف دیکھ رہا ہے، کوئی تو فائنڈنگ دینی ہے کہ شکایات جینوئن تھیں یا نہیں۔‘
قانونی ماہرین کی رائے کے مطابق چیئرمین سپریم جوڈیشل کونسل قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے جسٹس مظاہر کے مستعفی ہونے کے بعد بھی اِن ریمارکس کا آنا یہ ظاہر کرتا ہے کہ اعلیٰ عدلیہ کی ماضی کی روایت کے برعکس کونسل اس معاملے پر کارروائی جاری رکھے گی اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائے گی۔
تاہم اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ بدعنوانی کے الزامات کا سامنا کرنے والے جج کے مستعفی ہونے کے بعد کیا اُن کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جا سکتی ہے؟ اور اگر مزید کارروائی کی جا سکتی ہے تو اس کا فورم کیا ہو گا؟
اس حوالے سے سابق اٹارنی جنرل عرفان قادر کا کہنا ہے کہ آئین میں اعلیٰ عدلیہ کے کسی جج کو قانونی کارروائی سے کوئی استثنیٰ حاصل نہیں ہے کیونکہ اعلیٰ عدلیہ کے ججوں کے خلاف ریفرنس اور اس کی بنیاد پر سپریم جوڈیشل کونسل میں شروع ہونے والی کارروائی آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت عمل میں لائی جاتی ہے۔ تاہم قومی احتساب بیورو یعنی نیب کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ کسی بھی حاضر سروس، مستعفی یا ریٹائر ہونے والے جج کے خلاف مبینہ بدعنوانی کی تحقیقات شروع کر سکتا ہے۔
عرفان قادر کا کہنا تھا کہ سنہ 2004 میں جب وہ نیب کے پراسیکوٹر جنرل تھے اور اس دور میں اعلی عدلیہ کے دو ججوں شیخ ریاض اور ملک قیوم کے بارے میں بھی ایسا ہی معاملہ سامنے آیا تھا اور انھوں نے اس وقت بھی یہ رائے دی تھی کہ نیب کے پاس یہ اختیار ہے کہ وہ ان ججز کے خلاف کارروائی کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ نیب کی طرف سے مذکورہ ججز کے خلاف کارروائی کیوں نہیں کی گئی تو عرفان قادر کا کہنا تھا کہ ’بدقسمتی سے نیب ججز کے خلاف کارروائی کرنے سے گھبرا رہا تھا ورنہ قانون کے مطابق ان کے پاس کارروائی کرنے کا اختیار ہے۔‘انھوں نے کہا کہ اگر اس وقت نیب اعلی عدلیہ کے ان دو ججز کے خلاف کارروائی کو انجام تک پہنچاتا تو صورتحال آج مختلف ہوتی۔
دوسری جانب قانونی امور کے ماہر بیرسٹر صلاح الدین کا کہنا ہے کہ اگر کسی بھی جج کے خلاف کوئی فوجداری کیس بنتا ہے تو اُس کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جاسکتی ہے اور انھیں کسی قسم کا قانونی یا آئینی استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ اگر کوئی جج سپریم جوڈیشل کونسل میں بھیجے گئے ریفرنس پر کارروائی سے پہلے مستعفی ہو جائے تو سپریم جوڈیشل کونسل ان کے خلاف کارروائی نہیں کر سکتی کیونکہ آرٹیکل 209 کے تحت سپریم کورٹ صرف حاضر سروس جج کے خلاف ہی کارروائی عمل میں لا سکتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس منیب اختر کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے دو رکنی بینچ نے عافیہ شہر بانو کی درخواست پر فیصلہ دیا تھا کہ جج کے مستعفی یا مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد اس کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکتی۔ تاہم اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے مستعفی ہونے والے جج جسٹس مظاہر اکبر نقوی کے خلاف جمعے کے روز سپریم جوڈیشل کونسل کے اجلاس کے دوران بتایا کہ وفاقی حکومت اس دو رکنی بینچ کے فیصلے کو چیلنج کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
واضح رہے کہ عافیہ شہر بانو نے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست دائر کی تھی تاہم بطور چیف جسٹس انھوں نے اس شکایت کو نہیں سنا تھا اور ان کی ریٹائرمنٹ کے بعد انھوں نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی اور کہا تھا کہ سابق چیف جسٹس سے تمام مراعات واپس لی جائیں، جس پر جسٹس اعجاز الاحسن کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے فیصلہ دیا تھا کہ اعلیٰ عدلیہ کا جو جج ریٹائرڈ یا مستعفی ہو جائے تو ان کے خلاف آئین کے آرٹیکل 209 کے تحت کارروائی نہیں کی جا سکتی۔
خیال رہے کہ پاکستان کی تاریخ میں اب تک صرف دو ججوں کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل نے کارروائی کرتے ہوئے انھیں اُن کے عہدوں سے برطرف کیا تھا جس کی وجہ سے وہ بعداز ریٹائرمنٹ مراعات سے بھی محروم ہو گئے ہیں۔ ان میں ایک لاہور ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت علی تھے اور دوسرے اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت صدیقی ہیں۔
