اسحاق ڈار کا انٹرویو کرنے والے نے BBC کی ساکھ کیسے تباہ کی؟

سابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا انٹرویو کرنے والے بی بی سی کے معروف پروگرام ہارڈ ٹاک کے میزبان سٹیفن سیکر نے غلط حقائق کی بنیاد پر الیکشن 2018 کو کریڈیبل قرار دیتے ہوئے اپنی کریڈیبیلٹی کی دھجیاں تو بکھیری ہی لیکن بی بی سی کی ساکھ بھی صفر کر دی ہے۔
اپنے انٹرویو میں اسحاق ڈار کا پوسٹ مارٹم کرنے والے بی بی سی کے میزبان نے یورپی یونین کی انتخابی مشن کی رپورٹ کا غلط حوالہ دے کر اسحاق ڈار کو جھوٹا ثابت کرنے کی کوشش کی اور یہ تاثر دیا کہ پاکستان میں پچھلے انتخابات صاف اور شفاف طریقے سے ہوئے تھے۔ تاہم تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ 91 صفحات پر مشتمل یورپی یونین کی انتخابی مشن کی رپورٹ میں کہیں پر نہیں لکھا کہ 2018 کے انتخابات کریڈیبل تھے۔ سٹیفن کا موقف غلط ثابت ہونے کے بعد بی بی بی جیسے بڑے نشریاتی ادارے کی ساکھ دائو پر لگ گئی ہے اور ناقدین یہ سوال کر رہے ہیں کہ ہارڈ ٹاک جیسا اہم پروگرام کرنے والے صحافی نے فراڈ قرار دیئے گئے 2018 کے انتخابات کو کیسے کریڈیبل قرا دے دیا۔
مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق وزیر خزانہ اسحٰق کے بی بی سی کو دیے گئے حالیہ انٹرویو کے آج کل ہر جگہ چرچے ہیں، اس انٹرویو کے چھوٹے چھوٹے کلپس بنا کر حکمران جماعت تحریک انصاف کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے بھی شئیر کیا گیا ہے، جن میں کہا جا رہا ہے کہ اسحٰق ڈار کو پروگرام کے میزبان سٹیفن سیکر نے اپنے سخت سوالات سے لاجواب کردیا۔ اس انٹرویو کے دو سوالات کو بہت زیادہ شیئر کیا جارہا ہے، جن میں سے ایک سوال 2018 کے انتخابات کے حوالے سے ہے اور دوسرا اسحٰق ڈار کی جائیداد کے حوالے سے ہے۔ پروگرام میں اسحٰق ڈار جب 2018 کے انتخابات کی شفافیت پر سوال اٹھاتے ہیں تو میزبان سٹیفن سیکر کہتے ہیں کہ یورپی یونین کی انتخابی مشن کی رپورٹ میں الیکشن 2018 پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ انتخابات قابل اعتبار تھے۔
تاہم تحقیقات سے پتہ چلتا ہے کہ 91 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہیں پر یہ نہیں لکھا کہ 2018 کے انتخابات کریڈیبل تھے۔ خیال رہے کہ یورپی یونین الیکشن آبزرویشن مشن کی 2018 کے انتخابات کا مشاہدہ کرنے والی 70 رکنی ٹیم نے انتخابات کے دن پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور اسلام آباد میں مجموعی طور پر 113 حلقوں میں 476 پولنگ سٹیشنوں کا مشاہدہ کیا جبکہ سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ٹیم بلوچستان میں کسی بھی پولنگ سٹیشن کا مشاہدہ نہیں کرسکی تھی۔ اس مشن نے اکتوبر 2018 میں حکومت پاکستان کو اپنی حتمی رپورٹ جمع کروائی جس میں انتخابات کے حوالے سے مشاہدے سمیت حکومت کو انتخابات کو مزید بہتر بنانے کے لیے تجاویز بھی پیش کی گئیں۔91 صفحات پر مشتمل اس رپورٹ میں کہیں پر یہ نہیں لکھا گیا کہ 2018 کے انتخابات کریڈیبل تھے جیسا کہ بی بی سی کے میزبان نے دعوی کیا۔
اس رپورٹ کے صفحہ نمبر 11 پر درج ہے کہ انتخابات سے قبل 2017 میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی برطرفی کے حوالے سے فیصلے کے بعد اور اس کے بعد اپریل 2018 میں ان کی گرفتاری کے بعد ملک کی سیاست کا نقشہ بدل گیا۔ اس رپورٹ کے مطابق انتخابات سے قبل یہ الزامات لگائے گئے کہ ملٹری سٹیبلشمنٹ اور عدلیہ سیاسی معاملات میں دخل اندازی کرکے ن لیگ کو کمزور کرنے کی کوشش کر رہے تھے اور ن لیگ کے اراکین پر سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے لیے دباؤ ڈالا جا رہا تھا۔ انتخابات سے قبل میڈیا کوریج کے حوالے سے اس رپورٹ میں درج ہے کہ بہت سے میڈیا کے اداروں بالخصوص جیو اور ڈان اور بعض صحافیوں کے حق اظہار رائے کو دبایا جاتا رہا اور ان کو سنسرشپ کا کہا جاتا رہا۔ رپورٹ کے مطابق مجموعی طور پر یہ دیکھا گیا کہ مختلف سٹیٹ ایکٹرز کی جانب سے مختلف ایسے حربے استعمال کیے گئے تاکہ انتخابات سے قبل سیاسی بیانیے کو کنٹرول کیا جاسکے اور سویلین بالادستی کو فوقیت مل سکے۔ سیاسی جماعتوں کی کوریج کے حوالے سے رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں کو ایک جیسی کوریج نہیں دی گئی۔
اس رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی درخواست پر تین لاکھ 70 ہزار سے زائد فوجی اہلکار ملک بھر کے پولنگ سٹیشنوں کے اندر اور باہر تعینات کیے گئے تھے، جنہیں الیکشن کمیشن کی جانب سے باقاعدہ ٹریننگ دی گئی تھی۔ یورپی یونین مشن نے رپورٹ میں اس بات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے لکھا کہ فوجی اہلکاروں کی پولنگ سٹیشن کے اندر موجودگی سے ووٹرز کی گنتی اور نتائج میں مداخلت کا امکان تھا جبکہ کچھ پولنگ سٹیشنوں پر یہ دیکھا گیا کہ پریزائیڈنگ افسر نہیں بلکہ فوجی اہلکار پولنگ سٹیشن کے انچارج تھے۔یورپی یونین کے مشاہدین نے بعض پولنگ سٹیشنوں پر یہ بھی دیکھا کہ فوجی اہلکار یا تو انتخابی عمل میں مداخلت کر رہے تھے یا پارٹی ایجنٹس پر پولنگ سٹیشن سے باہر رہنے پر زور دے رہے تھے۔ یورپی یونین کی انتخابی جائزہ رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انتخابی بے بقاعدگیوں کے الزامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب پاکستانی اداروں نے ہمیشہ ایسے الزامات کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ فوج سیاسی ماحول یا انتخابات کے نتائج پر اثر اندار ہوتی ہے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ 2018 کے الیکشن نتائج کمپیوٹر سسٹم کی خرابی کا بہانہ بنا کر تین روز کی تاخیر کے بعد جاری کیے گے اور اپوزیشن نے الزام لگایا کہ پولنگ اسٹیشنز پر تعینات فوجیوں نے پولنگ کا عمل ختم ہو جانے کے بعد سیاسی جماعتوں کے پولنگ ایجنٹس کو پولنگ اسٹیشن سے باہر نکال دیا اور وسیع پیمانے پر تحریک انصاف کو جتوانے کے لئے لیے ہیرا پھیری کی۔
یاد رہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے 2018 کے الیکشن میں رزلٹ ٹراسمیشن سسٹم یعنی آر ٹی ایس کو پہلی مرتبہ استعمال کیا، تاہم انتخابات کے بعد جب نتائج آنے شروع ہوئے تو آر ٹی ایس سسٹم خراب ہوگیا۔ یورپی یونین مشن کی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ گنتی کے عمل میں بعض مواقع پر مسائل تھے جبکہ بعض پولنگ عملے نے گنتی اور نتائج کے اعلان میں باقاعدہ پروسیجر کو فالو نہیں کیا۔رپورٹ میں لکھا گیا کہ یورپی یونین کے مشن نے مشاہدہ کیا کہ 476 پولنگ سٹیشنوں کے مشاہدے کے دوران آدھے کے نتائج باہر نہیں نکالے گئے جس سے پتہ چلتا ہے کہ گنتی اور نتائج کے عمل کی شفافیت بہتر نہیں تھی جبکہ بہت سے مواقع پر گنتی کے دوران پارٹی ایجنٹس موجود ہی نہیں تھے۔رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے آر ٹی ایس سسٹم کی خرابی کے بعد ہونے والی دھاندلی کے الزامات کے موثر جوابات نہیں دیے اور نہ ہی یہ بتایا کہ آر ٹی ایس سسٹم کیوں خراب ہوا تھا، تاہم رپورٹ کے مطابق الیکشن کمیشن آف پاکستان نے ایک موقع پر یہ بتایا تھا کہ نیا سسٹم نادرا کی جانب سے بنایا گیا اور اس کو پہلے ٹیسٹ نہیں کیا گیا تاہم کمیشن نے کابینہ کو درخواست کی تھی کہ انکوائری کمیشن بنا کر اس کی تحقیقات کی جائیں۔
عام انتخابات 2018 کے بعد 27 جولائی کو یورپی یونین کے الیکشن مشن کے نمائندوں نے اسلام آباد میں انتخابی مشاہدے کے بعد پریس کانفرنس کا انعقاد کیا، جس کے دوران اس مشن کے سربراہ مائیکل گاہلر نے اپنی رپورٹ کا مختصر خلاصہ پیش کیا۔ اس پریس کانفرنس کے حوالے سے جاری کردہ پریس ریلیز میں بھی کہیں پر یہ نہیں لکھا کہ 2018 کے انتخابات ‘کریڈیبل’ تھے اور نہ ہی اس میں یہ لکھا گیا کہ یہ انتخابات بالکل شفاف طریقے سے کرائے گئے۔
ان حقائق سے پتہ چلتا ہے کہ بی بی سی کے اینکر پرسن سٹیفن سیکر نے اسحاق ڈار کا انٹرویو کرتے ہوئے پاکستان میں ہونے الیکشن 2018 کے قابل قدر اور شفاف ہونے سے متعلق غط حوالہ دیا تھا۔ یوں سٹیفن کی دلیل غلط ثابت ہونے کے بعد بی بی سی کی اہنی ساکھ داؤ پر لگ گئی ہے کہ انہوں نے فراڈ قرار دیئے گئے انتخابات کو کیسے کریڈیبل قرار دے دیا۔
