اسحاق ڈالر کی قیمت کنٹرول کرنے میں کیوں ناکام ہوئے؟

وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی جانب سے ڈالر پرائس نیچے لانے کے تمام تر دعووں کے باوجود اسوقت ملک میں ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور اس کی دستیابی ایک بڑا مسئلہ بن چکی یے جسکے نتیجے میں پاکستان میں درآمدی کارگو کے لیے ایل سی  کھولنا اور اسکے لیے ادائیگی کرنا بھی نا ممکن ہو گیا یے۔ پاکستان میں ڈالرز کی کمی کی وجہ سے درآمدی کارگوز کی کلیئرنس بھی نہیں ہو پا رہی۔ ڈالر کی قیمت کو قابو کرنے کے دعویدار اسحاق ڈار اس صورتحال میں ناکام نظر آتے ہیں کیونکہ ایک جانب ڈالر کا سرکاری نرخ 224 سے 225 تک پہنچ چکا ہے تو دوسری جانب جب درآمد کنندگان ڈالرز کے لیے بینکوں سے رابطہ کرتے ہیں تو انھیں ڈالر فراہم نہیں کیے جاتے جبکہ گرے مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 240 روپے سے اوپر جا چکی ہے۔ جو صورتحال بنی ہوئی ہے اس میں ڈالر کا ریٹ 250 سے 300 تک بھی جا سکتا ہے، جو معیشت کے لیے تباہ کن ثابت ہوگا۔

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ڈالر کی آمد کے ذرائع سکڑتے جا رہے ہیں اور بیرونی قرضے کی ادائیگی کی وجہ سے زرمبادلہ کے ذخائر کم ہو کر چار سال کی نچلی ترین سطح پر آ چکے ہیں۔موجودہ حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد جب مفتاح اسماعیل وزیر خزانہ بنے تو ڈالر کے ریٹ میں اضافہ دیکھا گیا اور 29 جولائی 2022 کو روپے کے مقابلے میں ڈالر انٹر بینک میں 240 تک چلا گیا تھا، اس پر مفتاح تنقید کا نشانہ بنے تو اسحاق ڈار کی ملک واپسی کی خبریں آنا شروع ہوئیں۔ ستمبر کے آخر میں وفاقی وزارتِ خزانہ کا قلمدان سنبھالنے سے پہلے اسحاق ڈار نے اپنی ترجیحات بیان کی تھیں، جن میں مقامی کرنسی کو مستحکم کرنا بھی شامل تھا۔

پاکستان واپسی اور وزیر خزانہ بننے کے بعد اسحاق ڈار نے اکتوبر کے مہینے میں دعویٰ کیا کہ وہ ڈالر کی قیمت کو 200 روپے سے نیچے لے آئیں گے۔ اسحاق ڈار کے اس دعوے کے دو مہینے گزرنے کے بعد ڈالر کی قیمت 200 روپے سے نیچے نہیں آ سکی بلکہ اس وقت 224 روپے تک پہنچ چکی ہے جبکہ اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 230 سے اوپر تک جا چکی ہے۔ تاہم اس سے زیادہ بڑا مسئلہ ڈالر کی عدم دستیابی کا ہے جس کی وجہ سے ملک کا درآمدی مال جس میں تیل، خوردنی تیل، ادویات، برآمدی شعبے کا خام مال، مشینری و پلانٹس اور دوسرے شعبوں کے لیے منگوائے جانے والے درآمدی کارگو بینکوں کی جانب سے ایل سی کے لیے ادائیگی نہ کرنے کی وجہ سے بندرگاہ پر پھنسے ہوئے ہیں۔

اسحاق ڈار نے اپنے گذشتہ دورِ وزارت میں ڈالر کو ایک مخصوص سطح پر رکھا، جسے ان کے سیاسی مخالفین اور غیر جانبدار ماہرین معیشت کی جانب سے مصنوعی طریقے سے ڈالر ریٹ کنٹرول کرنے کا طریقہ کار قرار دیا گیا جسے وہ خود بھی تسلیم کر چکے ہیں۔ تاہم ماہر معیشت اور سٹی بینک سے منسلک بینکر یوسف نذر کا کہنا ہے کہ ’یہ بات غلط ہے کہ اسحاق ڈار نے گذشتہ دور وزارت میں ڈالر کو قابو کیا، ان کی خوش قسمتی تھی کہ اس دور میں عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں کریش کر گئیں تھیں اور اس کا فائدہ پاکستان کو تیل کی خریداری پر کم ڈالر خرچ کرنے کی صورت میں ہوا تھا۔

اس کے علاوہ تب آئی ایم ایف کا رویہ بھی نرم تھا جس کا فائدہ پاکستان کو ہوا اور پاکستان میں ڈالر کا ریٹ نہیں بڑھا۔ جب پوچھا گیا کہ اب ڈالر کا ریٹ نیچے کیوں نہیں آ رہا تو خرم حسین نے کہا کہ اسکی وجہ یہ ہے کہ پاکستان کے پاس زرمبادلہ اتنا نہیں کہ وہ ڈالر کے ریٹ کو نیچے لا سکے۔ اگر اسحاق ڈار نے اپنے گذشتہ دور حکومت میں ڈالر کو ’مینج‘ کیا تو اسکی وجہ پاکستان کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر کا ہونا تھا۔

انکے مطابق ڈالر ریٹ کم ہونے کا ایک ہی حل ہے کہ پاکستان میں ڈالرز آئیں جو ابھی کہیں سے نہیں آ رہے۔ اب یہ ڈالرز سعودی عرب سے آتے ہیں یا چین یا آئی ایم ایف سے، اسکا انحصار ان ملکوں اور ادارے کی جانب سے ڈالر کی فراہمی پر ہے۔

لیکن اس سب کے باوجود معاشی تجزیہ کار اس تاثر کی نفی کرتے ہیں کہ پاکستان ڈیفالٹ کرنے کے قریب ہے۔انھوں نے کہا کہ بانڈز کی ادائیگی الگ ہے جو پاکستان نے گذشتہ دنوں کی جبکہ فارن ٹریڈ کے لیے ڈالرز کی ضرورت ایک الگ چیز ہے اور درآمدی کارگو کے لیے ڈالرز کی عدم دستیابی کی وجہ بیلنس آف پیمنٹ کا بحران ہے جو ملک میں ڈالر کی کمی وجہ سے ہے۔ واضح رہے کہ اس وقت سٹیٹ بینک اعداد و شمار کے مطابق پاکستان کے پاس 6.7 ارب ڈالر کے زرمبادلہ ذخائر ہیں جبکہ ملک میں مجموعی طور پر 12.6 ارب ڈالر کے ذخائر ہیں۔پاکستان کو اس مالی سال میں 30 ارب ڈالرز سے زائد کی بیرونی ادائیگیاں بھی کرنی ہیں۔ دریں اثنا، ملک میں ڈالرز لانے والے تین اہم ذریعے برآمدات، ترسیلات زر اور غیر ملکی سرمایہ کاری گذشتہ چند مہینوں میں منفی گروتھ ریکارڈ کر رہے ہیں۔

اس صورت حال کے پیش نظر یہ سوال تو بنتا ہے کہ کیا ڈار کی جانب سے ڈالر ریٹ کم کرنے کا دعویٰ سیاسی نعرہ تھا؟ اس دعوے کے بارے میں ماہرین معیشت کا اتفاق ہے کہ یہ ایک سیاسی نعرہ تھا جس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہ تھا۔ بینکر یوسف نذر کے۔مطابق جب اسحاق ڈار نے دعویٰ کیا کہ وہ ڈالر ریٹ کو نیچے لے آئیں گے تو تب وہ اپنی پاکستان واپسی چاہتے تھے اور اپنی پرانی حیثیت کو دوبارہ حاصل کرنا چاہتے تھے۔ انھوں نے کہا کہ جب ڈار کو حالات کا ادراک نہیں تھا تو پھر انھوں نے وزارت خزانہ کیوں سنبھالی۔ لیکن خرم حسین کہتے ہیں کہ ڈالر ریٹ کم کرنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ اس کے لیے سب سے پہلے ڈالرز حاصل کرنا ہوں گے اور پاکستان کو آئی ایم ایف کے راستے پر چلنا ہوگا تاکہ بیرونی فنڈنگ کے دروازے کھل سکیں۔

لیکن حقیقت یہ ہے کہ ملک میں ڈالر کی عدم دستیابی کی وجہ سے درآمدی کارگو کی کلیئرنس یا تو رکی ہوئی ہے یا تاخیر کا شکار ہو رہی ہے جس کی وجہ سے صنعتی شعبے کو خام مال حاصل کرنے میں مشکلات درپیش ہیں۔ یہ صورت حال یقینی طور پر پاکدتان کی جی ڈی پی گروتھ کو منفی طور پر متاثر کرے گی اور اس کا نمبر نیچے آ سکتا ہے۔ معاشی ماہرین اس خدشے کا اظہار بھی کر رہے ہیں کہ جو صورتحال بنی ہوئی ہے اس میں ڈالر کا ریٹ 250 سے 300 تک جا سکتا ہے، جو معیشت کے لیے بہت تباہ کن ثابت ہوگا۔

Back to top button