اسرائیلی فوجی سوشل میڈیا پر حماس کی چال میں پھنس گئے

اسرائیلی فوجی خواتین کی جعلی تصویروں سے فلسطین کی آزادی کے لیے جدوجہد کرنے والی تنظیم حماس کے ہیکرز کے دھوکے میں آ گئے۔ اسرائیل کے فوجی حکام کے مطابق حماس نے درجنوں اسرائیلی فوجیوں کے موبائل فونز پر خواتین کی تصویریں بھیج کر انہیں ہیک کرلیا تھا۔
اسرائیلٰی فوج کی طرف سے اعتراف کیا گیا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر خوبصورت اور پرکشش لڑکیوں کی تصاویر پرمبنی اکاؤنٹس سے اسرائیلی فوجیوں کو دوستی کا پیغام بھیجا جاتا اور ‘فرینڈ ریکوسٹ’ قبول کرنے کے بعد فوجیوں کو ‘ڈرٹی سافٹ ویئر’ ڈاؤن لوڈ کرنے کو کہا جاتا تاکہ اس کے ذریعے حماس متعلقہ فوجی کے بارے میں اہم معلومات حاصل کرسکے۔ حماس نے اس حربے کی مدد سے نہ صرف اسرائیلی فوجیوں بلکہ دیگر اسرائیلی شہریوں کو بھی اپنے چنگل میں پھنسانے کی کوشش کی ہے۔ تاہم صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے حماس کی سوشل میڈیا کے ذریعے فوجیوں کو پھنسانے کی کوشش ناکام بنادی ہے جب کہ حماس کا دعویٰ ہے کہ وہ اسرائیلی فوجیوں کے اہم ڈیٹا تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوگئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق اسرائیلی فوج کے ترجمان کرنل جوناتھن کونریکس کا کہنا ہے کہ حالیہ مہینوں میں درجنوں فوجیوں کے فون ہیک ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جلد ہی ہمیں معلوم ہوگیا کہ اس طرح کے حربے پیچھے کسی جنگجو گروپ کا ہاتھ ہوسکتا ہے۔ تحقیقات کرنے پر پتا چلا کہ یہ سب کچھ حماس کررہی ہے۔
کرنل کونریکس نے یہ بھی واضح کیا کہ حماس کی جانب سے سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے فوجیوں کو چنگل میں پھنسانے یہ تیسری کوشش ہے۔ اس سے قبل گزشتہ برس جولائی میں ایسی ہی ایک پیچیدہ مہم سامنے آئی تھی جس میں اسرائیلی فوجیوں کےموبائل فون اور دیگر معلومات کے حصول کی کوشش کی گئی تھی۔
کونریکس نے انکشاف کیا کہ حماس نے متعدد سماجی پلیٹ فارمز ، بشمول واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام اور ٹیلی گرام کا استعمال کرتے ہوئے لڑکیوں کی تصاویر کی ڈی پی والی آئی ڈیز سے فوجیوں سے رابطہ کیا۔
ترجمان نے واضح کیا ایک آئی ڈی سے ایک خود کو ایک نئی تارک وطن خاتون ظاہر کرنے والے شخص نے کہا کہ اس کی عبرانی زبان کم زور ہے اور وہ سیکھنا چاہتی ہے۔ براہ راست کال کے بجائے وہ بعض اوقات یہ بہانہ کرتا کہ اسے سماعت میں دشواری ہے۔ اس لیے وہ صرف تحریری مکالمہ چاہتی ہے۔ اس دوران وہ اپنی متعدد تصاویر بھی شیئر کرتا۔
انہوں نے اعتراف کیا کہ حماس کی سابقہ کوششوں کے مقابلے میں تازہ کوشش سوشل انجینئرنگ کی سطح بہت اونچی، نفیس اور زیادہ موثر ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حماس کے عناصر سوشل میڈیا کے استعمال کی اپنی مہارت میں اضافہ کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے کہ اسرائیلی فوج نے تسلیم کیا ہو کہ حماس نے خوبصورت اور نیم عریاں لڑکیوں کی تصاویر میں بھیجے گئے وائرس سسٹم سے فوجیوں کے موبائل فونز تک رسائی حاصل کی ہو۔ اس سے قبل بھی اسرائیلی فوج یہ اعتراف کرتی رہی ہے کہ حماس مختلف حربوں کے ذریعے اسرائیلی فوجیوں کے ذاتی موبائل فونز تک رسائی کرنے کی کوشش کرتی رہی ہے۔ تین سال قبل 2017 میں بھی اسرائیلی فوج نے اعتراف کیا تھا کہ حماس کے کارکنان نے خوبصورت لڑکیوں کی تصاویر اسرائیلی فوجیوں کو بھیج کر ان کے موبائل تک رسائی کرلی تھی۔
یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی اسرائیلی فوجی حکام نے اپنے عملے کو خبردار کیا تھا کہ وہ اسمارٹ فون استعمال کرتے ہوئے محتاط رہیں اور فوجیوں کو ہیکنگ سے محفوظ رہنے کےلیے ہدایات بھی فراہم کی گئی تھیں۔
