اسرائیل پر حملے کے لئے حماس نے امریکی اسلحہ کہاں سے لیا؟

اسرائیل جو ہائی ٹیک وار کے لیے بہت ہی معیاری اور نہایت مؤثر دفاعی نظام رکھتا ہے، حماس کے ایک بالکل دیسی اسٹائل کے غیر متوقع حملے کے سامنے مکمل بے بس ہو گیا۔ لڑائی جیسے ہی شروع ہوئی خبریں آنے لگیں کہ حماس کے جنگجو امریکی اسلحہ استعمال کر رہے ہیں۔ روسی میڈیا کا کہنا تھا کہ یہ وہ اسلحہ ہے جو امریکا نے یوکرین کو دیا اور جو امریکی افغانستان میں چھوڑ گئے تھے۔ اس پر جلد ہی مغربی میڈیا یکسو ہوگیا۔ امریکا نے جس پھرتی سے اپنا بحری بیڑہ اور جنگی سامان اسرائیل پہنچایا، اس سے بھی لگتا یہی ہے کہ امریکی اپنے اسلحے کے اسرائیل کے خلاف استعمال کی خبروں سے دباؤ میں ضرور آئے یا اسے ڈاؤن پلے کرنا چاہ رہے تھے۔ وی نیوز کی ایک تحریر میں بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود امریکی اسلحہ تحریک طالبان پاکستان بھی استعمال کرتی ہے۔ پاکستان یہ بات مسلسل ہر فورم پر اٹھا رہا ہے یوں صورتحال ایسی بن گئی ہے کہ پاکستان کے موقف کو ایک غیر متوقع حمایت ملی ہے۔ پاکستان نے 11 لاکھ افغان مہاجرین کو نکالنے کا اعلان کر رکھا ہے۔ اس انخلا کے لیے وقت بھی بہت کم دیا ہے۔ 31 اکتوبر تک غیر قانونی طور پر مقیم افغانوں سے نکل جانے کے لیے کہا گیا ہے۔ عالمی امدادی ادارے اور اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے پاکستان سے نرمی کی اپیلیں کر رہے ہیں، جو بے اثر جا رہی ہیں۔ پاکستان کا دل نرم کرنے کے لیے افغانستان سے ایک دلیل بہت متاثر کن آئی۔ وہ یہ تھی کہ 90 لاکھ پاکستانی بیرون ملک مقیم ہیں، افغانی بھی تقریباً اتنے ہی ہیں جو دوسرے ملکوں میں رہتے ہیں۔ کچھ اندازوں کے مطابق ایسے افغانوں کی تعداد 82 لاکھ ہے۔ یورپ، امریکا اور دوسرے ملکوں میں رہنے والے افغان شہریوں نے زیادہ تر اپنے خاندان پاکستان میں رکھے ہوئے ہیں۔ یہ بھی غیرملکی زرمبادلہ پاکستان ہی بھجواتے ہیں۔ افغان مہاجرین کو پاکستان سے نکالا گیا تو بیرون ملک سے ترسیلات زر بھی آدھی ہو جائیں گی۔ کیسا؟ پوائنٹ زبردست ہے وہ بھی ایسے وقت میں جب ہم ٹکے ٹکے کے لیے دنیا بھر میں خجل بھی ہورہے ہیں۔ کہتے ہیں یہ اطلاع تو دل شکن ہی ہے لیکن "سر جی” کا دل نرم نہیں ہوا۔ افغان طالبان کے امیر ملا ہیبت اللہ افغانستان کو تقریباً ویسے ہی چلا رہے ہیں جیسے تازہ خان ٹرک چلاتا ہے۔ افغان حکومت کی کارکردگی خاصی اچھی ہے لیکن انسانی حقوق، خواتین کی تعلیم اور دہشت گردی کے حوالے سے ابھی دنیا کو بہت اعتراضات ہیں۔ افغان طالبان کے سسٹم میں رہبری شوریٰ ایک فیصلہ کن ادارہ ہے۔ اس شوریٰ کو ملا ہیبت اللہ نے تقریباً معطل کر رکھا ہے۔ پاکستان کی جانب سے افغانستان پر دباؤ آنے کے بعد رہبری شوریٰ کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا۔اس اجلاس میں افغان وزیر خارجہ امیر خان متقی کو خصوصی اختیارات دے دیے گئے۔ متقی سے کہا گیا کہ وہ رہبری شوریٰ کے بااختیار نمائندے کے طور پر پاکستان سے مذاکرات کریں۔ امیر خان متقی رہبری شوریٰ کے اجلاس کے وقت خود چین میں تھے۔ چین میں ٹرانس ہمالیہ کانفرنس ہورہی تھی۔ امیر خان متقی نے وہاں خطاب کرتے ہوئے چین کے دشمن دہشت گردوں کو اپنا دشمن قرار دیا۔ انہوں نے یہ بولڈ بیان دینے تک ہی بس نہیں کی …. بلکہ واخان کوریڈور بنانے کی بھی بات کی۔ یہ کوریڈور چین کو افغانستان سے اور پاکستان کو تاجکستان سے جوڑتا ہے۔ لیکن متقی نے اپنا فوکس چین اور افغانستان کے رابطوں ہی پر رکھا۔ پاکستان میں البتہ میسج پہنچ گیا کہ ساڈے نال رہو گے تو یہ عیش بھی کر سکتے ہو۔ بظاہر یہ لگ رہا تھا کہ امیر خان متقی چین کے دورے کے بعد سیدھا پاکستان آئیں گے مگر وہ منظر سے غائب ہو گئے۔ بتایا جاتا ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات پہنچے۔ اگر یہ خبر ٹھیک ہے تو متحدہ عرب امارات جانے کی ایک وجہ بنتی ہے۔ افغان طالبان کے طاقتور حقانیوں کا ننھیال متحدہ عرب امارات ہے جہاں وزیر داخلہ سراج حقانی کا اثر ہے، وہیں ٹی ٹی پی اور وزیرستان سے گئے پاکستانی مہاجرین بھی مقیم ہیں۔ افغان پاکستان کے بعد سب سے زیادہ کاروبار یو اے ای میں کرتے ہیں،۔ یہ وہ سارا پس منظر تھا جب حماس کے جنگجو اسرائیل میں داخل ہوتے ہیں اور اسرائیل پر ہزاروں راکٹ فائر ہوتے ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں ایک ایسا تنازعہ شروع ہوجاتا ہے جو اتنے انڈے بچے دے سکتا ہے کہ جگہ جگہ اس سے فساد برپا ہوجائے۔

Back to top button