اسرائیل کو مطلوب’نو زندگیوں والی بلی اور سائے کا شہزادہ‘ کون؟

سات اکتوبر کی صبح، القسام بریگیڈز کے قیام کی چھتیسویں سالگرہ کے موقع پر، غزہ کی پٹی سے اسرائیلی علاقے کی طرف کئی راکٹ داغے گئے اور پھر ایک چونکا دینے والا حملہ کیا گیا۔فلسطینی عسکریت پسندوں کی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد اسرائیلی فوجیوں اور شہریوں کو یرغمال بھی بنایا گیا ہے۔
حالیہ آپریشن کے دوران غزہ کی پٹی پر حکمرانی کرنے والی تحریک حماس کے عسکری ونگ القسام بریگیڈز کا نام سامنے آیا تھاکیونکہ اس نے اسرائیل پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی اور اس آپریشن کو ’طوفان الأقصى‘ کا نام دیا تھا۔
سات اکتوبر کو طوفان الاقصی آپریشن کے بعد حماس کی عسکری صلاحیتوں کے بارے میں سوالات کیے جا رہے ہیں اکثر افراد حماس کے اہم رہنماؤں کے بارے میں بھی جاننا چاہتے ہیں۔
حماس کے موجودہ اہم سیاسی اور عسکری رہنماؤں میں اسرائیل میں ’نو زندگیوں والی بلی کے نام سے معروف‘محمد الضیف کا نام سر فہرست ہے۔ محمد الضیف کو اسرائیل پر حملے کا ماسٹر مائنڈ قرار دیا جاتا ہے۔
محمد ضیف کا اصل نام محمد مصری ہے۔ جو 1948 کی عرب اسرائیل جنگ کے بعد قائم خان یونس کے پناہ گزین کیمپ میں 1965 میں پیدا ہوئے۔جب 1980 میں حماس کی تنظیم قائم ہوئی اس وقت محمد ضیف نوجوان تھے۔ اسرائیل کے خلاف مسلح مزاحمت کا عزم رکھنے والے محمد ضیف نے جلد ہی حماس کے عسکری بازو عزالدین القسام بریگیڈ میں اہمیت اختیار کر لی۔ 1989 میں گرفتاری کے بعد انھوں نے 16 ماہ قید میں گزارے۔ قید کے دوران ہی انھوں نے حماس کا الگ عسکری ونگ القسام بریگیڈ قائم کرنے کے بارے میں سوچا اور رہائی کے بعد اسے عملی جامہ پہنایا۔ وہ القسام بریگیڈ کے بانیوں میں سے ایک تھے۔ضیف کو حماس کے مقامی طور پر تیارہ کردہ قسام راکٹ اور غزہ کے نیچے بچھائی جانے والی زیر زمین سرنگوں کا خالق بھی تصور کیا جاتا ہے۔وہ حماس کے انجینیئر اور بم ساز یحییٰ عیاش کے کافی قریب تھے جنھیں 1990 کی دہائی میں اسرائیل کی مسافر بسوں میں ہونے والے خودکش حملے کے سلسلے کا ذمہ دار بھی ٹھہرایا جاتا ہے۔اسرائیل نے سنہ 1996 میں یحییٰ کو قتل کروا دیا لیکن اس کے بعد بھی اسرائیل میں خود کش حملوں کا سلسلہ جاری رہا۔ ضیف کو یحیی کی موت کا بدلہ لینے کی کئی کارروائیوں کا ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے اور اس کے علاوہ ان پر بہت سی دیگر کارروائیوں میں ملوث ہونے کا بھی الزام ہے۔ 2000 میں انھیں گرفتار کر لیا گیا تھا تاہم وہ دوسرے انتفادہ کے آغاز پر فرار ہونے میں کامیاب ہوئے۔ سنہ 2002 میں حماس کے بانیوں میں شامل صلاح شہادۃ کی ہلاکت کے بعد انھوں نے حماس کے عسکری بازو کی قیادت سنھال لی۔
اس صدی کی پہلی دہائی میں اسرائیل نے محمد الضیف کو قتل کرنے کی چار مرتبہ کوشش کی جن سے وہ بچنے میں کامیاب ہو گئے لیکن اس دوران انھیں کچھ شدید زخم آئے۔ ایک حملے میں ان کی ایک آنکھ اور جسم کا ایک اور عضو ضائع ہو گیا۔ان ناکام قاتلانہ حملوں سے ان کی ساکھ اور بہتر ہو گئی اور اپنے دشمنوں میں ان کو ’نو زندگیوں والی بلی‘ کی شہرت حاصل ہو گئی۔ ان کو ضیف یعنی مہمان کا نام، بھی اس لیے دیا گیا کیونکہ وہ اسرائیلی کارروائیوں سے بچنے کے لیے کسی ایک مقام پر ایک رات سے زیادہ نہیں رکتے۔
ضیف نے غزہ کی اسلامی یونیورسٹی سے سائنس میں ڈگری حاصل کی جہاں انہوں نے فزکس، کیمسٹری اور بائیولوجی کے مضامین پڑھے۔ دورِ طالب علمی میں ضیف کو آرٹس سے بھی دل چسپی تھی۔ وہ یونیورسٹی کی انٹرٹینمنٹ کمیٹی کے سربراہ رہے اور اسٹیج پر کامیڈی بھی کرتے تھے۔حماس میں ضیف نے تیزی سے ترقی کی۔ انہوں نے غزہ میں سرنگوں کا جال بچھایا اور بم بنانے کی مہارت بھی حاصل کی۔ گزشتہ دہائیوں کے دوران وہ اسرائیل کو مطلوب ترین افراد کی فہرست میں شامل ہوئے۔فلسطینی ذرائع کا کہنا ہے کہ اسرائیل نے حماس کے حملے کے بعد غزہ میں رات کے حملوں میں جن مکانات کو نشانہ بنایا ان میں محمد ضیف کے والد کا گھر بھی شامل ہے۔ ذرائع کے مطابق ضیف کے والد، بھائی اور دیگر رشتے داروں کی ہلاکت کی بھی اطلاعات ہیں۔
حماس کے دوسرے لیڈر مروان عیسیٰ محمد ضیف کا دایاں بازو تصور کیے جاتے ہیں اور القسام بریگیڈ کے نائب کمانڈر ہیں جن کو ’سائے‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ مروان باسکٹ بال کے اچھے کھلاڑی ہیں جن کو فلسطینی کمانڈو کا لقب دیا گیا۔ تاہم 1987 میں حماس میں شمولیت کے بعد ان کو اسرائیلی فوج نے پہلے فلسطینی انتفادہ کے دوران گرفتار کر لیا تھا اور وہ پانچ سال تک قید رہے۔اسرائیل کے مطابق مروان جب تک زندہ ہیں، حماس سے اعصاب کی جنگ جاری رہے گی کیوں کہ اسرائیلی ذرائع مروان کو ایک عمل پسند شخص سمجھتے ہیں جو ’اتنے ذہین ہیں کہ پلاسٹک کو لوہے میں بدل سکتے ہیں۔‘1997 میں انھیں فلسطینی اتھارٹی نے گرفتار کر لیا اور وہ سنہ 2000 میں الاقصی انتفادہ کے بعد رہا ہوئے۔ رہائی کے بعد انھوں نے القسام بریگیڈ میں مرکزی کردار ادا کیا اور اسرائیل نے ان کو 2006 میں قتل کرنے کی کوشش کی جس میں وہ زخمی ہوئے۔
حماس کے خفیہ ادارے کے بانی یحیی ابراہیم 1962 میں پیدا ہوئے اور وہ غزہ کی پٹی میں حماس کے سیاسی بیورو کے سربراہ ہیں۔وہ حماس کے خفیہ ادارے ’مجد‘ کے بانی ہیں جواسرائیلی ایجنٹوں سے تفتیش سمیت سکیورٹی معاملات دیکھتی ہے ۔یحییٰ ابراہیم کو تین بار گرفتار کیا گیا۔ سب سے پہلے 1982 میں جب اسرائیل نے انھیں چار ماہ تک قید میں رکھا۔سنہ 1988 میں انھیں تیسری بار گرفتار کیا گیا اور عمر قید کی سزا دی گئی۔ تاہم جب اسرائیلی فوجی جلاد شولت کو یرغمال بنایا گیا تو سنہ 2011 میں قیدیوں کا تبادلہ ہوا جس میں یحییٰ بھی رہا ہو گئے۔یحییٰ نے حماس کے ایک اہم سربراہ کا کردار دوبارہ حاصل کیا اور ستمبر سنہ 2015 میں امریکہ نے ان کا نام دہشت گردوں کی فہرست میں ڈال دیا۔تاہم 2017 میں انھیں غزہ کی پٹی میں حماس کے سیاسی سربراہ کے طور پر چن لیا گیا۔
عبداللہ البرغوثي 1972 میں کویت میں پیدا ہوئے اور 1990 میں اردن منتقل ہو گئے جہاں انھیں شہریت ملی۔ اس کے بعد وہ جنوبی کوریا کی ایک یونیورسٹی میں الیکٹرانک انجینیئرنگ پڑھنے گئے۔ تاہم تین سال بعد ڈگری مکمل کیے بغیر ہی انھوں نے پڑھائی چھوڑ دی۔اس اثنا میں انھیں فلسطین میں داخلے کا پرمٹ مل گیا۔ انجینیئرنگ کی تعلیم کے دوران وہ دھماکہ خیز مواد میں مہارت حاصل کر چکے تھے۔فلسطین میں ان کی ملاقات اپنے کزن بلال سے ہوئی تو انھوں نے ایک ویران علاقے میں اپنی یہ مہارت ایک بم خود بنا کر دکھائی۔ بلال نے نابلس میں اپنے ایک کمانڈر کو یہ بات بتائی جس کے بعد عبداللہ القسام بریگیڈ میں شامل ہو گئے۔
عبداللہ نے دھماکہ خیز مواد تیار کرنا شروع کیا۔ وہ ڈیٹونیٹر بھی تیار کرتے تھے اور انھوں نے اسی مقصد سے ایک خصوصی عسکری فیکٹری قائم کی۔ عبد اللہ کی سربراہی میں ہونے والی کارروائیوں میں اندازوں کے مطابق اب تک 66 اسرائیلی ہلاک اور 500 زخمی ہو چکے ہیں۔
سنہ 2003 میں اسرائیلی فوج نے اتفاق سے انھیں گرفتار کر لیا اور پھر تین ماہ تک ان سے تفتیش ہوتی رہی۔ ان کے خلاف مقدمے میں انھیں تاریخ کی طویل ترین سزا سنائی گئی۔ انھیں 67 بار عمر قید کی سزا دی گئی جبکہ 5200 سال کی قید کی سزا اس کے علاوہ تھی۔قید تنہائی میں رکھے جانے پر انھوں نے بھوک ہڑتال کر دی۔ انھیں قید کے دوران تحریر کردہ اپنی کتاب کے عنوان کی وجہ سے ’سائے کا شہزادہ‘ بھی کہا جاتا ہے۔ اس کتاب میں انھوں نے اپنی مزاحمتی تحریک پر روشنی ڈالی ہے اور عسکری کارروائیوں کی تفصیلات بھی فراہم کی ہیں۔
اسماعیل عبدالسلام ہنیہ، جن کو عبدالعبد کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، ایک فلسطینی پناہ گزین کیمپ میں پیدا ہوئے تھے۔ وہ حماس کے سیاسی سربراہ ہیں جو 2006 میں وزیر اعظم بھی رہے۔سنہ 1989 میں انھیں اسرائیل نے تین سال کے لیے قید کر دیا گیا تھا جس کے بعد انھیں دیگر حماس رہنماؤں کے ساتھ لبنان سرحد پر بے دخل کر دیا گیا۔ اسماعیل ہنیہ تقریبا ایک سال تک جلا وطن رہے۔تاہم وہ ایک سال بعد غزہ لوٹے اور 1997 میں انھیں شیخ احمد یاسین کے دفتر کا سربراہ متعین کر دیا گیا۔16 فروری سنہ 2006 میں حماس نے انھیں فلسطین کے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے نامزد کیا اور اسی ماہ کی 20 تاریخ کو انھوں نے یہ عہدہ سنبھال لیا۔سنہ 2006 میں اسرائیلی فوج کے ہیلی کاپٹروں نے وزیر اعظم اسماعیل ہنیہ کے دفاتر کو نشانہ بھی بنایا۔ اس حملے میں تین محافظ زخمی ہوئے لیکن اسماعیل ہنیہ اس وقت وہاں موجود نہیں تھے۔
ایک سال بعد فلسطین کے صدر محمود عباس نے انھیں برطرف کر دیا جب القسام بریگیڈ نے غزہ کی پٹی میں سکیورٹی معاملات اپنے ہاتھ میں لے لیے۔ اسماعیل ہنیہ نے اس عمل کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی حکومت فلسطینی عوام کے لیے کام کرتی رہے گی۔ بعد میں اسماعیل ہنیہ نے فتح کے ساتھ مفاہمت پر زور دیا۔چھ مئی 2017 کو اسماعیل ہنیہ کو حماس کی شوریٰ نے سیاسی بیورو کا سربراہ منتخب کیا۔
خالد مشعل ابو الولید سنہ 1956 میں سلواد نامی گاؤں میں پیدا ہوئے تھے۔انھوں نے اپنی ابتدائی تعلیم وہیں حاصل کی تھی جس کے بعد ان کا خاندان کویت منتقل ہو گیا تھا جہاں انھوں نے سیکنڈری تعلیم مکمل کی تھی۔مشعل حماس تحریک کے بانیوں میں سے ایک ہیں اور وہ اس تحریک کے آغاز سے ہی اس کے سیاسی بیورو کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ وہ سنہ 1996 سے 2017 تک تحریک کے سیاسی بیورو کے صدر بھی رہے ہیں۔سنہ 2017 میں تحریک کی شوریٰ کونسل نے اسماعیل ہنیہ کو سیاسی بیورو کا سربراہ منتخب کیا تھا اور آج تحریک نے انھیں بین الاقوامی شعبے کا سربراہ بنایا ہے۔
