اسرائیل کی محبت میں یہودی ہونے والے پاکستانی مولوی کی کہانی

پاکستان میں ہندو اور عیسائی برادری کے لوگوں کے مذہب تبدیل کرنے اور مسلمان ہوجانے کے واقعات تو عام ہیں لیکن کیا کبھی آپ نے ایسا قصہ بھی سنا ہے کہ کوئی پاکستانی اسلام چھوڑ کر یہودی مذہب اختیار کر لے جب کہ اس کا تعلق ایک دینی مدرسہ چلانے والے مذہبی گھرانے سے ہو۔ جی ہاں مولانا خلیل الرحمان نامی ایسا ایک شخص پاکستان میں موجود ہے جو دین اسلام کو ترک کرکے یہودی مذہب اختیار کر چکا ہے اور آج کل پاکستان کے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات استوار کرنے کا ایجنڈا لے کر چل رہا ہے۔
مذہب تبدیل کرنے کے بعد مولانا خلیل الرحمن نے اپنا یہودی نام ڈیوڈ ایریئیل رکھا اور پچھلے کئی برسوں سے اس کا یہ مطالبہ ہے کہ اسے پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل جانے کی اجازت دی جائے۔ یاد رہے کہ اسرائیل دنیا کا وہ واحد ملک ہے جس کا سفر کرنا پاکستانی پاسپورٹ پر ممکن نہیں کیونکہ اس میں یہ واضح طور پر درج ہے کہ اس پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر کرنے پر پابندی یے۔ پاکستان اسرائیل کو جائز ریاست تسلیم نہیں کرتا اور ملک بھر میں اسرائیل کے خلاف شدید جذبات پائے جاتے ہیں۔ ایسے میں یہ تصور بھی محال ہے کہ پاکستان کا کوئی شہری خود کو صیہونیت کا پیروکار کہلوائے اور اسرائیل کی کھلم کھلا حمایت کرتا نظر آئے لیکن اپنے آپ کو مسلمان صیہونی یا مسلم زائنسٹ کہلوانے والے ڈیوڈ ایرئیل کا مسلسل اصرار ہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم کرے اور اس سے سفارتی تعلقات استوار کرے۔ یاد رہے کہ صیہونیت یا زائن ازم یہودیوں کی وہ قوم پرست تحریک ہے جس کی کوششوں سے 1967 میں اسرائیل کی سرزمین پر یہودی ریاست قائم ہوئی۔ اس تحریک کے پیروکاروں کو صیہونی یا زائنسٹ کہا جاتا ہے۔
پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر کرنے کی اجازت دیے جانے کے مطالبے پر قائم مولانا خلیل الرحمن عرف ڈیوڈ ایریئیل نے گزشتہ ایک ماہ سے نیشنل پریس کلب اسلام آباد کے سامنے واقع گراؤنڈ میں ایک احتجاجی کیمپ لگا رکھا تھا جس پر اسرائیل کا جھنڈا بھی آویزاں تھا۔ اس جھنڈے کو لے کر مذہبی شدت پسند سخت غصے میں تھے اور کئی مرتبہ اس کیمپ کو اکھاڑنے کی کوشش کر چکے تھے تاہم پولیس انہیں ایسا کرنے سے روک دیتی تھی۔ لیکن کچھ روز پیشتر پولیس کی موجودگی میں ہی مذہبی شدت پسندوں کا ایک گروہ اس کیمپ کو آگ لگانے میں کامیاب ہوگیا۔ بعد ازاں پولیس نے بھی اسرائیلی جھنڈا لہرانے کے الزام میں ڈیوڈ ایریئیل کو گرفتار کرکے تھانے منتقل کر دیا۔
تاہم پولیس حراست میں بھی ڈیوڈ ایریئیل کا مطالبہ ہے کہ وہ پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر کرنا چاہتا ہے لہذٰا حکومت پاکستان کو اپنے پاسپورٹ پر اسرائیل سے متعلق پاندی کی تحریر ختم کرنی چاہیے۔ خیال رہے کہ پاکستان اسرائیل کو تسلیم نہیں کرتا لہذٰا اسکے ساتھ سفارتی تعلقات نہ ہونے کے باعث اس کے پاسپورٹ پر درج ہے کہ یہ اسرائیل کے سفر کے لیے کارآمد نہیں ہے۔
خیال رہے کہ ماضی قریب میں فیصل آباد کے ایک مذہبی گھرانے سے تعلق رکھنے والے ڈیوڈ ایریئیل کو علامہ خلیل الرحمن کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اس کے والد مولانا قاری محمد یاسین فیصل آباد میں مدرسہ دار القران کے نام سے دینی تعلیم دیتے ہیں۔ خلیل نے دینی اور دنیاوی تعلیم آبائی شہر فیصل آباد میں ہی حاصل کی اور وہیں اپنے والد کے قائم کردہ مدرسے میں پڑھانا شروع کر دیا اور اسے مولانا خلیل الرحمٰن رحیمی کے نام سے جانا جانے لگا۔ اسکے والد قاری یٰسین ایک عزت دار مذہبی شخصیت ہیں اور شہر میں ان کا احترام کیا جاتا ہے۔ وہ خلیل الرحمٰن کی حرکتوں سے کچھ خوش نہیں تھے، کیونکہ وہ اکثر کوئی نہ کوئی ایسا کام کر دیتا جسے معاشرے میں پسند نہ کیا جاتا۔
انہی حرکتوں کی وجہ سے خلیل الرحمٰن کو اس کے والد نے کچھ سال قبل ملائیشیا بھیج دیا، جہاں وہ ایک مدرسے میں درس و تدریس کا کام کرتا رہا۔ خلیل الرحمٰن کی سوچ میں تبدیلی بھی وہیں آئی، جب اس نے ‘پاکستان اسرائیل الائنس’ نامی تنظیم میں شمولیت اختیار کر لی اور پاکستان اور اسرائیل میں دوستانہ تعلقات کے قیام کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔ خلیل نے تقریباً دو سال قبل اپنا نام تبدیل کر کے ڈیوڈ ایرئیل رکھ لیا اور اپنی لمبی داڑھی بھی منڈھوا دی۔
خلیل عرف ڈیوڈ کا دعویٰ ہے کہ پاکستان میں ہزاروں ایسے افراد ہیں جو اپنے مقدس مقامات کی زیارت کے لئے اسرائیل جانا چاہتے ہیں۔
اس کا مطالبہ ہے کہ جیسے پاکستانی مسلمان اپنے مقدس مقامات کی زیارات کے لیے مکہ، مدینہ جاتے ہیں۔ ایسے ہی ‘زائنسٹ’ کو بھی یروشلم جانے کی اجازت ہونی چاہیے۔ دوسری طرف سیکیورٹی اداروں کا۔کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر ڈیوڈ آریل کے اسرائیل نواز بیانات اور مطالبات کی وجہ سے پولیس نے اسے اپنی تحویل میں لیا ہے۔
دریں اثنا سینیٹ کی داخلہ امور کمیٹی کے چیئرمین رحمٰن ملک نے بھی اس معاملے کا نوٹس لیا اور اسلام آباد پولیس حکام سے معاملے کی تحقیقات کر کے آگاہ کرنے کی ہدایات جاری کیں۔ رحمٰن ملک نے ٹوئٹر پر ایک صارف کی جانب سے اسلام آباد میں اسرائیل کا پرچم لگانے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ کیسے ہو گیا؟
یاد رہے کہ ڈیوڈ ایریئیل نے تین ماہ قبل وزارتِ خارجہ سے درخواست کی تھی کہ ان کے پاسپورٹ سے اسرائیل کے حوالے سے تحریر حذف کی جائے تاکہ وہ پاکستانی پاسپورٹ پر اسرائیل کا سفر کر سکیں۔ ان کی درخواست پر وزارتِ خارجہ نے ان کا پاسپورٹ ضبط کر لیا جس پر وہ گزشتہ ماہ سے پریس کلب کے سامنے احتجاج کر رہا ہے۔ ڈیوڈ کا کہنا ہے کہ بہت سے پاکستانی پاسپورٹ کے بغیر اسرائیل کا سفر کرلیتے ہیں لیکن وہ چاہتا ہے کہ اپنے پاکستانی پاسپورٹ پر یروشلم جائے۔
حال ہی میں ڈیوڈ کا انٹرویو کرنے والے صحافی بلال ڈار کہتے ہیں کہ پاکستان میں بعض لوگ یہ سوچ رکھتے ہیں کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم ہونے چاہئیں۔ لیکن اس کے لیے عوامی سطح پر احتجاج ان کے لیے حیران کن تھا اور اسی بنا پر انہوں نے ڈیوڈ سے بات چیت کی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بات کرنا نہ صرف معیوب سمجھا جاتا ہے بلکہ عوامی سطح پر یہ ناپسندیدہ ترین موضوع ہے۔بلال ڈار کہتے ہیں کہ ڈیوڈ کا انٹرویو کرنے پر انہیں بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومتی سطح پر اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنے پر بات ہوسکتی ہے تو عوامی سطح پر بھی اس پہ سخت ردعمل نہیں آنا چاہیے۔
