اسلام آباد احتجاج: عمران خان کیخلاف منصوبہ بندی کا مقدمہ درج

اڈیالہ جیل میں قید بانی پی ٹی آئی عمران خان پر اسلام آباد میں احتجاج کی منصوبہ بندی کا مقدمہ درج کرلیا گیا۔
عمران خان کیخلاف مقدمہ اغواء، ڈکیتی، اقدام قتل، کار سرکار میں مداخلت اور اے ٹی سی ایکٹ سمیت 13 دفعات کے تحت سب انسپکٹر قیصر محمود کی مدعیت میں درج کیا گیا ہے، مقدمہ میں بانی پی ٹی آئی سمیت 14 مقامی رہنماؤں کو نامزد کیا گیا ہے۔
مقدمہ کے متن میں لکھا گیا ہے کہ عدالتی احکامات پر بانی پی ٹی آئی کو جیل مینوئل سے ہٹ کر غیر معمولی غیر قانونی سہولیات دی گئیں، جیل میں ملاقاتوں اور روابط میں عمران خان اپنے سیاسی کارکنوں کو ریاست اور اداروں کے خلاف تشدد پر اکساتے رہے۔ایف آئی آر میں کہا گیا کہ عمران خان نے پی ٹی آئی رہنماؤں کو پرتشدد ہجوم کی قیادت پر مجبور کیا، مظاہرین نے فائرنگ اور پٹرول بموں کا استعمال کرتے ہوئے ایک کانسٹیبل کو اغوا کر لیا جبکہ پانچ شدید زخمی کیے۔مقدمہ کے متن میں مزید لکھا گیا ہے کہ پولیس نے 105 مظاہرین گرفتار کیے جن سے 20 غلیلیں، اڑھائی ہزار بنٹے، 40 ڈنڈے اور 9 گاڑیاں قبضہ میں لے لیں۔
خیال رہے کہ پاکستان تحریک انصاف کے احتجاج کے باعث جڑواں شہروں راولپنڈی اور اسلام آباد کو ملانے والے تمام راستے تیسرے روز بھی بند ہیں۔راولپنڈی اسلام آباد کے بیشتر کاروباری مراکز بند ہیں اور معمولات زندگی بری طرح متاثر ہیں، مری روڈ تین دن سے ہر طرح کی ٹریفک کیلئے بند ہے، راولپنڈی: مری روڈ کی طرف آنی والی گلیوں اورراستوں پر کنٹینرز موجود ہیں، راستوں کی بندش سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔لیاقت باغ راولپنڈی سے فیض آباد تک جگہ جگہ رکاوٹیں موجود ہیں، پنجاب پولیس کی نفری جگہ جگہ تعینات اور سیکورٹی ہائی الرٹ ہے۔راستوں کی بندش کے باعث مریضوں کا اسپتال پہنچنا بھی دشوار ہو گیا ہے جبکہ موبائل انٹرنیٹ بند ہونے سے آن لائن کاروبار بھی شدید متاثر ہے، اس کے علاوہ میٹرو بس سروس بھی تیسرے روز معطل ہے۔
اسلام آباد کی حدود میں ایکسپریس وے،کشمیر ہائی وے ٹریفک کیلئےکھلی ہے، مری روڈ اور ائیرپورٹ روڈ ٹریفک کیلئےکھلے ہیں تاہم ریڈ زون جانے اور آنے والے تمام راستے بند ہیں ۔اسلام آباد سے لاہور جانے کے لیے موٹروے ایم ون ٹریفک کے لیے کھلی ہے، ایم ون پر کھودی گئی خندقوں کو بھر دیا گیا ہے، اسلام آباد سے پشاور جانے کیلئے موٹر وے ایم ٹو بھی کھول دی گئی ہے۔
