اسلام آباد لگژری کلب کی تعمیر پر نیوی اور CDA آمنے سامنے


اسلام آباد میں راول ڈیم کے قریب تعمیر کیے جانے والے بحریہ لگژری کلب کے معاملے پر پاکستان نیوی اور سی ڈی اے آمنے سامنے آ گئے ہیں۔ وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے نے کلب کی تعمیر کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے نوٹس جاری کر دیا ہے۔ سی ڈی اے کے پلاننگ، بلڈنگ اور ماحولیات کے شعبوں نے واضح کیا ہے کہ کلب کی تعمیر ہر لحاظ سے دارالحکومت کے لیے خطرناک اور غیر قانونی ہے کیونکہ ان کے ریکارڈ میں بحریہ کو ایسے مقاصد کے لیے راول ڈیم کے ساتھ کبھی کوئی جگہ الاٹ نہیں کی گئی۔ تاہم بحریہ ترجمان کا دعویٰ ہے کہ کلب کی منظوری 1991 میں اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف نے دی تھی۔ نیوی کا اصرار یے کہ ’پاکستان نیوی سیلنگ کلب‘ راول ڈیم پر 1992 سے قائم ہے اور اب اس میں تفریحی مقاصد کے لیے کچھ تبدیلیاں متعارف کرائی گئی ہیں جس کی وجہ سے سی ڈی اے نے غیر قانونی تعمیرات کا اعتراض لگاتے ہوئے نوٹس بھیجا ہے۔
واضح رہے کہ بحریہ لگژری کلب کا حال ہی میں افتتاح کیا گیا ہے اور اسکے ممبران کو صرف افواج پاکستان کے موجودہ اور ریٹائرڈ ارکان، بیوروکریسی، کاروباری شخصیات اور سفارتکاروں تک محدود رکھا گیا ہے۔ افواج پاکستان کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے ممبرشپ فیس دس ہزار، بیوروکریٹس کے لیے ڈیڑھ لاکھ جبکہ تاجروں اور سفارتکاروں کے لیے چھ لاکھ روپے مقرر کی گئی ہے۔ دوسری طرف سی ڈی کی جانب سے 13 جولائی کو جاری ہونے والے نوٹس میں کہا گیا ہے کہ اس سے قبل بھی سی ڈی اے کی جانب سے 17 ستمبر 2019 اور 24 فروری 2020 کو کلب انتظامیہ کو غیر قانونی تعمیر پر نوٹس جاری کیے گئے تھے مگر ان پر عمل درآمد نہیں کیا گیا ہے۔ اب ایک بار پھر یہ ہمارے نوٹس میں آیا ہے کہ یہاں غیر قانونی تعمیرات دوبارہ سے شروع ہو چکی ہیں اور کلب کو فعال کر دیا گیا ہے۔ نوتس مین کہا گیا یے کہ یہ سب سی ڈی اے کے بلڈنگ قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے جسے فوراً روکا جائے۔ تازہ نوٹس کے ذریعے سی ڈی اے نے بحریہ کے حکام کو متنبہ کیا ہے کہ اگر وہ قانون کے مطابق تعمیرات فوری طور پر نہیں روکتے تو پھر وفاقی ترقیاتی ادارے کو حق حاصل ہو گا کہ وہ یہ غیر قانونی تعمیرات گرا دے۔ سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان نیوی کو راول ڈیم پر ان مقاصد کے لیے کوئی جگہ الاٹ نہیں کی گئی اور جو تعمیرات کی گئی ہیں وہ سب غیر قانونی ہیں۔
سی ڈی اے بلڈنگ سیکشن کے مطابق اگر پاکستان نیوی اپنی پوزیشن سے پیچھے نہیں ہٹتی تو پھر قانون کے مطابق سی ڈی اے اسلام آباد انتظامیہ سے مدد طلب کرے گی اور پولیس کی نفری کے ساتھ غیر قانونی تعمیرات کو گرا دیا جائے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا اسلام آباد پولیس پاکستان نیوی کے خلاف آپریشن میں حصہ لے گی؟ اس سوال کے جواب میں سی ڈی اے حکام کا کہنا ہے کہ قانون میں تو یہی لکھا ہے کہ وہ غیرقانونی کام کے خلاف ادارے کی مدد کرنے کے پابند ہیں۔ سی ڈی اے حکام کے مطابق راول ڈیم پر کلب نہ صرف ایک غیر قانونی تعمیر ہے بلکہ یہ ماحولیات کے لیے بھی ایک بڑا مسئلہ ہے کیونکہ اس ڈیم سے راولپنڈی کے باشندوں کو پانی کی فراہمی کی جاتی ہے۔ وفاقی ترقیاتی ادارے کے پلاننگ، بلڈنگ اور ماحولیات کے شعبوں نے پاکستان نیوی کے اس منصوبے کو ہر لحاظ سے دارالحکومت کے لیے خطرناک قرار دیا ہے۔ ان شعبوں کے حکام کے مطابق رکنیت حاصل کرنے کے بعد جب یہاں زیادہ لوگ آ کر رکیں گے تو اس سے نہ صرف راول ڈیم کا پانی آلودہ ہو گا بلکہ نیشنل پارک ایریا بھی متاثر ہو سکتا ہے۔
تاہم دوسری طرف ترجمان پاک بحریہ نے سی ڈی اے کی طرف سے عائد کردہ تمام الزامات مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحری افواج کبھی بھی غیر قانونی قبضوں اور تجاوزات پر یقین نہیں رکھتیں۔ اسلام آباد میں یہ جگہ بطور ’ڈائیونگ فسیلِیٹی‘ قائم کی گئی تھی تاکہ یہاں پیشہ ورانہ مقاصد کے حصول کے لیے کام کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کلب کا نام ’نیشنل سیلنگ کلب راول لیک‘ رکھا گیا ہے اور اس جگہ موجود نیوی کے اہلکار ہنگامی حالات میں گلگت بلتستان تک ریسکیو آپریشن میں حصہ لینے کے لیے جاتے رہے ہیں اور مصیبت میں گھری درجنوں قیمتی انسانی جانیں بچائی گئی ہیں۔ کلب کے قانونی پہلوؤں سے متعلق ترجمان کا کہنا تھا کہ اس سے قبل بھی پاکستان نیوی نے سی ڈی اے چیئرمین عامر احمد علی کو تفصیلی خط بھیجا تھا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں یہ جگہ پاکستان نیوی کو الاٹ کی گئی تھی۔ ان کے مطابق اس جواب کے بعد سی ڈی اے نے خاموشی اختیار کر لی تھی اور پھر کوئی وجہ نہیں تھی کہ کلب کی بہتری کے لیے نیوی اپنا کام جاری نہ رکھتی۔ پاکستان نیوی کے ترجمان کے مطابق کلب کی رکنیت کھولنے کا مقصد کوئی تجارت یا مالی فائدہ حاصل کرنا نہیں ہے بلکہ ایسا کلب کی بہتری کے لیے کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ بات درست نہیں ہے کہ سویلینز کے لیے اس کلب کے دروازے بند کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق اس جگہ کی رکنیت بالکل بھی امتیازی نہیں ہے بلکہ آگے چل کر عام شہری بھی اس کلب سے مستفید ہو سکیں گے۔
لیکن سی ڈی اے ذرائع کے مطابق پاکستان نیوی کو زمین سیلنگ کلب کے لیے ملی ہوئی ہے مگر یہاں پر کمرشل سہولتوں سے آرستہ کنٹری کلب بنا کر قانون کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔ وفاقی ترقیاتی ادارے اور وزارت ماحولیات کے قوانین کے مطابق اسلام آباد کے زون تھری کے علاقے میں رہائشی، فارمنگ اور کمرشل سرگرمیوں کی اجازت نہیں کیونکہ یہ نہ صرف اسلام آباد وائلڈ لائف آرڈیننس 1980 کی خلاف ورزی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ اسلام آباد کی زوننگ ریگولیشنز 1992 کی بھی خلاف ورزی ہے۔ قوانین کے مطابق زون تھری میں تعمیرات پر اس لیے پابندی ہے کہ ماحولیات کے ساتھ یہاں قدرتی پودوں اور جنگلی جانوروں کی حفاظت کی جائے۔ قوانین میں مزید لکھا گیا ہے کہ یہاں پر نہ صرف غیر قانونی تعمیرات پر پابندی ہے بلکہ اس کے ساتھ ساتھ باؤنڈری وال تعمیر کرنا بھی اسلام آباد وائلڈ لائف آرڈینینس 1980 کی خلاف ورزی ہے جو نیوی سیلنگ کلب نے غیر قانونی طور پر تعمیر کی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button