اسلام آباد میں فوج کے حق میں بینرز آویزاں، انتظامیہ بے خبر

اسلام آباد میں پاک فوج کے حق میں بینر آویزاں کر دیئے گئے ہیں جبکہ انتظامیہ نے اس سے لاعلمی کا اظہار کیا ہے۔
ایک اخبار کی رپورٹکے مطابق وفاقی دارالحکومت میں فیض آباد سے فیصل مسجد تک ایکسپریس وے اور فیصل ایونیو پر، ڈھوکری چوک، آئی-9 اور سری نگر چوک تک سڑک کے اطراف درختوں اور کھمبوں پر درجنوں بینرزلٹکائے گئے ہیں۔
لیکن تاحال یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ بینرز کس نے لٹکائے ہیں، رابطہ کرنے پر پولیس اور انتظامیہ کے اہلکاروں نے پہلے تو بینرز کی موجودگی سے لاعلمی کا اظہار کیا، تاہم جب کچھ اخبار نویسوں نے ان سے رابطہ کیا اور معاملے کے بارے میں دریافت کیا تو پولیس نے ایک ٹیم کو ان علاقوں میں بھیجا جہاں بینرز آویزاں پائے گئے۔
رپورٹ کے مطابق بظاہر یہ بینرز پی ٹی آئی کے جلسوں میں مسلح افواج پر تنقید کے ردعمل میں لٹکائے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ قانون کے تحت اسلام آباد میں بینرز آویزاں کرنے یا ٹانگنے کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف میونسپل ایڈمنسٹریشن اسلام آباد سے اجازت لینا ضروری ہے۔
خیال رہے کہجمعہ کو مختلف سرکاری محکموں کے عہدیداروں نے بھی مسلح افواج کے حق میں مظاہرے کیے، پولیس نے بتایا کہ قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کے 50 سے زائد عہدیداروں نے بھی مسلح افواج کے حق میں مظاہرے میں حصہ لیا اور ان پر تنقید کرنے والوں کے خلاف مظاہرہ کیا، مظاہرین نے دوپہر کو پارلیمنٹ کے گیٹ ون سے وی آئی پی گیٹ تک مارچ کیا۔انہوں نے کہا
پاک سیکریٹریٹ کے اہلکاروں کے ایک گروپ نے بھی پاک سیکریٹریٹ میں ایسا ہی مظاہرہ کیا۔
قبل ازیں راولپنڈی کے بحریہ ٹاؤن فیز 8 میں پاکستانی فوج اور اس کے سربراہ کے خلاف وال چاکنگ بھی پائی گئی۔ روات پولیس میں تعزیرات پاکستان کی دفعہ 124-اے، پنجاب پروہیبیشن آف ایکسپریسنگ میٹر آن والز ایکٹ 2015 اور پنجاب مینٹیننس آف پبلک آرڈر آرڈیننس 1960 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ ایف آئی آر کے مطابق بحریہ ٹاؤن کے علاقے میں پولیس کی ایک ٹیم کو گشت کے دوران دیواروں پر قومی سلامتی کے اداروں کے خلاف اشتعال انگیز ریمارکس ملے۔
