اسلام آباد کے جلسے کے بعد PTI دوبارہ بند گلی میں پھنس گئی

8 ستمبر اسلام آباد کے جلسے میں اسٹیبلشمنٹ کو ہدف تنقید بنا کر پی ٹی آئی نے ایک بار پھر اپنی سیاست کو بند گلی میں دھکیل دیا ہے جس کے بعد تحریک انصاف کی پولیٹیکل اسپیس مزید سکڑتی دکھائی دیتی ہے تاہم پاکستان تحریک انصاف نے اسلام آباد میں جلسے میں اسٹیبلشمنٹ اور حکومت مخالف جارحانہ بیانیہ اپنانے کے بعد پارٹی رہنماؤں کی گرفتاریوں کے باوجود لاہور میں جلسہ کرنے اور جلد ملک بھر میں احتجاجی مظاہرے کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تاہم سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا مریم نواز کی حکومت پنجاب پی ٹی آئی کو لاہور یا پنجاب کے کسی دوسرے شہر میں جلسے کی اجازت دے گی؟ یہاں یہ سوال بھی پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعلی خیبرپختونخوا کی جانب سے اعلان کے مطابق پنجاب پر یلغار کا مریم نواز کیسے جواب دیں گی؟ ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے لیگی رہنما رانا ثناء اللہ کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو ملک میں مزید انتشار پھیلانے کی اجازت نہیں دینگے۔ گنڈاپور لاہور میں جلسے کا خیال دل سے نکال دے اگر وہ پنجاب پر یلغار کی سوچ کے ساتھ آیا تو اسے اٹک کا پل بھی کراس نہیں کرنے دینگے۔ تاہم پی ٹی آئی رہنماؤں کی مطابق لاہور میں جلسے کی اجازت ملے یا نہ ملے 22 ستمبر کو ہر صورت مینار پاکستان پر جلسہ ہو گا۔
تاہم سیاسی تجزیہ کار سلمان غنی کے مطابق ’تحریک انصاف نے آٹھ فروری کے بعد ملنے والی سیاسی سپیس اسلام آباد جلسے میں نامناسب بیانیے کی وجہ سے ختم کر لی ہے۔ اب انہیں لاہور تو کیا کہیں بھی جلسے کی اجازت ملنا مشکل ہے۔‘سلمان غنی نے مزید کہا کہ ’تحریک انصاف نے معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اسلام آباد جلسے کا وقت بڑھایا۔ اسی آڑ میں وہاں اسٹیبلشمنٹ اور مخالف سیاسی قیادت کے خلاف نازیبا بیانات کی وجہ سے کارروائی ہو رہی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب حکومت لاہور تو کیا انہیں کہیں بھی جلسے کی اجازت نہیں دے گی۔‘
فوج نے جو مذاکرات شروع نہیں کیے، عمران نے انہیں ختم کیسے کر دیا ؟
تاہم جلسے کے حوالے سے معاہدے کی خلاف ورزی پر عمرانڈوز کی گرفتاریوں کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس سے قبل بھی کسی سیاسی جماعت کو معاہدے کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کا سامنا کرنا پڑا ہے؟سلمان غنی کے بقول، ’انتظامیہ یا عدالت کی اجازت کے تحت کسی معاہدے کی خلاف ورزی پر جلسہ کرنے والوں کے خلاف ایسی کارروائی پہلے نہیں ہوئی۔ لیکن مولانا مودودی کے دور میں جماعت اسلامی کے ایک کارکن اللہ بخش کی پولیس فائرنگ سے موت پر لاہور میں جلسہ ہوا تھا۔ جس میں پولیس نے شرکا کو منتشر اور رہنماؤں کو گرفتار کر لیا تھا۔‘انہوں نے کہا کہ ’پی ٹی آئی کے اسلام آباد میں جلسے کے شرکا سے پولیس جھڑپ اور جلسے میں علی امین گنڈا پور سمیت دیگر رہنماؤں کی جانب سے انتشار کے بیانیے نے حکومتی کارروائی کو دعوت دی ہے۔ پھر یہ بھی پہلی بار ہوا کہ اسلام آباد میں اجازت نامے کی خلاف ورزی پر قانونی کارروائی کا قانون بن چکا ہے۔ قانون تو اس سے پہلے بھی موجود ہیں لیکن وہ اس طرح جلسہ کرنے والوں کو پابند نہیں کرتے جیسے اس قانون کے تحت کیا گیا ہے۔‘
سلمان غنی کے مطابق ’ افسوس پی ٹی آئی نے آٹھ ستمبر کو خود کو نو مئی کے بعد سیاسی جمود سے نکالنے کی کوشش کا فائدہ نہ اٹھایا بلکہ خود کو ریڈ زون میں لے گئی۔ کاش وہ ریڈ لائن کراس نہ کرتی کیونکہ اس کو اپنی سیاسی سپیس مل گئی تھی وہ اسلام اباد کے بعد لاہور اور لاہور کے بعد دیگر شہروں تک اپنی سیاسی سرگرمیاں پھیلا سکتی تھی۔ اس کو سیاسی اور عوامی کردار کی ادائیگی کا موقع ملا مگر اس نے خود گنوا دیا۔’یہاں یہ سوال بھی جنم لیتے ہیں کہ بانی پی ٹی آئی عمران خان نے جلسے سے ایک دن پہلے بیان دیا کہ علی امین گنڈا پور کو ان کی مکمل سرپرستی حاصل ہے لہذا یہ گمان کیا جارہا ہے کہ ان کے بیانیے کو عمران خان کی مکمل حمایت حاصل ہے۔‘
تاہم تجزیہ کار وجاہت مسعود کے مطابق ہر دور میں حکومت وقت کے خلاف اپوزیشن کے احتجاج یا جلسوں کو برداشت نہیں کیا جاتا۔ خود پی ٹی آئی کے دور میں بھی اپوزیشن جماعتوں کو کھلے عام جلسے جلوسوں یا احتجاج کی اجازت نہیں ہوتی تھی۔ لیکن آئینی اور قانونی حق کے تحت سب اپوزیشن جماعتیں اپنے اپنے انداز میں سیاسی جدوجہد کرتی رہی ہیں۔ وجاہت مسعود کے بقول ’ واضح ہو گیا ہے کہ پی ٹی آئی کو8 ستمبر کو جلسہ کرنے کی اجازت اس لیے دی گئی کہ وہ حسب عادت قانون توڑیں اور سب کو پکڑ لیا جائے۔ تاکہ جب عمران خان کو فوج کی تحویل میں دیا جائے تو کوئی بولنے یا احتجاج کرنے والا ہی نہ ہو۔‘
