اسلام آباد کے سفارتکار اور صحافی ایک دوسرے سے شاکی کیوں؟

معروف تجزیہ کار اور اینکر پرسن حامد میر نے کہا ہے کہ شہر اقتدار اسلام آباد میں صحافیوں اور سفارتکاروں کے مابین اعتماد کا شدید بحران پیدا ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق متعدد پاکستانی صحافیوں کو یہ شکایت ہے کہ انہوں نے کسی سفارتکار کیساتھ آف دی ریکارڈ گفتگو کی، لیکن اگلے ہی روز وہ بات خفیہ ایجنسیوں تک پہنچ گئی جہاں سے صحافی کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔ بعض معاملات میں ایسا بھی ہوا کہ کسی صحافی نے کوئی بات کی ہی نہیں، لیکن اس کے ساتھ ایک غلط دعویٰ منسوب کر دیا گیا، جس کے باعث اب اسلام آباد کے صحافیوں اور سفارتکاروں کے درمیان اعتماد کی خلیج بڑھتی جا رہی ہے۔

روزنامہ جنگ کے لیے سیاسی تجزیے میں حامد میر لکھتے ہیں کہ صحافی اور سیاست دان کی دوستی ہمیشہ مشکل رہی ہے، تاہم صحافی اور سفارتکار کے درمیان تعلقات اتنے پیچیدہ نہیں ہوتے۔ یہ رشتہ اس وقت بگڑتا ہے جب صحافی خبر کے پیچھے جانے کے بجائے کسی کا سفیر بننے لگے، کیونکہ اس مرحلے پر وہ صحافی نہیں رہتا۔ حامد میر کے مطابق حال ہی میں ایک غیر ملکی سفارتکار نے ان سے سوال کیا کہ پاکستان کے صحافیوں کے پاس خبریں کم اور افواہیں زیادہ کیوں ہوتی ہیں۔ اس سوال پر انہوں نے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ آج بھی اچھے صحافیوں کے پاس خبروں کی کمی نہیں، لیکن وہ سفارتکاروں کے ساتھ اصل خبریں شیئر کرنے سے گریز کرتے ہوئے انہیں ادھر اُدھر کی افواہوں پر ٹرخا دیتے ہیں، جس کی بنیادی وجہ صحافیوں اور سفارتکاروں کے درمیان اعتماد کا فقدان ہے۔

حامد میر کے بقول یہ ایک ایسا حساس موضوع ہے جس پر حالیہ عرصے میں ان کی کئی غیر ملکی سفارتکاروں سے گفتگو ہوئی ہے۔ کئی پاکستانی صحافیوں کا کہنا ہے کہ سفارت کاروں کے ساتھ ہونے والی آف دی ریکارڈ بات چیت کو آگے رپورٹ کر دیا جاتا ہے، جس کے نتیجے میں صحافیوں کو سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ ایک سفارت کار ایسا بھی تھا جس نے کسی صحافی کی سنی سنائی بات اپنے اعلیٰ حکام تک پہنچا دی، جس کے باعث آج اسکی اپنی ملازمت خطرے سے دوچار ہے۔

اس سفارتکار نے اپنی حکومت کو یہ خبر دی تھی کہ پاکستان غزہ میں قیام امن کے لیے اپنی فوج بھیجنے جا رہا ہے۔ اس کا سورس ایک پاکستانی صحافی تھا جسے سفارتکار حکومت کے بہت قریب سمجھتا تھا۔ بعد ازاں جب ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے واضح بیان دیا کہ پاکستان حماس کو غیر مسلح کرنے کے لیے غزہ میں فوج نہیں بھیجے گا تو وہ سفارتکار پریشان ہو گیا۔ اس نے اپنے سورس سے پوچھا کہ خبر غلط کیوں ثابت ہوئی، تو جواب ملا کہ یہ بات سوشل میڈیا پر پڑھی گئی تھی۔ حامد میر کہتے ہیں کہ سوشل میڈیا پر فیک نیوز اور جعلی ویڈیوز کی یلغار نے کئی سنجیدہ اور سمجھدار افراد کو اس پلیٹ فارم سے دور کرنا شروع کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر یہ دعوے کیے جا رہے تھے کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ وینزویلا کے بعد ایران پر حملہ کریں گے اور پاکستان اس حملے کے لیے امریکہ کو اڈے فراہم کرے گا، تاہم 6 جنوری کو اقوام متحدہ میں پاکستان نے وینزویلا کے خلاف ٹرمپ کے اقدام کی مذمت کر کے ایک بار پھر سوشل میڈیا کی خبروں کو غلط ثابت کر دیا۔

حامد میر کے مطابق وینزویلا میں ٹرمپ کے اقدامات نے دنیا بھر کو ہلا کر رکھ دیا ہے اور یہ سوال بھی پیدا ہو رہا ہے کہ اگر روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے حکم پر یوکرین کے صدر زیلنسکی کو اغوا کر کے ماسکو پہنچا دیا جائے تو امریکہ کیا ردعمل دے گا۔ بھارتی سیاست کا حوالہ دیتے ہوئے حامد میر لکھتے ہیں کہ بھارتی پارلیمنٹ کے مسلم رکن اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسدالدین اویسی نے وزیر اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ جس طرح ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کو اغوا کر کے نیویارک پہنچایا، اسی طرح بھارت میں حملوں کے مبینہ ملزمان کو پاکستان سے اغوا کر کے دہلی کیوں نہیں لایا جاتا۔

حامد میر کے مطابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف نے واضح طور پر بتایا ہے کہ بھارتی میڈیا میں یہ دعوے کیے جا رہے ہیں کہ 2026 میں بھارت اور افغانستان کی جانب سے پاکستان پر مشترکہ حملہ کیا جائے گا، تاہم پاکستان کسی بھی جارحیت کا جواب دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افغان طالبان کے حوالے سے ڈی جی آئی ایس پی آر کے لب و لہجے کے بعد ایک افغان صحافی نے ان سے سوال کیا کہ کہیں پاکستان نے افغان طالبان کی قیادت کو ہیلی کاپٹروں کے ذریعے اغوا کرنے کا کوئی منصوبہ تو نہیں بنا لیا۔

حامد میر کے مطابق افغان صحافی نے بتایا کہ طالبان مخالف رہنما اور احمد شاہ مسعود کے صاحبزادے احمد مسعود نے بیان دیا ہے کہ جس طرح ٹرمپ نے وینزویلا کے صدر کو اغوا کیا، پاکستان بھی افغان طالبان کے سربراہ ملا ہیبت اللہ کو قندھار سے اغوا کر سکتا ہے۔

حامد میر کہتے ہیں کہ انہوں نے افغان صحافی سے سوال کیا کہ اگر پاکستان فوجی کارروائی کے ذریعے طالبان قیادت کو ختم کر دے تو کیا مسئلہ حل ہو جائے گا؟ اس پر افغان صحافی کا کہنا تھا کہ ایسی صورت میں شمالی افغانستان احمد مسعود اور عبدالرشید دوستم کے حامیوں کے کنٹرول میں چلا جائے گا، مشرقی افغانستان میں کہیں طالبان اور کہیں داعش کا اثر ہوگا جبکہ کابل میں خانہ جنگی شروع ہو سکتی ہے۔

داعش کے پس منظر پر بات کرتے ہوئے حامد میر لکھتے ہیں کہ یہ تنظیم 2013 میں ابو بکر البغدادی نے عراق اور شام میں قائم کی، جبکہ 2015 میں طالبان کے ایک باغی حافظ سعید اورکزئی نے پاکستان اور افغانستان میں اس کی شاخ بنائی۔ داعش اور طالبان 2015 سے ایک دوسرے کے خلاف برسرپیکار ہیں۔ داعش افغان طالبان کو پاکستان کا ایجنٹ قرار دیتی رہی ہے جبکہ اب پاکستان کی حکومت افغان طالبان کو بھارت کا ایجنٹ قرار دے رہی ہے۔ ایرانی حکومت داعش کو اسرائیل کی تخلیق سمجھتی ہے کیونکہ داعش کے جنگجو اسرائیل کے بجائے ایران اور افغانستان کا رخ کر رہے ہیں۔

حامد میر کے مطابق پاکستان نے داعش کے ایک افغان کمانڈر محمد شریف اللہ کو گرفتار کر کے گزشتہ برس امریکہ کے حوالے کیا، جبکہ حال ہی میں داعش کا ایک اور افغان رہنما سلطان عزیز عزام پاکستان میں گرفتار ہوا ہے، جو اپنے ریڈیو چینل ’’صدائے خلافت‘‘ کے ذریعے افغان طالبان کو منافق قرار دیتا اور افغانوں کے ساتھ ساتھ پاکستانیوں کو بھی ریاست کے خلاف بغاوت پر اکساتا تھا۔ حامد میر کا کہنا ہے کہ پاکستان کو چاہیے کہ سلطان عزیز عزام سے ہونے والی تحقیقات کی تفصیلات منظر عام پر لائے جائیں تاکہ یہ واضح ہو سکے کہ داعش کا اصل ماسٹر مائنڈ کون ہے۔

پنجاب میں جرائم 2 فیصد کم: لیکن مریم کا 80 فیصد کمی کا دعوی

حامد میر کہتے ہیں کہ پاکستان سمیت خطے کے تمام ممالک کو افغانستان کے حوالے سے ایک مشترکہ حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ افغان طالبان کو بھی یہ ثابت کرنا ہوگا کہ وہ بھارتی کنٹرول میں نہیں، بصورت دیگر ان کے معاملات مزید بگڑ سکتے ہیں۔ ساتھ ہی پاکستان کو بھی یہ سوچنا ہوگا کہ اگر افغانستان میں طالبان کا کنٹرول ختم ہو جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں ایک نئی خانہ جنگی جنم لے سکتی ہے، جس کا سب سے بڑا بوجھ ایک بار پھر لاکھوں افغان مہاجرین کی صورت میں پاکستان کو اٹھانا پڑے گا۔

Back to top button