اسلام آباد کے پارک میں طالبان کا پرچم کس نے لہرایا؟

افغانستان میں طالبان کی مسلسل پیش قدمی اور فتوحات کے دوران کوئٹہ اور پشاور کے بعد اب افغان طالبان کے حامیوں نے اسلام آباد میں بھی طالبان کی امارت اسلامی کا پرچم لہرا دیا ہے۔
معلوم ہوا ہے کہ یکم اگست کے روز پاکستانی سیکیورٹی اداروں کو اس وقت ہائی الرٹ کردیا گیا جب پولیس کو یہ اطلاع ملی کہ چند لوگوں کا ایک گروہ اسلام آباد کے لیک ویو پارک میں امارات اسلامی طالبان کے پرچم لہرا رہا ہے۔ یاد رہے کہ لیک ویو پارک مالپور گاؤں کے نزدیک اور مری روڈ کے ساتھ واوع ہے، جہاں سے اہم سرکاری عمارات بشمول پارلیمنٹ ہاؤس زیادہ دور نہیں۔ اس علاقے کا انتظام اسلام آباد کی کیپیٹل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے پاس ہے۔ ذرائع کا کہنا تھا کہ پارک میں شام کے وقت چار درجن کے قریب نوجوانوں کو یہ دونوں پرچم لہراتے اور تصاویر کھنچواتے دیکھا گیا جس کے بعد ایک پولیس پارٹی فوری طور پر اس مقام پر پہنچی اور ان افراد سے پوچھ گچھ کی، ان سے طالبان امارات اسلامی کے پرچم تو چھین لیے گے البتہ ان کے خلاف کوئی مقدمہ درج نہیں کیا گیا۔
جب اس کیس کی تفتیش کرنے والے پولیس افسر سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے پارک میں ‘ایسے افراد’ کی موجودگی کی تصدیق کی۔
تاہم انہوں نے اس واقعے سے متعلق مزید تفصیلات فراہم کرنے سے انکار کیا۔
ایک دوسرے افسر کا کہنا تھا کہ چونکہ پاکستان میں کسی دوسرے ملک کا پرچم لہرانا جرم نہیں اس لیے پولیس نے کوئی کارروائی نہیں کی۔ تاہم جب انکو یاد دلایا گیا کہ پارک میں افغانستان کا نہیں بلکہ طالبان کا پرچم لہرایا گیا تھا ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
خیال رہے کہ اگست 2019 میں خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کے بورڈ بازار میں بل بورڈ پر افغانستان کا قومی پرچم آویزاں کرنے کے الزام میں ایک افغان شخص کو گرفتار کر لیا گیا تھا۔
پولیس کا کہنا تھا کہ ملزم کے مطابق پرچم آویزاں کرنے کے پسِ پردہ کوئی مذموم مقصد نہیں تھا بلکہ وہ صرف اس کے ساتھ تصویر کھیچنا چاہتا تھا۔ اس واقعے کے ایک ہفتہ بعد کوئٹہ میں بھی افغان طالبان کے ہمدرد سینکڑوں افراد نے طالبان امارات اسلامی کا پرچم لہراتے ہوئے ایک بڑا جلوس نکالا تھا۔
