شیریں مزاری کو رات ساڑھے11 بجے پیش کرنے کا حکم

شیریں مزاری کو رات ساڑھے11 بجے پیش کرنے کا حکم
اسلام آباد کی عدالت عالیہ نے پی ٹی آئی کی رہنما اور سابق وفاقی وزیر شیریں مزاری کو رات11 بجے پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔
اسلام آباد ہائیکورٹ میں گرفتار شریں مزاری کی بیٹی ایمان مزاری کی جانب سے دائر درخواست پر سماعت ہوئی۔ جس میں انہیں عدالت میں پیش کرنے کی استدعا کی گئی تھی۔ درخواست میں سیکریٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد اور ایس ایچ او تھانہ کوہسار کو فریق بنایا گیا۔ درخواست میں کہا گیا تھا کہ معلوم ہوا کہ آج دن میں پٹیشنر کی والدہ کو زبردستی اٹھایا گیا، نزدیکی پولیس اسٹیشن کوہسار پہنچے تو کسی ایف آئی آر کی معلومات نہیں دی گئیں.
داخواست گزار کے مطابق میری والدہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے انسانی حقوق خلاف ورزیوں کی ناقد ہیں، دن کے اجالے میں والدہ کو اٹھایا گیا اور فیملی ممبرز کو اس متعلق کوئی معلومات بھی فراہم نہیں کی جا رہیں، پٹیشنر کی والدہ کو وفاقی دارالحکومت سے اٹھایا گیا اور قانونی تقاضے بھی پورے نہیں کیے گئے۔
عدالت نےشیریں مزاری کو رات ساڑھے گیارہ بجے تک پیش کرنے کا حکم دے دیا۔ اس کے علاوہ آئی جی، ڈپٹی کمشنر اسلام آباد اور سیکریٹری داخلہ کو بھی طلب کرلیا گیا۔
عدالت عالیہ کا کہنا تھا ایمان مزاری کے مطابق ان کی والدہ اب بھی رکن قومی اسمبلی ہیں، کسی بھی ایم این کو اسپیکر قومی اسمبلی کی اجازت کے بغیر گرفتار نہیں کیا جاسکتا، بظاہر شیریں مزاری کو غیر قانونی طور پر حراست میں لیا گیا۔
باخبرذرائع کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کی انسٹیٹیوشن برانچ کاعملہ چھٹی کے بعددوبارہ ہائیکورٹ پہنچا تھا۔
واضح رہے کہ آج سنیچر کواینٹی کرپشن پنجاب کی ٹیم نے سابق وفاقی وزیر کو کوہسار تھانے کی حدود سے گرفتار کیا۔
