اسلام آباد ہائیکورٹ پر حملہ، چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بار کونسلز کو خط لکھ دیا

چند شر پسند وکلا نے پوری بار کا سر شرم سے جھکا دیا ، یقین دلاتا ہوں کہ ذلت آمیز واقعے کو منتقی انجام تک پہنچایا جائے گا ، آئندہ ایسے افسوسناک واقعے کو روکنے کیلئے ذمہ داروں سے سختی سے نمٹنا ضروری ہے ، وقت کا تقاضہ ہے کہ بار کونسلز بھی خاموشی توڑ کر نئی روایت قائم کریں ، خط کا متن
اسلام آباد ہائی کورٹ پر حملے کے حوالے سے ایکشن لینے کیلئے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے بار کونسلز کو خط لکھ دیا۔ تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس اسلام آباد ہائیکورٹ نے بار کونسلز کو 15 صفحات پر مشتمل تفصیلی خط لکھا ، وائس چئیرمینز پاکستان اور اسلام آباد بار کونسل کو خط لکھا گیا ، جس میں انہوں نے کہا کہ چند وکلاء کے مس کنڈکٹ پر بار کونسل کو بطور چیف جسٹس غیر معمولی خط لکھ رہا ہوں ، یقین دلاتا ہوں کہ ذلت آمیز واقعے کو منتقی انجام تک پہنچایا جائے گا ، آئندہ ایسے افسوسناک واقعے کو روکنے کیلئے ذمہ داروں سے سختی سے نمٹنا ضروری ہے ، وقت کا تقاضہ ہے کہ بار کونسلز بھی خاموشی توڑ کر نئی روایت قائم کریں ، بار کونسلز بد صورت عناصر کا سخت احتساب کرکے عدلیہ کا وقار قائم کریں۔
چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے اپنے خط میں لکھا کہ مجھ سمیت کوئی بھی شخص قانون سے بالاتر نہیں ہے ، وکلاء ہی قانون کے محافظ ہیں ، ہر وکیل کی ذمہ داری ہے کہ وہ معاشرے کے لیے مثالی کردار بنے لیکن چند شر پسند وکلا نے پوری بار کا سر شرم سے جھکا دیا ، امید کرتا ہوں کہ ایسے وکلاکے خلاف پاکستان اور اسلام آباد بار کونسلز کارروائی کریں گی ، پوری قوم بار کونسلز کی طرف دیکھ رہی ہے کہ ایکشن ہو اس سے پہلے کہ دیر ہو جائے ، پرامید ہوں کہ بار کونسلز اسلام آباد ہائیکورٹ پر حملے کرنے والوں کا احتساب کریں گی۔
خط میں حملے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے مزید لکھا گیا ہے کہ 8 فروری کو وکلاء کے ہجوم نے چیف جسٹس بلاک اور چیمبر پر دھاوا بولا ، موقع پر موجود سیکیورٹی کے افسران نے مجھے بلاک سے جانے کی درخواست کی ، پولیس کے سینئر افسران کو کہا کہ مجھ سمیت ہم سب کا تعلق نوبل پیشے سے ہے ، واقعے کے 30 منٹ کے اندر دیگر ججز صاحبان بھی میرے بلاک میں پہنچ گئے ، 12بج کر 45 منٹ پر سیکیورٹی ا سٹاف نے چیمبر اور چیف جسٹس بلاک کو خالی کرایا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button