اسلام آباد ہائی کورٹ: فیصل واڈا کی نااہلی کےلیے دائر اپیل مسترد

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کے نو منتخب سینیٹر فیصل واڈا کی نا اہلی کی درخواست مسترد کردی۔
اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے میاں فیصل کی انٹرا کورٹ اپیل کے قابل سماعت ہونے کے حوالے سے معاملے پر سماعت کی۔
دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے بطور ممبر قومی اسمبلی فیصل واؤڈا کی نااہلی کی درخواست دائر کی تھی، اب وہ سینیٹر منتخب ہوئے ہیں کیا کسی نے وہ چیلنج کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قانون کو بھی مدنظر رکھنا ہوتا ہے، کیا فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن میں کوئی سماعت ہوئی۔ اس پر درخواستگزار کے وکیل جہانگیر خان جدون نے عدالت کو بتایا کہ الیکشن کمیشن میں ابھی اس پر کوئی سماعت نہیں ہوئی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سنگل بنچ نے الیکشن کمیشن کو معاملہ بھیجا، الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے اور وہ بہت بااختیار ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بدقسمتی سے الیکشن کمیشن کو بہت نیچے لے آئے ہیں، الیکشن کمیشن معاملہ سول کورٹ کو کرمنل کارروائی کےلیے بھی بھیج سکتا ہے۔
جہانگیر جدون نے عدالت میں مؤقف اپنایا کہ فیصل واؤڈا نے بیان حلفی میں کہا کہ وہ پاکستان کے علاوہ کسی ملک کے شہری نہیں، ان کے جھوٹے بیان حلفی پر عدالت نے فیصلے میں کچھ نہیں لکھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ آپ نے اپنی درخواست میں لکھا کہ فیصل واؤڈا کے پاس جو عہدہ ہے اس سے ہٹایا جائے، عدالت اگر ڈیکلریشن دیتی ہے تو ان کو کون سے عہدے سے ہٹائے گی۔ انہوں نے درخواست گزار کو ریمارکس دیے کہ آپ کی درخواست غیر مؤثر ہو چکی ہے، اس پر درخواست گزار میاں فیصل نے فیصل واؤڈا کے خلاف انٹرا کورٹ اپیل واپس لے لی۔ درخواست گزار کے اپیل واپس لینے پر عدالت نے درخواست نمٹاتے ہوئے انہیں الیکشن کمیشن سے رجوع کرنے کی ہدایت کر دی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ سندھ ہائی کورٹ میں فیصل واؤڈا کا سینیٹ الیکشن کا کیس زیرالتواء ہے، الیکشن کمیشن میں فیصل واوڈا کا بطور ممبر قومی اسمبلی کیس زیر التواء ہے، عدالت دس سال بعد یہ ڈیکلریشن تو نہیں دے سکتی کہ وہ شخص غلط منتخب ہوا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم ڈیکلریشن دے سکتے ہیں لیکن رٹ کس عہدے پر جاری کریں گے۔ درخواست گزار کے وکیل جہانگری جدون نے مؤقف اپنایا کہ عطا الحق قاسمی عہدے پر نہیں رہے تھے پھر بھی سپریم کورٹ نے فیصلہ دیا تھا۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ جدون صاحب ہمارے پاس 16 ہزار کیسز زیرالتواء پڑے ہیں، یہ سیاسی کیسز ہیں، اس سے پہلے بھی ہم نے ایک فیصلہ دیا تھا، ہم یہاں پر سیاست دانوں کو ٹھیک کرنے کےلیے نہیں بیٹھے۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم قانون کو دیکھ سکتے ہیں اور اسی پر ہی عملدرآمد کر سکتے ہیں، آپ کا کیس نہیں بنتا، ہم درخواست مسترد کر رہے ہیں، آپکے پاس متعلقہ فورم موجود ہے وہاں رجوع کر سکتے ہیں۔ عدالت کے ریمارکس پر درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ہم درخواست واپس لے رہے ہیں۔
خیال رہے کہ 3 مارچ کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصل واڈا نااہلی کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ فیصل واڈا کو مستعفی ہونے کے باعث نااہل قرار نہیں دیا جاسکتا۔ ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق نے 13 صفحات پر مشتمل کیس کا تحریری فیصلہ جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ فیصل واؤڈا کے مستعفی ہونے کے باعث انہیں نااہل قرار نہیں دیا جا سکتا۔ قانون کے مطابق دوہری شہریت کے حامل فرد کو اس وقت تک الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں جب تک وہ دوسری شہریت ترک نہیں کردیتے۔ اسی معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں 2 قانون سازوں ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت دوہری شہریت پر نااہل کردیا تھا۔
خیال رہے کہ رواں برس کے اوائل میں ایک انگریزی اخبار نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ عام انتخابات 2018 میں حصہ لینے کے لیے الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) میں جمع کروائے گئے کاغذات نامزدگی کے وقت وفاقی وزیر برائے آبی وسائل فیصل واؤڈا دوہری شہریت کے حامل تھے۔ وفاقی وزیر فیصل واؤڈا کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ انہوں نے اپنے کاغذات نامزدگی 11 جون 2018 کو جمع کروائے، جو الیکشن کمیشن کی جانب سے ایک ہفتے بعد 18 جون کو منظور ہوئے۔ تاہم اس معاملے کے 4 روز بعد پی ٹی آئی، ایم این اے نے کراچی میں امریکی قونصلیٹ میں اپنی شہریت کی تنسیخ کےلیے درخواست دی تھی۔ واضح رہے کہ قانون کے مطابق دوہری شہریت کے حامل فرد کو اس وقت تک الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں جب تک وہ دوسری شہریت ترک نہیں کر دیتے۔ اسی معاملے میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے 2018 میں 2 قانون سازوں ہارون اختر اور سعدیہ عباسی کو الیکشن کمیشن میں کاغذات نامزدگی جمع کروانے کے وقت دوہری شہریت پر نااہل کردیا تھا۔
