اسمبلیوں سے استعفے یا احتجاجی تحریک: اپوزیشن جماعتیں اب کیا کریں گی؟

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد پاکستان ڈیمو کریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کی قیادت احتجاجی تحریک کے دوسرے مرحلے پر غور کر رہی ہے۔
احتجاجی تحریک کے پہلے مرحلے کے احتتام پر اپوزیشن اتحاد کے رہنماؤں نے اسمبلیوں سے استعفوں کا آپشن استعمال کرنے کا بھی عندیہ دیا ہے۔اکتوبر کے وسط میں گوجرانوالہ جلسے سے شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کا آخری جلسہ 13 دسمبر کو سیاسی سرگرمیوں کے مرکز لاہور میں مسلم لیگ (ن) کی میزبانی میں ہو گا۔حکومت کے خاتمے کی تحریک کے آئندہ کے لائحہ عمل پر مشاورت اور اتفاق رائے کے لیے پی ڈی ایم کی قیادت اسلام آباد میں جمع ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق حزبِ اختلاف اتحاد کے ممکنہ اقدامات کا جائزہ لیا جائے تو اگلے مرحلے میں اسلام آباد کی جانب مارچ، احتجاجی دھرنا اور اسمبلیوں سے اجتماعی استعفوں کا فیصلہ سامنے آسکتا ہے۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز نے ایک بیان میں کہا کہ اب تحریک فیصلہ کُن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اب آر یا پار ہو گا۔انہوں نے قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اراکین سے کہا کہ اگر پی ڈی ایم استعفوں کا فیصلہ کرے تو تمام دباؤ کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مستعفی ہو جائیں۔
تاہم تجزیہ کاروں کے بقول سندھ میں حکومتی جماعت اور مرکز میں اپوزیشن کی دوسری بڑی جماعت پیپلزپارٹی استعفوں کے معاملے پر ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔چیئرمین پیپلزپارٹی بلاول بھٹو واضح کر چکے ہیں کہ اسمبلیوں سے استعفے ‘ایٹم بم’ کے مترادف ہیں جسے سوچ سمجھ کر استعمال کیا جائے گا۔
دوسری جانب وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ حزبِ اختلاف مینار پاکستان پر 10 جلسے بھی کر لے تو حکومت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا۔پارٹی ترجمانوں سے گفتگو میں انہوں نے کہا کہ اپوزیشن تصادم چاہتی ہے مگر انہیں یہ موقع فراہم نہیں کریں گے اور لاہور کے جلسہ میں رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔عمران خان نے کہا کہ اپوزیشن عوام کی زندگیاں خطرے میں ڈال رہی ہے اور ان کی حکومت کسی بھی دباؤ میں آئے بغیر احتساب کا عمل جاری رکھے گی۔
پی ڈی ایم کے سیکرٹری جنرل اور سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کے مطابق حکومت کے خاتمے کے لیے تحریک کے دوسرے مرحلے میں احتجاج کو تیز کرنے، لانگ مارچ اور اسمبلیوں سے استعفے کی تجاویز زیرِ غور ہیں۔
تجزیہ کار افتخار احمد کہتے ہیں کہ حزبِ اختلاف کی احتجاجی تحریک سے تاحال حکومت کے جانے کی صورت تو دکھائی نہیں دیتی مگر ان کی پشت پر کھڑی اسٹیبلشمنٹ خاصی دباؤ میں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ پر اس قدر دباؤ ماضی میں دیکھنے میں نہیں آیا۔انہوں نے کہا کہ نواز شریف کی تقاریر کے نتیجے میں فوج کے سب سے زیادہ حمایت رکھنے والے صوبے پنجاب میں بھی ان کی سیاست میں مداخلت پر بات ہو رہی ہے۔
خیال رہے کہ پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ فوج کی سیاست میں مداخلت کی کئی مواقع پر تردید کرتے رہے ہیں۔ تاہم اُن کا یہ مؤقف رہا ہے کہ وہ آئین کے تحت منتخب حکومت کے ساتھ تعاون کرتے رہیں گے۔
پی ڈی ایم کے مطابق اسلام آباد میں مولانا فضل الرحمن کی زیرِ صدارت اجلاس میں سابق وزیراعظم نواز شریف اور سابق صدر آصف علی زرداری ویڈیو لنک کے ذریعے شریک ہیں۔مسلم لیگ (ن) کی نائب صدر مریم نواز اور کرونا ٹیسٹ کی رپورٹ منفی آنے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو بھی اس اجلاس میں شامل ہیں۔پیپلز پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم بے نظیربھٹو کی 27 دسمبر کو برسی کے موقع پر گڑھی خدا بخش میں جلسہ منعقد کرے گی جس میں پی ڈی ایم میں شامل تمام جماعتوں کو شرکت کی دعوت دی جائے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button