اسمبلیوں کی تحلیل پر عمران کو پارٹی کے اندر مزاحمت کا سامنا

تحریک انصاف کے اندرونی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے سابق وزیراعظم عمران خان نے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلیوں کو تحلیل کرنے کا حتمی فیصلہ کر لیا ہے، لیکن اس معاملے پر پی ٹی آئی رینکس میں کافی تشویش پائی جاتی ہے اور پنجاب اور خیبر پختون خوا کے ممبران اسمبلی پریشانی کا شکار ہیں۔ پی ٹی آئی کے اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ ‘نہ صرف پنجاب کے وزیر اعلیٰ اور ممبران صوبائی اسمبلی بلکہ خیبر پختونخوا کے اراکین اسمبلی میں بھی اسمبلیوں کی تحلیل کے فیصلے کو زیادہ پذیرائی نہیں مل پائی۔ پی ٹی آئی کے سینئر رہنما عمران کو بارہا آگاہ کر چکے ہیں کہ فوری اسمبلیاں تحلیل کر کے وہ نہ صرف 65 فیصد پاکستان سے اپنی حکومت ختم کر لیں گے بلکہ اپنی جماعت کو سیاسی نظام سے بھی باہر نکال دیں گے، جس کا فائدہ سراسر وفاقی حکومت کو ہو گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی نے بھی عمران کو باور کروایا ہے کہ اگر وہ پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلی ختم کرتے ہیں تو وفاقی حکومت فوری نئے انتخابات کروانے کا اعلان کر چکی ہے لہذا قومی اسمبلی کے فوری الیکشن کے لئے خان صاحب کا یہ حربہ رائیگاں جائے گا۔

با خبر پی ٹی آئی ذرائع کا کہنا ہے کہ پرویز خٹک اور شاہ محمود قریشی نے عمران کو مشورہ دیا ہے کہ انہیں اسمبلیاں توڑ کر فوری الیکشن میں جانے سے پہلے فوجی اسٹیبلشمنٹ سے اپنے تعلقات بہتر کرنے چاہئیں ورنہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پی ٹی آئی خیبر پختونخوا اور پنجاب میں اگلا الیکشن ہار جائے اور وہاں پی ڈی ایم حکومتیں بنا لے۔ یاد رہے کہ ماضی میں پرویز خٹک اور شاہ محمود تحریک انصاف اور فوجی اسٹیبلشمنٹ کے مابین پل کا کردار بھی ادا کرتے رہے ہیں۔

نیا دور کی ایک خصوصی رپورٹ کے مطابق پی ٹی آئی کے پنجاب سے ایک رہنما نے بتایا ہے کہ ‘ہم نے آپس میں گفتگو کی ہے کہ کوئی ایسا راستہ نکالا جائے کہ عمران خان کو بھی سبکی کا سامنا نہ کرنا پڑے، اور پنجاب اور خیبرپختونخوا کی اسمبلیاں بھی تحلیل نہ کرنی پڑیں’۔ اس رہنما کا کہنا تھا کہ ایک حل جس پر بہت سے لوگوں کا اتفاق ہوا وہ یہ ہے کہ کسی نہ کسی طرح اسمبلیوں کو دسمبر تک بچا لیا جائے، انکاکہنا تھا کہ اگر ہم ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو پھر اسمبلی کم از کم جون کے آخر تک تحلیل نہیں ہو گی۔انہوں نے کہا کہ چونکہ آئین پاکستان کی شق 242(2) کے تحت وقت سے پہلے تحلیل کی جانے والی اسمبلی کے انتخاب نوے دن میں ہونا ضروری ہیں، اس لیے اگر اسمبلیاں دسمبر تک بچ جاتی ہے تو پھر  مارچ میں الیکشن کا انعقاد بہت مشکل ہے، وجہ یہ ہے کہ مارچ کے آخر میں رمضان کا آغاز ہو جائے گا، اور رمضان میں الیکشن کروانا تقریباً ناممکن ہوتا ہے۔اسی طرح اپریل کا مہینہ بھی رمضان اور عیدالفطر کی وجہ سے الیکشن کے لئے موزوں نہیں۔ اسکے بعد مسئلہ یہ ہو گا کہ اگر مئی کے مہینے میں الیکشن ہوئے تو آنے والی نئی حکومت جون میں بجٹ نہیں پیش کر پائے گی۔

دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں الیکشن کمیشن کی طرف سے عمران کے خلاف زیر التوا کیسز میں ممکنہ فیصلے حتمی تعین کریں گے کہ اسمبلیاں کب تحلیل کی جائیں گی۔ اگر تو الیکشن کمیشن عمران کے کیسز کو عمومی سست روی سے سنتا ہے تو پھر اسمبلیاں تحلیل کرنے کا ارادہ ترک کیا جا سکتا ہے، لیکن اگر اس میں تیزی نظر آئی تو پھر عمران کے پاس اسمبلیاں تحلیل کرنے کے سوا کوئی چارہ باقی نہیں رہے گا۔ تحریک انصاف کی قیادت کا موقف ہے کہ وہ 2018 کے الیکشن کی طرح مسلم لیگ نون جیسے بندھے ہاتھوں سے الیکشن میں نہیں جانا چاہتی، کیونکہ اگر نواز شریف کی طرح اگلے الیکشن سے پہلے عمران بھی نااہل ہو جاتے ہیں تو اس کا الیکشن نتائج پر بہت برااثر پڑےگا۔

Back to top button