اسمبلی بچانے کے لیے پرویز الٰہی کی MPAsکو رشوت

عمران خان کی جانب سے صوبائی اسمبلیاں توڑنے کا منصوبہ ناکام بنانے کے لیے پنجاب کے سیانے وزیر اعلیٰ چودھری پرویز الٰہی نے صوبہ بھر میں تحریک انصاف کے اراکین پنجاب اسمبلی کے حلقوں کے لیے 27 ارب روپے کی نئی سکیمیں منظور کر دی ہیں جن کی تکمیل کے لئے 8 سے 10 ماہ کا عرصہ درکار ہے۔ یعنی اگلے آٹھ سے دس ماہ تک حکومتی جماعت کے اراکین اسمبلی اپنے حلقوں میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل سے پہلے صوبائی اسمبلی توڑنے پر راضی نہیں ہوں گے۔ پرویز الٰہی نے ان منصوبوں کی منظوری عین اس وقت دی ہے جب عمران خان نئے الیکشن کے انعقاد کے لیے حکومت پر دباؤ بڑھانے کے لیے صوبائی اسمبلیاں چھوڑنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ صرف لاہور شہر میں دو ارب روپے کی 100 نئی ترقیاتی سکیموں کی منظوری دی گئی ہے جبکہ پورے صوبہ پنجاب میں 1300 سے زائد سکیمیں اراکین اسمبلی کے حلقوں کے لیے منظور ہوئی ہیں۔
ان منصوبوں کو پرویز الٰہی کی جانب سے اراکین پنجاب اسمبلی کے لیے رشوت قرار دیا جارہا ہے تاکہ وہ اسمبلی نہ توڑنے کے لیے اپنے کپتان پر دباؤ ڈالیں۔ 10 دسمبر کو عمران خان نے بھی بالآخر یہ تسلیم کر لیا ہے کہ چودھری پرویز الٰہی ابھی کچھ عرصہ پنجاب اسمبلی توڑنا نہیں چاہتے لیکن انہوں نے یقین دہانی کروائی ہے کہ جب انہیں اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے کہا جائے گا تو وہ ایک منٹ کی تاخیر بھی نہیں کریں گے۔ تاہم یہ بھی ایک حقیقت ہے پرویز الٰہی ایک انٹرویو میں واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ پنجاب اسمبلی کو تحلیل کرنا کم از کم مارچ 2023 تک ممکن نہیں چونکہ صوبے میں اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبوں چل رہے ہیں جن کی تکمیل کے بغیر نئے الیکشن میں جانا سیاسی خود کشی کے مترادف ہوگا۔
پرویزالٰہی نے جولائی میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک پنجاب میں 30 ارب روپے کے ترقیاتی فنڈز ضلعی ترقیاتی پیکیج کی مد میں منظور کیے ہیں۔ محکمہ خزانہ کے مطابق اس نئے پیکیج کو اگلے مالی سال کی ترقیاتی سکیموں میں رکھا جائے گا جو کہ آئندہ سال جولائی میں شروع ہوگا، اور یہ بات حکومت کو بتا دی گئی ہے۔ تو کیا اسکا لب لباب یہ ہوا کہ پرویز الٰہی لمبی اینگز کھیلنے کے موڈ میں ہیں؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے ترجمان پنجاب حکومت کے ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت کا نظم و نسق اپنی ترتیب سے چلتا رہتا ہے۔ اگر اس وقت تحریک انصاف کی حکومت ہے تو کیا صوبے کے نظام کو روک دیا جائے؟ انہوں نے کہا کہ پرویز الٰہی نے عمران خان کو بتا دیا ہے کہ جب وہ چاہیں گے اسمبلی تحلیل کر دی جائے گی اس لیے ہمیں چودھری صاحب کی بات کا اعتبار کرنا چاہیے۔
دوسری جانب سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف وفاقی حکومت پر نئے انتخابات کے فوری انعقاد کے لیے دستیاب تمام حربے آزما چکی ہے۔ چیئرمین تحریک انصاف نے اس دباؤ کو شدید تر کرنے کے لیے پنجاب اور خیبر پختونخوا کی اسمبلیاں توڑنے کا بھی اعلان کیا تھا لیکن وفاقی حکومت دباؤ لینے کی بجائے انہیں بار بار للکار رہی ہے کہ اسمبلیاں توڑ نہیں سکتے تو اعلان کیوں کرتے ہو، حکومتی ذرائع ابلاغ دعوی ٰکر رہے ہیں کہ عمران خان اسمبلیاں توڑنے کے اعلان سے یوٹرن لینے والے ہیں جس کی بڑی وجہ وزیراعلٰی پرویز الٰہی کا اس اعلان سے اتفاق نہ کرنا ہے۔ اگرچہ پرویز الٰہی نے واضح طور پر ایک ویڈیو پیغام میں یہ کہہ رکھا ہے کہ جب عمران خان کہیں گے تو وہ ’آدھے منٹ‘ میں پنجاب اسمبلی تحلیل کر دیں گے۔ لیکن ان کے اس اعلان کو سیاسی اعلان قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ پنجاب میں ہر کوئی جانتا ہے کہ پرویز الٰہی اسمبلی توڑنے کے موڈ میں نہیں۔
سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ سمجھتے ہیں کہ پرویز الٰہی ایک زیرک سیاستدان ہیں۔ وہ محض جذبات میں آ کر کوئی فیصلہ نہیں کرتے ان کی توجہ اگلے انتخابات پر ہے اور اس سے بھی پہلے ان کی نظر اس بات پر ہے کہ اپنی حکومت کو قائم رکھا جائے۔ان کا کہنا تھا کہ ’ترقیاتی فنڈز کے اجرا کے حوالے سے پرویز الٰہی پہلے بھی مشہور ہیں۔ وہ اس حوالے سے بخل سے کام نہیں لیتے۔ بعض دفعہ تو یہ بھی گمان ہوتا ہے کہ فنڈز کے اجرا کی حد تک وہ شہباز شریف ماڈل کو پسند کرتے ہیں۔ وہ شہباز شریف کی طرح ہر جگہ اور ہر منصوبے پر خود تو نہیں پہنچتے، لیکن سکیموں کی منظور ی اور فنڈز کے اجرا میں دیر نہیں لگاتے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ بھی یہ چاہتے ہیں کہ اسمبلیاں چلتی رہیں اور انہیں اقتدار کا ایک سال مل جائے۔ شاید اسی لیے انہوں نے ممبران پنجاب اسمبلی کے لیے اربوں روپے کے ترقیاتی منصوبے منظور کر لیے ہیں تاکہ وہ بھی اسمبلی نہ توڑنے کے حق میں ان کی آواز کے ساتھ آواز ملائیں۔
