سندھ حکومت نے اسٹیبلشمنٹ مخالف آفریدی کو پروٹوکول کیوں دیا ؟

اسٹیبلشمنٹ مخالف سمجھے جانے والے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی کی دورۂ سندھ کے لیے کراچی آمد پر وفاقی حکومت کی اتحادی جماعت پیپلز پارٹی کی جانب سے کیے گئے پرتپاک استقبال نے نہ صرف سیاسی مبصرین بلکہ تحریک انصاف کی قیادت کو بھی حیران کر دیا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت سے اٹھایا جا رہا ہے کہ آخر سہیل آفریدی کے لیے کراچی نرم اور لاہور سخت کیوں ثابت ہوا؟ سندھ حکومت کی جانب سے وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کو پروٹوکول اور جلسے کی اجازت دینے کے پیچھے اصل حکمتِ عملی کیا ہے؟ پنجاب میں رکاوٹیں، گرفتاریوں کے الزامات اور بند بازار جبکہ سندھ میں اجرک، پروٹوکول اور سیاسی سرگرمیوں کی کھلی اجازت۔ ایک ہی وزیر اعلیٰ کے لیے دو بالکل مختلف پیمانے آخر کیسے طے ہوئے؟سندھ حکومت کا سہیل آفریدی کیلئے نرم رویہ دراصل کس پیغام کا عکاس ہے؟ کیا پیپلز پارٹی واقعی پسِ پردہ سیاسی مفاہمت کیلئے میدان میں آنے والی ہے۔
خیال رہے کہ وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا پنجاب کے ناکام دورے کے بعد اب سندھ پہنچے ہیں جہاں انھیں پنجاب کے برخلاف حکومت سندھ کی جانب سے خلاف توقع بھرپور پروٹوکول دیا جا رہا ہے۔ کراچی ائیرپورٹ آمد پر نہ صرف سندھ حکومت کی جانب سے ان کا بھرپور استقبال کیا گیا ہے بلکہ انھیں سندھ کی روایتی اجرک اور ٹوپی بھی پہنائی گئی ہے۔ اگرچہ وفاق میں سندھ کی حکمراں جماعت پیپلز پارٹی وزیر اعظم شہباز شریف کے اتحاد کا اہم حصہ سمجھی جاتی ہے مگر اس کی طرف سے تحریک انصاف کی قیادت کو سندھ میں پروٹوکول اور جلسے کی اجازت کو مبصرین اہم پیشرفت قرار دے رہے ہیں۔
واضح رہے کہ اس سے قبل دسمبر 2025 کے اواخر میں سہیل آفریدی نےلاہور کا دورہ کیا تھا۔ اسے دورے کے دوران مبینہ طور پر مریم نواز کی پنجاب حکومت کی جانب سے سہیل آفریدی اور ان کے ساتھیوں سے ناروا رویہ اختیار کیا گیا تھا جس کے بارے میں سہیل آفریدی نے ایک احتجاجی مراسلہ بھی پنجاب کی وزیر اعلیٰ مریم نواز کو لکھا تھا۔ انھوں نے دعویٰ کیا تھا کہ ان کی آمد کے موقع پر ’پنجاب حکومت کی نگرانی میں‘ نہ صرف پی ٹی آئی کے کارکنان کی گرفتاریاں کی گئیں بلکہ لاہور کے شہریوں کو ’مارکیٹیں اور عوامی مقامات کی بندش کر کے تکلیف دی گئی۔ موٹروے ریسٹ ایریا تک بند رکھا گیا۔‘ اس حوالے سے وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا پنجاب میں سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کے کارکنوں نے ٹول پلازہ اور سروس سٹیشنز پر بدتمیزی کی تھی۔ جس کے باعث سخت اقدامات کیے گئے جبکہ انھوں نے یہ سب حرکتیں کراچی میں نہیں کیں تو اسی لیے وہاں انھیں بہتر صورتحال ملی۔ احترام ہمیشہ کمایا جاتا ہے، آپ کو اچھا رویہ دکھانا پڑتا ہے۔‘ جو حرکتیں انھوں نے پنجاب میں کیں، وہ اس سے سیکھ چکے ہیں۔ اگر پنجاب میں بھی وہ بدتمیزی نہ کرتے تو یہاں بھی ان کے لیے مسائل نہ ہوتے۔‘ تحریک انصاف نے پنجاب میں اپنے لیے مسائل ’خود پیدا کیے تھے۔‘
تاہم سہیل آفریدی کے دورۂ لاہور کے موقع پر پنجاب میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی جانب سے اختیار کیے گئے طریقۂ کار کو تجزیہ کار عاصمہ شیرازی ’بالکل بھی مناسب‘ قرار نہیں دیتیں۔ ان کے مطابق سیاسی سرگرمیوں کی اجازت ہونی چاہیے، چاہے وہ مخالف جماعت ہی کیوں نہ ہو۔ ’ہر سیاسی جماعت کو پُرامن طریقے سے آگے بڑھنے کا حق ہونا چاہیے، اس پر کوئی پابندی نہیں ہونی چاہیے۔‘عاصمہ شیرازی کا کہنا ہے کہ اگر پنجاب حکومت کو تحریک انصاف کے رہنماؤں سے کسی قسم کا خطرہ لاحق تھا تو اس کے لیے ایک واضح اور مناسب طریقۂ کار اختیار کیا جا سکتا تھا، جو کہ ’بدقسمتی سے پنجاب حکومت نے نہیں کیا۔‘ ان کے بقول، رکاوٹیں کھڑی کرنے اور جلسے کی اجازت نہ دینے کے باعث پنجاب میں تحریک انصاف کی سیاسی سرگرمیوں کو مزید توجہ ملی۔ ان کے مطابق پنجاب حکومت کو چاہیے تھا کہ وہ سہیل آفریدی کا خیرمقدم کرتی اور جلسے کی اجازت دیتی، کیونکہ ’اس سے مسلم لیگ ن کو سیاسی فائدہ حاصل ہو سکتا تھا۔‘
عاصمہ شیرازی کے نزدیک سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کی جانب سے سہیل آفریدی کا استقبال سیاسی بلوغت کی علامت ہے۔ ان کا کہنا تھا،’پروٹوکول تو یہی ہے کہ جب بھی کوئی وزیر اعلیٰ، صدر یا وزیر اعظم کی طرح، کسی دوسرے صوبے کا دورہ کرے تو اس کا استقبال کیا جاتا ہے۔‘تاہم عاصمہ شیرازی کو یہ تاثر نہیں ملتا کہ پیپلز پارٹی کے اس رویے کے پیچھے کوئی ’سیاسی ارینجمنٹ‘ کارفرما ہے یا اس سے پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کے درمیان سرد مہری ختم ہو جائے گی۔ ان کے مطابق نہ تو اس سے کسی سیاسی اتحاد کا امکان پیدا ہوتا ہے اور نہ ہی پیپلز پارٹی تحریک انصاف کے ساتھ کھڑی ہوتی دکھائی دیتی ہے۔البتہ ان کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت کے اس مثبت قدم سے سیاسی حلقوں میں یہ پیغام ضرور گیا ہے کہ ملک کو اس وقت سیاسی رواداری کی اشد ضرورت ہے۔عاصمہ شیرازی کے مطابق تحریک انصاف کو بھی یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ’آپ ہر وقت بندوقیں تان کر سیاست نہیں کر سکتے۔‘
سہیل آفریدی کو دورہ سندھ میں سیاسی سرگرمیوں کی آزادی ہوگی : شرجیل میمن
دوسری جانب تجزیہ کار مظہر عباس کے مطابق وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا کے ساتھ سندھ حکومت کے مثبت رویے نے ’بھٹو اور بینظیر کی یاد تازہ کر دی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کے نمائندوں کی جانب سے سہیل آفریدی کا ایئرپورٹ پر استقبال ایک مثبت پیشرفت ہے اور دونوں جانب سے سیاسی سرگرمیوں کو پُرامن طور پر آگے بڑھنے دیا جا رہا ہے۔مظہر عباس کے مطابق اگرچہ کراچی میں صحافیوں نے سہیل آفریدی سے سخت سوالات بھی کیے، تاہم اس کے باوجود انھوں نے سندھ حکومت پر کسی قسم کی تنقید نہیں کی۔
مظہر عباس کا مزید کہنا ہے کہ تحریک انصاف کو سندھ کے شہروں کراچی اور حیدرآباد میں کچھ سیاسی حمایت ضرور حاصل ہے، تاہم پیپلز پارٹی عمران خان کی جماعت کو وہاں اپنے لیے بڑا سیاسی خطرہ نہیں سمجھتی۔ اسی وجہ سے پیپلز پارٹی کھلے دل سے پی ٹی آئی کو سیاسی سرگرمیوں کے لیے میدان فراہم کر رہی ہے۔تاہم ان کے مطابق اس پیشرفت کے بعد یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ مستقبل میں دونوں جماعتوں کے درمیان کوئی سیاسی اتحاد ممکن ہو سکے۔ البتہ مظہر عباس کے نزدیک دونوں جماعتوں کے درمیان ایسا ماحول ضرور تشکیل پایا ہے کہ مستقبل میں کم از کم پنجاب کی حد تک ان کے درمیان ایک ’ورکنگ ریلیشن‘ قائم ہو سکے۔
