اسٹیبلشمنٹ نواز باپ کا بیٹا حمزہ مسلسل قید میں کیوں؟

شریف خاندان میں مفاہمتی بیانیے کے سرخیل شہبازشریف کے بڑے صاحبزادے حمزہ شہباز کی قید ان کے والد کے مسلسل سمجھوتوں کے باوجود طویل ہوتی جا رہی یے لیکن نہ تو نون لیگ کی جانب سے ان کے حق میں کوئی تحریک چلائی گئی ہے اور نہ ایسا لگتا ہے کہ حمزہ کی قید آنے والے دنوں میں مزاحمتی سیاست کی تاریخ کا حصہ بن سکے گی۔ اسکی بنیادی وجہ انکے والد شہباز شریف کا وہ مفاہمتی بیانیہ ہے جسے ن لیگ کا مزاحمتی دھڑامنافقتی بیانیہ قرار دیتا ہے اور یہ الزام لگاتا ہے کہ اس بزدلانہ موقف نے انکی پارٹی کو کمزور اور عوام میں اس کی ساکھ کو متاثر کیا ہے۔
سینئر صحافی اور تجزیہ نگار سہیل وڑائچ یاد دلاتے ہیں کہ حمزہ شہباز کو قید ہوئے ایک برس سے زائد بیت گیا لیکن ان کی رہائی عمل میں نہیں آ سکی۔ دوسری طرف مزاحمتی بیانیہ لے کر چلنے والے نواز شریف جیل سے نکل کر لندن جا پہنچے اور ان کی بیٹی نیب کی حراست سے نکل کر جاتی عمرہ پہنچ گئیں۔ شہباز شریف بھی آزاد ہیں۔ خواجہ سعد رفیق اور سلمان رفیق کی بھی ضمانت ہو چکی، شاہد خاقان عباسی بھی باہر آگئے اور تو اور رانا ثناء اللہ خان بھی زندان سے نکل آئے مگر حمزہ سال بھر سے مسلسل قید میں ہے۔ اپنے ایک تازہ کالم میں سہیل وڑائچ نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ اس سب کے باوجود حمزہ قید میں کیوں ہیں؟ کیا حمزہ مزاحمتی سیاست کا سرخیل تھا؟ کیا وہ اینٹی اسٹیبلشمنٹ تھا؟ کیا اس نے کبھی احتجاجی سیاست اور جارحانہ انداز اپنایا؟ اگر نہیں تو پھر کیا وہ فرینڈلی فائر کی زد میں ہے؟
سہیل وڑائچ کے مطابق اپنے والد شہباز شریف کے دس سالہ دورِ وزارتِ اعلیٰ میں حمزہ پنجاب کے سیاہ و سفید کا مالک رہا، 8کلب روڈ پر وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے گراؤنڈ فلور پر اس کا شاندار آفس تھا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اس کا دس سالہ کچا چٹھا سامنے لایا جاتا بتایا جاتا کہ اس نے کس کس طرح لوٹا مگر ابھی تک کسی ٹھیکے، تبادلے، تقرری یا کمیشن میں اس کا نام تک نہیں آیا۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یا تو وفاقی حکومت، نیب، ریاستی ادارے اور صوبائی اینٹی کرپشن سب حمزہ کی جیب میں ہیں یا سب اس سے ملے ہوئے ہیں۔ حمزہ نے آخر کیا کاریگری دکھائی ہے کہ دس سال سیاہ و سفید کا مالک ہونے کے باوجود اس کا کسی سرکاری ڈیل میں حصہ نہیں پکڑا گیا۔ کسی فائل پر اس کے دستخط نہیں، کسی آرڈر پر اس کا ذکر نہیں، ضرور اس معاملے میں کوئی گڑبڑ ہے۔ اگر حمزہ کا کوئی جرم نہیں پکڑا گیا توابھی تک وہ جیل میں کیوں ہے؟
سہیل وڑائچ کے مطابق نوازی اور شہبازی سیاست کے الگ الگ اہداف اور الگ ہی فائدے اور نقصان ہیں، نوازی جیل میں جاتے ہیں تو مزاحمتی نعرے لگاتے ہیں، سینہ تان کر چیلنج کرتے ہیں، دوسری طرف شہبازی مفاہمتی سیاست کے قائل ہونے کی وجہ سے جیل جائیں یا انہیں مار پڑے وہ مزاحمتی نعرے نہیں لگا سکتے، یہی حمزہ شہباز کا المیہ ہے۔
سال سے اوپر ہو گیا وہ جیل میں بند ہے مگر اب بھی وہ مزاحمتی نہیں مفاہمتی ہی کہلاتا ہے۔ اپوزیشن کی سیاست میں مفاہمتی کبھی فائدے میں نہیں رہتا، حمزہ کو فائدہ کیسے ہونا تھا؟ حالت یہ ہے کہ کسی ٹاک شو یا پریس کانفرنس میں حمزہ شہباز شریف کی جیل کا ذکر نہیں ہوتا حد تو یہ ہے کہ نون لیگی بھی یہ تکلف نہیں کرتے کہ حمزہ کے لیے آواز اٹھائیں، شروع شروع میں حمزہ کی پیشی پر عدالت میں گہما گہمی ہوتی تھی، متوالے نعرے لگاتے تھے، اکٹھے ہوتے تھے مگر جیل لمبی ہوتی گئی، تاریخ پر تاریخ پڑتی گئی اور ہجوم بھی کم ہوتا چلا گیا۔ سچ تو یہ ہے کہ حمزہ شہباز کی جیل کا سیاسی تاثر نہیں بن سکا۔ ہاں! اگر حمزہ مزاحمتی کے طور پرجیل میں ہوتا تو اس کا سیاسی قد نون لیگ کے کئی بونوں سے بہت اونچا ہو چکا ہوتا مگر مفاہمتی حمزہ جیل جا کر بھی مزاحمتی اور باغی کے طور پر اپنا مقام نہیں بنا سکا۔
سہیل وڑائچ کے مطابق حیران کن بات یہ ہے کہ شریف خاندان بھی حمزہ کی رہائی کے لئے بہت زیادہ متحرک، متفکر اور بے چین نظر نہیں آتا۔ یوں لگتا ہے کہ حمزہ ایک بار پھر تاوان کے طور پر جیل میں بند ہے، بالکل اسی طرح جیسے پہلے بھی جدہ جاتے ہوئے اہل خاندان اسے پاکستان میں بطورِ ضمانت چھوڑ گئے تھے۔ خود جلا وطن ہوگئے تھے اور حمزہ پاکستان میں رہ کر قسطیں ادا کرتا رہا۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ حمزہ کی حالیہ قید آنے والے دنوں میں مزاحمتی سیاست کی تاریخ کا حصہ نہیں بن سکے گی جسکی وجہ حمزہ اور انکے والد شہباز کا کنفیوژڈ مفاہمانہ بیانیہ ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ یہ دونوں باپ بیٹا مفاہمانہ سیاست کے بیانیے میں موجود ابہام کو دور کریں، مسئلہ یہ ہے کہ بغاوت میں احتیاط نہیں ہوتی، اور بغاوت کھل کر کرنا پڑتی ہے۔ ویسے بھی ایسی مفاہمت کا کیا فائدہ جس کے صلے میں اقتدار تو کجا، الٹا آپ جیل میں بند ہوں۔ ایسے میں یا تو آپ کے بیانیے میں خرابی ہے یا پھر آپ کے بیانیے کی گونج ان ایوانوں تک نہیں پہنچی جہاں پہنچنی چاہئے۔ کہیں نہ کہیں تو کوئی مسئلہ ہے۔
