اسٹیبلشمنٹ نے پاکستان کو سازشستان کیسے بنایا؟

سینئر صحافی اور تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے کہا ہے کہا ہے کہ اگر ہماری فوجی اسٹیبلشمنٹ نے سیاست میں مداخلت کی پالیسی جاری رکھی تو یہ ملکِ پاکستان نہیں رہے گا بلکہ سازشستان بن جائے گا لہذا وسیع تر قومی مفاد میں اسٹیبلشمنٹ کو سیاست سے باقاعدہ طور پر دوری اختیار کر لینی چاہیے تاکہ پاکستان کے سازشستان بننے کا عمل رک جائے ۔
اپنے تازہ ترین سیاسی تجزیہ میں سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ ایک سیدھا سادہ شہری ہونے کے ناطے میں ریاستی بیانیے پر مکمل یقین رکھتا ہوں، اور امن پسند ہونے کے سبب مصلحت پسند بھی ہوں۔ اسی لیے میں اس ریاستی بیانیے پر یقین کرنے کی کوشش کرتا رہا کہ فوج نے سیاست میں مداخلت بند کردی یے۔ سہیل وڑائچ کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے ریاستی بیانیے میں موقف اختیار کیا گیا کہ اب سیاست میں مقتدرہ کی مداخلت نہ ہونے کے برابر ہے۔ یہ سن کر میرا دل بہت خوش ہوا، میں نے اس بیانیے پر نہ صرف دل و جان سے یقین کر لیا بلکہ اس موقف کے حق میں صفحات کے صفحات سیاہ کر ڈالے۔ وہ کہتے ہیں کہ میرا ذہن اور ضمیر صاف تھا، مجھے یقین تھا کہ ماضی میں جو کچھ بھی ہوا، اب یہ احساس پختہ ہو گیا ہے کہ فوج کا کار سیاست میں الجھنا کوئلوں کی دلالی کے مترادف ہے جس میں سیانے سے سیانا فرد بھی اپنے ہاتھ کالے کر بیٹھتا ہے۔ میرے اطمینان اور خوشی کی اسی لہر کے دوران سینیٹ کا الیکشن آ گیا، اب یہ ایک طرح سے نئے عسکری بیانیے کا امتحان تھا اور دیکھنا یہ تھا کہ کیا واقعی مقتدرہ سیاست سے الگ تھلگ ہو چکا ہے یا نہیں؟
سہیل وڑائچ کے مطابق سینیٹ الیکشن شروع ہی ہوا تو پرویز رشید کا معاملہ اٹھا جو اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہیں اور پارلیمانی جمہوریت کے زبردست حامی و موید ہیں۔ ان کے بارے میں اعتراضات سامنے آئے تو یوں لگا جیسے عدالت ان سے واجبات وصول کرکے انہیں کلیئر کر دےگی۔ جب عدالتوں کے کئی چکروں کے بعد بھی پرویز رشید کو اہل قرار نہ دیا گیا تو لگا کہ دال میں کہیں کالا ضرور موجود ہے مگر میں سدا کا خوش فہم ہوں اس لئے سوچتا رہا کہ بالآخر سازشی تھیوریاں دم توڑ دیں گی اور پرویز رشید کو الیکشن کے لئے اہل قرار دے دیا جائے گا جو کہ ان کا بنیادی جمہوری حق تھا۔
میں یہ بھی سوچتا تھا کہ پرویز رشید سے مقتدرہ کو ڈرنے کی کیا ضرورت ہے؟ کیا دوچار اختلافی آوازوں کو برداشت نہیں کیا جا سکتا، میرا خیال تھا کہ پرویز رشید جیسا اکیلا اور پُرامن شخص مقتدرہ کے لئے خطرہ کیسے ہو سکتا ہے؟
لیکن سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ میری تمام تر خوش فہمی اس وقت رفو ہو گئی جب بالآخر پرویز رشید کو سینیٹ کی دوڑ سے باہر کر دیا گیا۔ وہ دن اور آج کا دن، میرے دل میں پھانس سی چبھی ہوئی ہے کہ آخر وہ کون لوگ ہیں جنہیں پرویز رشید کی اکلوتی اختلافی مگر مہذب آواز بھی پسند نہیں۔ میں نے کئی لوگوں سے پوچھا کہ پرویز رشید کو سینیٹ سے باہر کس نے کروایا اور اس کا مقصد کیا ہے؟ وہ سوال کرتے ہیں کہ کیا اس حرکت سے دوبارہ اس تاثر کو تقویت نہیں ملی کہ مقتدرہ یعنی اسٹیبلشمنٹ اب بھی سیاست میں اپنے من پسند فیصلے کرنا چاہتی ہے اور اس ڈان لیکس کی خاطر پرویز رشید کو رگڑ نکال رہی ہے جس پر اب قومی۔کفاد۔کے نام پر موجودہ حکومت اور اسٹیبلشمنٹ خود عمل پیرا ہیں؟ سہیل وڑائچ کہتے ہیں، ہے کوئی جو میری پھانس کو نکالے، میری خوش فہمی واپس دلا دے اور مجھے یقین دلائے کہ ریاستی بیانیہ درست اور میرا شک غلط ہے۔
سہیل وڑائچ کہتے ہیں اس واقعے کو چند ہی دن گزرے تھے کہ اسلام آباد کی سیٹ پر یوسف رضا گیلانی اور حکومتی امیدوار حفیظ شیخ کا سینیٹ انتخابات میں آمنا سامنا ہو گیا۔ سنا گیا کہ اس میں بھی مقتدرہ نے کچھ رول ادا کیا، صدر زرداری نے کچھ افسران کی شکایت بھی اعلیٰ حکام تک پہنچائی مگر یوسف رضا گیلانی کی جیت سے یہ شک دور ہو گیا اور واضح ہو گیا کہ مقتدرہ نے حکومت کے حق میں کوئی زوردار کردار ادا نہیں کیا ورنہ لازماً حکومتی امیدوار جیت جاتا، یوں مقتدرہ نے غیر جانبداری کے بیانیے کا کچھ نہ کچھ ضرور خیال رکھا۔ لیکن ابھی اس بھرم پر یقین پختہ نہ ہوا تھا کہ ایک نیا دھچکا لگ گیا، چیئرمین سینیٹ کے انتخاب کا مرحلہ آگیا۔ ایک طرف اپوزیشن کے یوسف رضا گیلانی تھے اور دوسری طرف حکومتی امیدوار صادق سنجرانی، بظاہر اپوزیشن ارکان کی تعداد زیادہ تھی اور انہی کا چیئرمین منتخب ہونا چاہئے تھا مگر یہاں پر پھر چمتکار نظر آیا، پہلے خفیہ والوں کے خفیہ کیمرے پکڑے گئے اور پھر مظفر حسین شاہ نے نام کے اوپر لگائی گئی مہروں کو مسترد کرکے اپوزیشن کی اکثریت کو اقلیت میں بدل دیا۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ یوں میرے سینے میں چبھی پھانس مزید گہری ہو گئی۔ میں سوچتا ہوں کہ مقتدرہ کو کیا فرق پڑ جاتا اگر گیلانی چیئرمین سینیٹ منتخب ہو جاتے؟ کوئی آسمان تو نہیں گر پڑنا تھا، حکومت اسی طرح چلتی رہنی تھی، نظام کو بھی کوئی فوری خطرہ نہ تھا تو آخر یہ کون ناعاقبت اندیش ہیں جو ایسے فیصلے کرکے ریاستی بیانیے کو غلط ثابت کرتے ہیں؟
سہیل وڑائچ سوال کرتے ہیں کہ کیا اب وقت نہیں آ گیا کہ ریاست سیاست میں مداخلت نہ کرنے کے بیانیے پر قائم ہو جائے۔ اکثر لوگ ریاستی بیانیے پر ہمیشہ سے شک کرتے ہیں، اس کی وجہ یہی ہے کہ ریاست کہہ تو رہی ہے کہ ہم سیاست میں حصہ نہیں لے رہے، کسی معاملے میں مداخلت نہیں کر رہے لیکن پرویز رشید کی نااہلی ہو یا سینیٹ چیئرمین کا انتخاب، ہر جگہ اہلِ سیاست کی بے بسی اور مقتدرہ کی بےمہار اور بڑھتی ہویی طاقت نظر آتی ہے۔ انکا اصرار یے کہ اگر ریاست نے اپنے شہریوں اور ریاست کے درمیان اعتماد اور محبت کا لازوال رشتہ قائم کرنا ہے تو پھر اسے مداخلت کے رویے سے باز رہتے ہوئے، واقعی سب کے ساتھ برابری کا سلوک کرناچاہئے۔ دنیا کے وہ ممالک جہاں ریاست اور شہری ایک دوسرے پر مکمل اعتماد اور وفاداری کے ساتھ رہتے ہیں وہاں ریاست شہریوں کی سیاست اور ان کی زندگیوں میں غیرضروری دخل اندازی نہیں کرتی۔ مقتدرہ یا اسٹیبلشمنٹ نے وقت سے کافی سیکھا ہے اور اپنے آپ کو ظاہری طور پر سیاست سے دور کر لیا ہے لیکن جن چند معاملات کا میں نے ذکر کیا ہے ان میں مقتدرہ نے اگر کردار ادا کیا ہے تو اس نے اپنے بیانیے کی خود ہی خلاف ورزی کی ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ کاش کوئی ایسا طریقہ ہو جس سے مقتدرہ اپنی غلطیوں کا خود جائزہ لیکر اپنی اصلاح کرتی رہے۔ اگر اسٹیبلشمنٹ کے سیاسی کردار سے شہریوں میں شک اور سازش کا احساس بڑھے گا تو وفاداری اور اعتماد کا رشتہ کمزور ہو گا۔ آنے والے دور میں نئے الیکشن اور نئی سیاست کا آغاز ہونا ہے، اس میں فوجی اسٹیبلشمنٹ کو اپنے غیر جانبدارانہ کردار کو پہلے ہی سے واضح بھی کرنا چاہئے اور پھر اس پر ڈٹ بھی جانا چاہئے۔ سہیل وڑائچ کہتے ہیں کہ اگر اسٹیبلشمنٹ نے ماضی کی غلطی دہرا کر سیاست میں مداخلت کی پالیسی جاری رکھی تو یہ ملکِ پاکستان نہیں رہے گا بلکہ سازشستان بن جائے گا۔
