اسٹیبلشمنٹ کے تھرما میٹرچوہدریوں کا مسئلہ کیا ہے؟

تحریر : عامر میر
وزیراعظم عمران خان کی گجرات کے چوہدریوں کے ساتھ لاہور میں ہونے والی ملاقات کے بعد جیسی متضاد اور کنفیوژڈ خبریں سامنے آ رہی ہیں ان سے یہ تاثر مزید تقویت پکڑ گیا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ ابھی تک دفاعی پوزیشن اختیار کیے ہوئے ہے اور وزیر اعظم کے مستقبل کے حوالے سے کوئی واضح فیصلہ نہیں کر پائی۔ اس تاثر کے بنیادی وجہ یہ ہے کہ گجرات کے چوہدریوں کو فوجی اسٹیبلشمنٹ کا تھرمامیٹر قرار دیا جاتا ہے اور اسٹیبلشمنٹ کے پارے کا اندازہ گجرات کے چوہدریوں کی سیاسی فیصلہ سازی سے لگایا جاتا ہے۔ لہذا اگر چوہدری برادران اپوزیشن کی جانب سے پنجاب کی وزارت اعلیٰ آفر ہونے کے باوجود ابھی تک تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے کوئی فیصلہ نہیں کر پائے تو اس کا مطلب یہ نکالا جا رہا ہے کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی ابھی اس حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ نہیں کر پائی۔ اور شاید اسی وجہ سے ابھی تک اپوزیشن اپنی تحریک عدم اعتماد بھی پیش نہیں کر پائی۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان نے یکم مارچ کو اپنے اہم ترین اتحادیوں یعنی گجرات کے چوہدریوں سے ملاقات کی جو آدھے گھنٹے سے زیادہ وقت تک جاری رہی، ملاقات کے دوران ہی ٹی وی پر یہ خبریں چلنا شروع ہو گئیں کے چوہدری برادران نے وزیر اعظم کو ان کے ساتھ کھڑا رہنے کی یقین دہانی کروائی ہے اور یہ کہ وہ اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد میں حصہ نہیں ڈالیں گے۔ تاہم بعد ازاں قاف لیگ کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ نے بڑے واضح الفاظ میں بتایا کہ چوہدری برادران کے ساتھ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے وزیر اعظم کی کوئی گفتگو ہی نہیں ہوئی اور نہ ہی انہیں کوئی یقین دہانی کروائی گئی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ نے حتمی فیصلہ کرنے کا اختیار چوہدری پرویز الہی کو دیا ہے اور انہوں نے ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں کیا، لہذا اصل خبر یہ بنتی ہے کہ چونکہ عمران خان نے تحریک عدم اعتماد کا معاملہ ہی ڈسکس نہیں کیا لہذا انہیں کوئی یقین دہانی بھی نہیں کروائی گئی۔
حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کو چوھدریوں کے گھر لے جانے کے لیے ان کے ساتھیوں کو بہت پاپڑ بیلنا پڑے جس کے بعد وہ ظہور الہی روڈ جانے کے لیے تیار ہوئے۔ عمران خان کا موقف تھا کہ اگر وہ اس اسٹیج پر چوہدریوں کے گھر جاتے ہیں تو ان کی سیاسی کمزوری کا اظہار ہو گا اور اگر انہوں نے تحریک عدم اعتماد کے لیے قاف لیگ کی حمایت مانگی تو جواب میں ان سے پنجاب کی وزارت اعلی بھی مانگی جا سکتی ہے جو وہ کسی بھی صورت دینے پر آمادہ نہیں۔ چنانچہ وزیراعظم نے چوہدریوں سے صرف 35 منٹ کی ایک رسمی ملاقات کی جس میں دونوں سائڈز کے وفود بھی شامل تھے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ عموما اگر کوئی اہم سیاسی ایجنڈا ڈسکس کرنا ہو تو اس کا طریقہ کار یہ ہوتا ہے کہ سیاسی قیادت علیحدہ سے ایک ملاقات کرتی ہے، لیکن چونکہ وزیراعظم صرف ایک رسمی ملاقات کرنا چاہتے تھے لہٰذا وہ ایک وفد کے ہمراہ گجرات کے چوھدریوں سے ملے۔ ایسے میں اہم ترین سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا تحریک انصاف اور قاف لیگ کی ’’سمجھوتے کی شادی‘‘ برقرار رہے گی یا نہیں۔
وزیر اعظم اور چوہدری برادران کی ملاقات کے بعد چند گھنٹے تو الیکٹرانک میڈیا پر یہی خبریں چلتی رہیں کہ چوہدری برادران نے عمران خان کو تحریک عدم اعتماد کا حصہ نہ بننے کی یقین دہانی کروائی ہے اور ملاقات میں پرویز الہی نے شہباز شریف کے خلاف گفتگو بھی کی۔ حکومتی ذرائع خصوصا وزیر اطلاعات فواد چوہدری کے حوالے سے میڈیا پر چلنے والی خبروں میں کہا گیا کہ چودھری شجاعت اور پرویز الٰہی نے ڈٹ کر عمران خان کا ساتھ دینے کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ بھی بتایا گیا کہ چودھری برادران نے ملاقات کے دوران وزیراعظم کو مکمل یقین دہانی کرائی کہ ہم نے ساڑھے تین سال آپکا ساتھ دیا ہے اور آئندہ بھی دیں گے۔ پرویز الہی کے حوالے سے میڈیا میں یہ بتایا گیا کہ انہوں نے عمران کے سامنے کہا کہ تحریک عدم اعتماد کی باتیں ایک افسانہ ہیں اور ہم آپ کیساتھ ہی سیاست کریں گے۔ چودھری برادران نے یہ بھی کہا کہ 14 سال بعد شہباز شریف کو بالاخر ہماری یاد آ گئی۔ ہم نے ان سے کہا کہ اگر تحریک عدم اعتماد ناکام ہوئی تو عمران خان پہاڑ ہیں، ہم اس کے نیچے دب جائیں گے۔ ہم نے کہا کہ ایسی چال کا آخر کیا فائدہ جس کی کامیابی کا کوئی چانس ہی نہ ہو۔
تاہم یہ خبریں جلنے کے بعد قاف لیگ نے وزیراعظم سے ملاقات کا جو اعلامیہ جاری کیا اس میں ایسی کوئی بات نہیں کی گئی اور اپوزیشن کے لیے دروازے کھلے رکھے گے ہیں۔ پریس ریلیز کے مطابق وزیراعظم نے شجاعت حسین کی خیریت دریافت کی اور جواب میں شجاعت نے ان کا شکریہ ادا کیا۔ اسکے علاعہ وزیراعظم نے چوہدریوں کو اپنے حالیہ دورۂ روس سے آگاہ کیا۔ عمران نے چوہدریوں کو عوام کے لیے حکومتی ریلیف پیکیج اور ایمنسٹی پیکیج کے حوالے سے بھی آگاہ کیا۔ دوسری جانب قاف لیگ کے سیکرٹری جنرل طارق بشیر چیمہ نے ایک ٹی وی پروگرام میں وزیراعظم اور چوہدری برادران کی ملاقات کے حوالے سے کہا کہ ایک حکومتی وزیر میڈیا میں عمران خان کو دی جانے والی یقین دہانیوں کے حوالے سے جو کچھ کہہ رہے ہیں وہ حقائق پر مبنی نہیں۔ انہوں نے اینکر پرسن غریدہ فاروقی کو بتایا کہ وزیراعظم اور چوہدری برادران نے تو عدم اعتماد کی تحریک کو ڈسکس ہی نہیں کیا، اور نہ ہی ہم نے حکومت کی حمایت جاری رکھنے کا کوئی بیان دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پتہ نہیں یہ من گھڑت خبریں کون چلوا رہا ہے۔ طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ وزیراعظم تشریف لائے تھے، ان کی مہربانی ہے، وہ عیادت کی غرض سے تشریف لائے تھے، انہیں خوش آمدید کہا گیا، لیکن میں آپ کو واضح طور پر بتادوں کہ وہاں کیا گفتگو ہوئی، وزیر اعظم نے اِدھراُدھرکی گفتگو کرنے کے بعد اپنے روس کے دورے کے بارے میں بتایا، اور چوہدری برادران کو اعتماد میں لیا کہ یہ ہوا، اور وہ ہوا، لیکن عدم اعتماد کی تحریک پر کوئی بات نہیں ہوئی، وزیر اعظم نے یہ ضرور کہا کہ آج کل سب آپ کے پاس آرہے ہیں، اس پر چودھری صاحب نے کہا کہ یہاں آنا سب کا حق ہے، کیونکہ سیاست دان ایک دوسرے کو ملتے رہتے ہیں، کچھ لوگ دیر سے آئے، کچھ جلدی آئے، لیکن سب کسی مقصد سے آئے۔
طارق بشیر چیمہ نے کہا کہ جب آصف زرداری، مولانا فضل الرحمٰن اور شہباز شریف قاف لیگی قیادت کے پاس تشریف لائے تو چودھری پرویز الہی نے پارلیمانی پارٹی کی میٹنگ بلائی، وہاں سیر حاصل بحث کے بعد چودھری صاحب کو اختیار دیا گیا کہ وہ تحریک عدم اعتماد کے حوالے سے مشاورت کریں، اسکے بعد ان کا جو فیصلہ ہوگا پارٹی اس پر عملدرآمد کرے گی، لیکن ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا، فیصلے کا اختیار چودھری صاحب کو دیا گیا ہے اور جب بھی اور جو بھی فیصلہ ہو گا وہ میڈیا پر آ کر بتایا جائے گا کہ یہ مسلم لیگ قائداعظم کا فیصلہ ہے۔
تاہم حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات میں اگرچہ تحریک عدم اعتماد پر نہ تو وزیر اعظم کی طرف سے کوئی یقین دہانی نہیں مانگی گئی اور نہ چوہدریوں نے کوئی یقین دہانی کروائی، لیکن ق لیگ کی قیادت کی چال ڈھال حکومت کیلئے حوصلہ افزا تھی۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ چند روز پہلے وزیراعظم کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے بھی ملاقات ہوئی جو کہ بہت اچھی لگ رہی۔ ذرائع نے دعویٰ کیا کہ آرمی چیف نے وزیراعظم کو عدم اعتماد کے معاملے میں غیر جانبدار رہنے کی یقین دہانی کروائی اس لیے توقع یہی کی جا رہی ہے کہ دونوں جماعتوں کے مابین سمجھوتے کی یہ شادی قائم رہے گی۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ چوہدریوں کے ساتھ ملاقات میں وزیراعظم نے تحریک عدم اعتماد کی بات جان بوجھ کر نہیں چھیڑی تاکہ کہیں جواب میں چوہدری پنجاب کی وزارت اعلی نہ مانگ لیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ گجرات کے سیانے چوہدری کیا اتنے سادہ ہیں کہ وہ اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلیٰ کی آفر عمران سے بغیر کچھ لئے ہی ٹھکرا دیں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ چوہدری برادران چئیرمین سینٹ صادق سنجرانی سے اپنی حالیہ ملاقات میں انہیں واضح طور پر بتا چکے ہیں کہ ان کے پاس اپوزیشن کی جانب سے وزارت اعلیٰ کی آفر ہے لیکن وہ پھر بھی حکومتی اتحاد کے وزیر اعلی بننے کو ترجیح دیں گے۔ تاہم عمران خان اس معاملے پر سٹینڈ لئے ہوئے ہیں اور وہ کسی بھی صورت عثمان بزدار کو فارغ نہیں کرنا چاہتے۔ ایسے میں چوہدریوں نے بھی اپوزیشن کے لیے دروازے کھلے رکھے ہیں، تاہم مسلم لیگ نون کی قیادت تو ان پر پہلے ہی اعتباد کرنے کے لئے تیار نہیں تھی اور اب مولانا فضل الرحمان اور آصف علی زرداری کا ذہن بھی بدل رہا ہے۔ بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ پاکستان کی طاقتور فوجی اسٹیبلشمنٹ بھی ابھی تک کھل کر کسی فریق کا ساتھ دینے پر آمادہ نظر نہیں آتی جس کی بنیادی وجہ وزیراعظم کے وہ آئینی اختیارات ہیں جنہیں وہ کسی بھی وقت استعمال کر سکتے ہیں۔ ایسے میں اسٹیبلشمنٹ کا تھرمامیٹر سمجھے جانے والے چوہدری برادران بھی اتنے ہی محتاط ہیں جتنی کے اسٹیبلشمنٹ خود ہے۔

Back to top button