اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ صحافی کے قتل کا الزام فوج پر کیوں؟

معروف لکھاری اور کئی مشہور کتابوں کے مصنف محمد حنیف نے کہا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کے پسندیدہ اور قریب ترین صحافی ارشد شریف کا قتل اسٹیبلشمنٹ کے کھاتے میں پڑ جانا حیران کن ہے۔ ارشد کے چاہنے والوں کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ آئی ایس پی آر تو ارشد شریف کا ’دوسرا گھر‘ تھا۔ ایسے میں ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ارشد شریف کے گھر والے دوسرے گھر والوں کے ساتھ مل کر قاتلوں کو ڈھونڈ نکالتے لیکن یہاں تو دوسرے گھر والے اپنی عزت بچاتے پھر رہے ہیں کیونکہ ارشد کے قتل کے جھوٹے سچے الزام نے پورے ادارے کو بدنام کر دیا ہے، حنیف کا کہنا ہے کہ جب بھی پاکستان میں کوئی ایسا خوفناک واقعہ رونما ہوتا ہے جس کے مجرم نہیں ڈھونڈے جاتے ہیں یا ہم ڈھونڈنا نہیں چاہتے تو کوئی نہ کوئی ادارہ اٹھ کر کہہ دیتا ہے کہ یہ سب اسے بدنام کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔

بی بی سی کے لیے اپنی تازہ تحریر میں محمد حنیف اس حوالے سے کراچی کا ایک واقعہ سناتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ کراچی میں الطاف بھائی کا راج تھا اور ان کی جماعت کی بہت دہشت تھی۔ اگر الطاف بھائی کہتے تھے کہ آج اخبار نہیں نکلے گا تو وہ نہیں نکلتا تھا۔ اخباروں کے سیٹھ مالکان بھی اگر ایم کیو ایم کے مرکز پر فریاد لے کر جاتے تھے تو الطاف حسین انھیں ساری رات بٹھا کر آزاد صحافت کا مطلب سمجھاتے تھے اور صبح چائے پلا کر حد میں رہنے کے وعدے لے کر واپس بھیج دیتے تھے۔ اس ماحول میں ہمارے ایک سینیئر صحافی کے گھر کا دروازہ توڑ کر کچھ لونڈے گھس آئے اور ان پر بُری طرح سے تشدد کیا گیا۔ کراچی کے کسی صحافی کو ذرا بھر بھی شک نہیں تھا کہ یہ کام ایم کیو ایم نے کیا ہے۔ ایم کیو ایم کے کارکن بھی کھلے عام بتاتے پھرتے تھے کہ ہمارے فلاں فلاں ساتھی نے فلاں صحافی کے گھر میں گھس کر اس کے ’کُھنے‘ کھول دیئے۔

حنیف کے بقول جب صحافی تنظیموں نے شور مچایا تو الطاف حسین نے آزادی صحافت پر ایک اور لیکچر دینے کے لیے پریس کانفرنس بلا لی۔ ہمارے زخمی صحافی بھی سر پر پٹی باندھے پریس کانفرنس میں پہنچ گئے۔الطاف حسین نے ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ بھائی صاحب آپ کی وجہ سے ہماری بہت رسوائی ہو رہی ہے۔ زخمی صحافی نے اپنے سر پر بندھی پٹی کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ بھائی جان، آپکی تو صرف رسوائی ہوئی ہے، میرا تو سر پھاڑ دئا گیا ہے۔ ھنیف کہتے ہیں کہ ارشد شریف کے قتل کے بعد بھی مقتدر حلقوں کو بدنامی کا اتنا اندیشہ تھا کہ ملک کی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئی ایس آئی کے سربراہ کو براہ راست صحافیوں سے خطاب کرنا پڑا، جس میں دستاویزی ثبوت دے کر بتایا گیا کہ یہ کام ہم نے نہیں کیا ہے۔ بین السطور پیغام یہ تھا کہ اگر ہم چاہتے تو کیا وہ ملک سے جا سکتا تھا۔ مجھے تو یہی سمجھ آئی کہ ہمیں بتایا جا رہا ہے یا ڈرایا جا رہا ہے کہ اگر ہم نے کرنا ہوتا تو ہمارے پاس اور بھی بہت سے طریقے ہیں۔

ہمیں تو یقین ہے کہ ہمارا ادارہ یہ کام کرتا ہی نہیں اور اگر کرتا ہے تو ہمیں اپنے طریقے کیوں بتائے گا۔ ویسے بھی ہمیں خود اپنی جان عزیز ہے، ویسے بھی اگر آئی ایس پی آر ارشد شریف کا دوسرا گھر تھا تو کیا اس گھر کو شامل تفتیش کرنے کی اجازت ملے گی یا اس سے بدنامی ہو گی، اس بدنامی سے بچنے کے لیے مقتدر ادارے نے ایک تیسرے گھر کی طرف اشارہ کر دیا ہے یعنی ارشد شریف کا ادارہ اے آر وائی اور اسکے مالک سلمان اقبال۔

حنیف کہتے ہیں کہ کچھ مہینے پہلے تک سلمان اقبال کا میڈیا کی دنیا میں اتنا دبدبہ تھا کہ ہم تو انھیں کوئی چھوٹا موٹا جنرل ہی سمجھتے تھے اور اے آر وائی چینل کو آئی ایس پی آر کا پہلا گھر۔ اب بدنام آئی ایس پی آر والے ہوں یا سلمان اقبال صاحب، دونوں زندہ سلامت ہیں۔ جان سے کون گیا؟ اس بدنامی میں سویلین حکومت کا بھی حصہ بنتا ہے۔ ارشد شریف کے خلاف درجن بھر سے زیادہ کیس رجسٹرڈ ہوئے۔ اور تھانے تو سویلین حکومت کے ہی ماتحت ہوتے ہیں۔ لہٰذا اگر مرکزی اور صوبائی حکومتوں کی مرضی کے بغیر کوئی ارشد شریف کے خلاف مقدمے درج کروا رہا تھا تو کیا آپ کو صرف بیرون ملک جا کر قرضے مانگنے کے لیے رکھا ہوا ہے۔

لیکن حنیف کے بقول سب سے زیادہ رسوائی ہماری صحافی برادری کی ہوئی ہے۔ بندہ بھی ہمارا مارا گیا ہے اور ہم اس قابل بھی نہیں کہ کھرا اس کے قاتل کے گھروں تک پہنچا سکیں۔ حسب سابق اب کمیٹی پر کمیٹی بیٹھے گی اور ہم اسکی رپورٹیں چھاپیں گے، تجزیے کریں گے، ماتم کریں گے، کالی پٹیاں باندھیں گے، کبھی کبھی چھوٹا موٹا احتجاج بھی کریں گے۔ لیکن ہم میں سے کئی اندر ہی اندر یہ بھی سوچیں گے کہ دیکھیں نا، ارشد بھی تو صحافت چھوڑ کر جہاد پر نکل پڑا تھا۔ لہٰذا اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔ ایسے میں صحافی برادری کی بدنامی تب تک زوروشور سے جاری رہنی چاہئے جب تک ہم لوگ ریاست کو مجبور نہ کریں کہ ہمارا بندہ مارا گیا ہے لہٰذا ہمیں قاتل ڈھونڈ کر دو، چاہے وہ دوسرے گھر میں ہوں یا دسویں گھر میں۔

Back to top button