اسٹیٹ بینک کل مانیٹرپالیسی کا اعلان کرے گا

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کل آئندہ سات ہفتوں کے لیے مانیٹری پالیسی کا اعلان کرے گا۔
معاشی ماہرین نے اس امکان پر اتفاق ظاہر کیا ہے کہ مرکزی بینک ملکی معیشت میں استحکام آنے تک موجودہ 15فیصد شرح سود کوبرقرار رکھے گا، تاہم مارکیٹ کے ایک اہم حصے نے ستمبر میں افراط زر کی شرح میں 23.2 فیصد کی کمی کو مدنظر رکھتے ہوئے 25تا 50 بیسس پوائنٹس کی کٹوتی کے امکان کو مسترد نہیں کیا، جو اگست میں 47 سال کی بلند ترین سطح پر 27.3 فیصد تھی۔
ماہرین کے مطابقنئے وزیر خزانہ اسحاق ڈار جو کنٹرول شدہ معیشت کو چلانے کے اپنے پرانے طرز پر کام کر رہے ہیں، شرح سود کو نرم کرنا چاہیں گے۔
سمیع اللہ طارق جو کہ پاک کویت انوسٹمنٹ کمپنی کے ریسرچ سربراہ ہیں نے کہا کہ ہم شرح سود کسی تبدیلی کی توقع نہیں رکھتے،ستمبر میں افراط زر میں کمی آئی ہے، لیکن یہ اب بھی بلند ہے، افراط زر میں 20 فیصد سے زیادہ کمی اسٹیٹ بینک کو آئندہ تین سے چار ماہ تک شرح سود میں کمی کے لیے ٹھوس بنیاد فراہم کر سکتی ہے۔
